اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سندھ کا صوفی شاہ عنایت …دنیا کاپہلا کمیونسٹ؟

WhatsApp Image 2023 03 30 at 23.33.07

 (تحریروترتیب* آغاخالد)

سندھ میں ٹھٹھہ کا قصبہ جھوک شریف صوفی شاہ عنایت شہید کی وجہ سے تاریخ کے اوراق میں جگہ پاگیا۔ اس وقت کا سندھ مغلوں کے تابع تھا اور سندھ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے دہلی سے وائسرائے قسم کا ناظم مقرر کیا جاتا تھا، مگر بظاہر سندھ کے حکمراں کلہوڑے تھے جو مغلوں کی حکمرانی کے آخری ٹمٹماتے چراغ تلے خاصے منہ زور اور بااختیار ہوچکے تھے۔ ان کلہوڑوں کے دور میں غریب مزارعوں پر مالیانہ (ٹیکس) کا اس قدر بوجھ لاد دیا گیا تھا کہ وہ آمادہ بغاوت تھے اس صورت حال کو محسوس کرتے ہوے صوفی شاہ نے غریب مزارعوں کی مدد کافیصلہ کیا اور دنیا میں پہلا نظام کمیونزم 16 ویں صدی کی آخری دہائی میں متعارف کرایا جس میں زمیں کامالک کوئی نہ تھا کھیتی باڑی اور اس سے حاصل آمدنی کااجتماعی نظام متعارف کرایا گیا عرف عام میں "جو کھیتی بوئے وہی پھل کائے” کا نعرہ اس نظام کے تحت مقبول عام ہوا۔

شاہ عنایت شہید نے ہاریوں میں انقلابی شعور اجاگر کیا ۔وہ صرف درویش صفت ہی نہ تھے بلکہ انہوں نے مریدین کی فکری رہنمائی بھی کی اور مریدین میں دوران تربیت سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعور بیدار کیا۔ انہیں اجتماعی کاشت کاری کی سمت راغب کیا اور سرکار کے اپنے خلاف عزائم کو بھانپتے ہوئے انہیں ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی تربیت بھی دی مگر پھر بھی اولیت ان کے ہاں درس و تدریس کی تھی ان کا کوئی ایک بیان سنتا تھا تو گرویدہ بن جاتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ دن بدن ان کے مریدوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔انہیں سندھ کا مصلحِ اول بھی کہا جاتا ہے۔ وہ مغلیہ دور کے ایک صوفی بزرگ تھے ۔ان کے والدکا نام مخدوم صدو لانگاہ تھا ۔

سندھ کے یہ عظیم سپوت 1655 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ مذہبی تعلیم مشہور صوفی بزرگ شاہ شمس تبریز سے حاصل کرنے کے بعدانہوں نے بغداد، خراسان، قندھار اور پھر ہندوستان کا رخ کیا۔ اس دوران شاہ عنایت شہید نے عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء سے تصوف سمیت دین کے تمام علوم کو پڑھا اور سمجھا۔ بعد میں انہوں نے سندھ کے علاقے جھوک شریف کو اپنا مسکن بنایا ۔شاہ عنایت شہید نے جس وقت جھوک شریف میں تعلیم، تبلیغ اور شعور کی تدریس شروع کی اس وقت سندھ کے سینکڑوں لوگ اپنے روایتی پیروں مرشدوں سے واسطہ توڑ کر حق کی بات کرنے والے اس انسان اور برابری کا درس دینے والے بزرگ کے پاس آنے لگے۔  صوفی شاہ عنایت نے اجتماعی کاشت کاری اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کا عمل شروع کیا تو ان کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا آپ کے مرید اور عزیز و اقارب نیز اطراف کے پیروں کے مرید بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے۔

کہتے ہیں اس دور میں فصل اترنے پر سب کو ضرورت کے مطابق وافرمقدار میں اناج تقسیم کیا جاتا تھا اور باقی بچنے والا مال اجتماعی ملکیت قرار پاتا تھا۔ زمین، زرعی آلات اور مویشی کسی کی نجی ملکیت نہ تھے سب صوفی جماعت کی مشترکہ ملکیت کہلاتے تھے ان کے انقلابی نظریات حکمرانوں کو ناپسند تھے جس کی وجہ سے انہیں ان کے ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔ وہ خود تو دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا فلسفہ حیات آج بھی دنیا میں کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔

ایک اور روایت کے مطابق صوفی شاہ عنایت نے مخدوم صدو لانگاہ کے گھر میں 1653 میں جنم لیا حیدرآباد دکن (بیجاپور) کے مشہور عالم و بزرگ عبدالمالک کے پاس علم حاصل کیا اور تصوف کا طریقہ اختیار کیا جب وہ سندھ میں جھوک واپس لوٹے تو طبقاتی لوٹ مار، جاگیرداروں، پیروں اور میروں کی ناانصافیاں دیکھ کر، اپنے شہر میں ایک ایسے سماج کی داغ بیل ڈالی جس میں انسانیت کے حقوق کو تحفظ ملتا تھا جہاں محنت سے بہائے گئے پسینے کی قدر تھی، جہاں انسان کی عزت نفس کو غرور کے پاؤں تلے روندا نہیں جاتا تھا ۔یہاں ذات پات و مذہب کی کوئی لکیر نہیں تھی۔ یہاں کے لوگ چاہے مرشد ہوں یا مرید، مالک ہوں یا ہاری، سب مل کر زمین میں ہل چلاتے تھے۔ آمدنی و پیداوار میں سب کا برابر کا حصہ تھا۔صوفی شاہ عنایت اس اجتماعی اقتصادی نظام کے رہبر تھے۔ زمین یہ نہیں دیکھتی کہ ہل چلانے والا کون ہے، وہ نہ رنگ دیکھتی ہے اور نہ ذات پوچھتی ہے۔ جس طرح ماں کے لیے سارے بچے ایک جیسے ہیں۔

 

شاہ عنایت پنج گانہ نمازی پرہیزگار اور متقی تھے۔ سندھ کے نامور صحافی و ادیب شیخ عزیز نے شاہ عنایت کو اپنے تحقیقی مضمون میں سندھ کا پہلا سوشلسٹ قرار دیا ہے سندھ کی اس عظیم شخصیت پہ جامع تحقیقی مقالہ لکھنے والے ادیب، شاعر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد علی مانجھی نے اپنی تحقیق میں یہ بھی بتایا ہے کہ شاہ عنایت شہید سندھی زبان سمیت عربی، فارسی، ہندی، گرمکھی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے انہوں نے ہمیشہ اپنے سر کو ٹوپی سے ڈھانپے رکھا۔ نماز، روزہ،ذکر و اذکار کے پابند تھے۔ یہی سبب ہے کہ آج بھی ان کے پیروکار جھوک شریف میں ان کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
شاہ کا فلسفہ تھاکہ زمین کے لیے سارے انسان ایک جیسے ہیں، اور زمین پر سب انسانوں کا مشترکہ حق ہے۔ ان کے اس مقبول عام فلسفہ کی بدولت جھوک کو جنوبی سندھ میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہونے لگی۔ صوفی شاہ عنایت صدیوں پر محیط اس استحصالی نظام کے خلاف تھے ۔چنانچہ انہوں نے استحصال پر صرف جلنے کڑھنے اور اس سے زیادہ کچھ نہ کرنے کے بجائے "جو کيڙي سو کائي” (جو اگائے، وہی کھائے) کا نعرہ بلند کیا، مارکس سے بھی تقریباً 150 سال قبل اور یوں وہ سندھ کی پہلی شخصیت تھے جنہیں آپ جدید الفاظ میں "بابائے سوشلزم” کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے سبق سکھایا کہ مساوات محمدی میں سب انسان ایک جیسے ہیں، جس کی بنیاد پر کھتی باڑی اجتماعی طور پر کی جائے۔

اس دور میں سندھ پر وڈیروں جاگیرداروں اور مغلوں کے مقرر کردہ امیروں کی حکومت قائم تھی ٹھٹہ کا امیر نواب اعظم خان تھا۔ مغلوں کی خوشامد میں رعایا پر اس کا ظلم و ستم نمایاں تھا مگر آج سندھ کی تاریخ میں اسے بدترین الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ عنایت شہید کے فکر و فلسفے کی وجہ سے زمینداروں اور جاگیرداروں کے خلاف بغاوت کی فضا پیدا ہوگئی اور جن ہاریوں کی نسلیں کئی سالوں سے فقط دو وقت کے کھانے کی شرط پر کھیتی باڑی کرتی تھیں، ان میں شعور اجاگر ہوگیا اوروہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت عوام اور حکومت کے درمیان ایک بڑا اختلاف واضح طور پر پایا جاتا تھا کہ حکومت عوام کے حقوق کا کوئی خیال نہیں کرتی تھی۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ حکومت عوام پہ زور زبردستی کرتی تھی جس پر شاہ عنایت شہید نے آواز بلند کی ۔

جب ہاری کو یہ شعورملا کہ وہ کھیتی باڑی کرکے اپنا حصہ اپنے حق کے طور حاصل کرتا ہے اور جاگیردار ہاری کا مالک نہیں ہوتا بلکہ زمین کو زرخیز بنانے والاہی خود مالک ہوتا ہے تب جاگیردار کی غلامی کے خلاف وہ ایک طاقت بن کر سامنے آئے ۔شاہ عنایت شہید کا یہ سبق ان کی درسگاہ کی حدود سے نکل کر سورج کی روشنی کی طرح تیزی سے پورے سندھ میں پھیل گیا اور یہ شعور ایک تحریک بن کر عوامی طاقت کی صورت میں ابھرنے گا۔ شاہ عنایت کی تعلیمی سرپرستی کی وجہ سے ان کے طالب علم بھی عالم فاضل بن رہے تھے لہٰذا علاقے کے زمیندار، وڈیرے اور کلہوڑہ و مغل حکمرانوں کے امیر، وزیر، مشیر اور قاضی اس تحریک کو کچلنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے رہے۔ انہوں نے مذہبی اور عدالتی آڑ کا بھی سہارا لیا مگر جب ہر صورت میں ناکامی ہوئی تب مخالفین نےسازشی انداز اپنایا۔

پیر حسام الدین راشدی مرحوم نے تحریر کیا ہے کہ ’’بلڑی کے پیر اور اطراف کے پلیجو جاگیردار اور کلہوڑا حکمران جو بصورت درویش سندھ میں وارد ہوئے تھے اب بہت بڑے حصے پر قابض ہو چکے تھے اور باقی سندھ پر نگاہیں تھیں۔ وہ صوفی شاہ عنایت کو خطرہ سمجھتے تھے کہ حیدرآباد دکن میں تصوف اور طریقت کی تعلیم حاصل کرکے بزرگوں کی خانقاہ سنبھالنے والے صوفی عنایت نے خدمت خلق کے ساتھ ساتھ طریقت کے اسباق سے بھی ارادت مندوں کو آگاہ کیا۔ دکن کی تعلیم و تدریس میں انھوں نے اورنگ زیب عالمگیر کے حملوں، قتل و غارت گری اور ان کے اثرات کو بھی براہ راست دیکھا۔ اس لیے غلبہ، قوت اور تشددسے نفرت نیز مظلوموں سے محبت ان کے خمیر اور ضمیر کا حصہ بن گئی۔

عزیز کینجھر کے الفاظ میں شاہ عنایت کی جدوجہد اٹھارہویں صدی کا وہ انقلاب تھی جو جاگیرداروں، سجادہ نشینوں اور ان کے حاشیہ نشیں مولویوں کی نیند حرام کرچکی تھی۔ اس انقلاب نے معاشرے میں تحرک پیدا کیا وہ حیرت انگیزاور جادوئی اثر والا تھا نتیجتاً سارے مخالف متحد ہوگئے۔ شاہ کی یہ باتیں اور فلسفہ انسانیت مقامی جاگیرداروں کو بری لگ رہی تھیں صوفی کی اس خانقاہ پر پہلا حملہ تب ہوا جب ٹھٹھہ کا ناظم لطف علی تھا۔ اس حملے میں خانقاہ کے بہت سارے درویش ہلاک ہوئے۔ ان بے گناہوں کے ورثاء نے جب عدالت میں استغاثہ کیا تو حکومت کی جانب سے قاتلوں کی زمینیں مقتولوں کے ورثا کو دلا دی گئیں۔

1716ء میں لطف علی خان کی جگہ نواب اعظم خان ٹھٹھہ کا ناظم مقرر ہوا جس کو تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جاتا۔ وہ شاہ عنایت کے دشمنوں کی باتوں سے متاثر ہو کر ان سے مل گیا اور اس نے صوفی شاہ عنایت کی مخالفت میں خانقاہ سے متصل زمینوں پر جن کے محصول معاف ہو چکے تھے دوبارہ محصول لگا دیا اور جب صوفی کے مریدین نے اس شاہی حکم کو ماننے سے انکار کردیا تو اعظم خان نے اپنی فوج کے علاوہ یار محمد خان کلہوڑو اور دوسرے رئیسوں کے نام احکام جاری کیے کہ وہ بھی اپنی سپاہ مدد کے طور پر اس فوج میں شامل کریں جو شاہ کے حجرے پرحملے کے لیے تیار کی جارہی تھی۔

یہ 12 اکتوبر 1717ء، منگل کا دن تھا جب جھوک کا گھیراؤ شروع ہوا (یوں برصغیر میں پرویز مشرف کے 12 اکتوبر 1999 سے پہلے بھی 12 اکتوبر 1717 کو ایک طاقت کے گھمنڈی نے اللہ والوں پر حملہ کیاتھا) مقامی جاگیرداروں اور حکومت کی ساری طاقتیں ایک طرف یکجا تھیں اور سامنے جھوک شریف کے صوفی فقیر تھے جن کے پاس کلہاڑیاں، بھالے اور خنجر تھے وہ مجاہد رات کو دشمنوں کی فوج پر شب خون مارتے تھے اور کامیاب بھی لوٹتے تھے۔ تین ماہ گذر گئے پر جھوک کے فقیروں کو اتنی بڑی فوج شکست نہ دے سکی۔ تاریخ کے اوراق پر تحریر ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوئی صورت نہ دیکھ کر ایک سازشی حربہ استعمال کیا گیا جس کا مرکزی کردار میر شہداد خان تالپور تھا جو میاں یار محمد کلہوڑو کا انتہائی وفادار تھا ۔وہ اپنے ساتھ قرآن شریف اور امن کے سفید جھںڈے لے کر شاہ عنایت سے ملا اور کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ناظمِ ٹھٹھہ شمالی سندھ کے حکمران اور مغل حکومت یہ جنگ نہیں چاہتی کچھ لوگوں نے حکومت کو غلط رپورٹیں بھیجی تھیں جن کی وجہ سے غلط فہمیوں نے جنم لیا مگر اب یہ غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں اب آپ چل کر آمنے سامنے مذاکرات کریں تاکہ یہ جنگ ختم ہو سکے اور مزید انسانی خون بہنے سے روکا جا سکے۔

یہ ایک ایسی سازش تھی جو سادہ لوح صوفی اور اس کے عظیم مساوات پر مبنی نظام کو کھاگئی۔ صلح کی باتوں میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ درویشوں کی جان و مال کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا یہ سرد جنوری کی پہلی تاریخ تھی اور ہفتے کا دن تھا۔صوفی شاہ عنایت اعظم خان کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ صلح نامہ ایک دھوکہ تھا شاہ عنایت کو گرفتار کرلیا گیا اورجھوٹے الزامات کا سہارا لے کر 8 جنوری 1718 کو ہفتے کا دن تھا جب جاڑے کی ایک سرد شام کے وقت شاہ عنایت کو قتل کردیا گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ شاہ کی گردن تن سے جدا کی گئی تو بھی وہ اس دھوکہ پر احتجاج کرہی تھی۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ تھا جھوک کی خانقاہ پر حملےکا۔اس حملے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 24 ہزار صوفیوں کو قتل کیا گیا ۔

جابر حکمرانوں کے ہاتھوں شاہ عنایت شہید ہوئے۔ ان کی خانقاہ اجاڑدی گئی۔ ان کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی گئی تاکہ سندھ کی جاگیرداری خطرے میں نہ پڑےاور یہ گندہ کھیل ہنوز جاری ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس وقت ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی جنہیں مقامی حکمراں کلہوڑے نے سازش کے تحت صوفی کے خلاف بھڑکایا اور پھر اپنے ایک نمائندے میر شہداد تالپور کو شاہ عنایت کے پاس بھیجا جس نے قرآن پاک کو بیچ میں رکھ کر صلح کا وعدہ کیا لیکن اسی روز انہیں شہید کرکے ان کی جھوک شریف کی خانقاہ ہ پر شب خون مارا گیا اور شاہ عنایت 17 صفر 1130 ھ, 8 جنوری 1718ء کو اپنے 24 ہزار ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔ شاہ عنایت آج بھی سندھ کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے رول ماڈل ہیں، مگر شہداد خان تالپور، اعظم خان اور سازش میں شامل دیگر لوگوں کا کوئی نام و نشان نہیں ۔بعد ازاں شاہ عنایت کی شہادت کے بعد ان کے صوفیوں کے سر کی قیمت ایک ٹکہ رکھی گئی اور جس کسی شخص کو گیروا لباس "اورینج کلر کا جو صوفی پہنتے تھے” دیکھنے میں آتا اس کے سر کاٹ کر انعام وصول کیا جاتا تھا اور بعض سپاہی انعام کی خاطر غریبوں کو جو بیچارے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوتے تھے یا کھیتوں میں کام کرتے نظر آتے تھے انہیں گیروا لباس پہنا کر مار دیتے تھے۔

اس مضمون کی تیاری میں انسائکلو پیڈیا، ملکی اخبارات میں چھپنے والے مختلف مضامین اور آزاد دائرۃ المعارف، صوفی عنایت اللہ شاہ بن مخدوم فضل اللہ بغدادی شہید (متوفّٰی: 1130ھ)[مردہ ربط] انجمن ضیاءِ طیبہ۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جولائی 2017ءشیخ، ابوبکر (2 مئی 2016). "صوفی شاہ عنایت: سندھ کے پہلے سوشلسٹ”. ڈان نیوز
امین اکبر (تبادلۂ خیال • شراکتیں) 16:56، 29 اپریل 2020ء (م ع و)سے مدد لی گئی ہے-


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481