اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاہ بلوط… ہمیشہ سبز رہنے والا ایک پہاڑی درخت

4fc540da d48c 42b0 9061 fc62e86828ff

شاہ بلوط ہمیشہ سبز رہنے والا ایک پہاڑی درخت ہے۔جس کے چھال گہرے بادامی رنگ کی ہوتی ہے۔اس کے پتے لگ بھگ پانچ چھ انچ لمبے دوڈھائی انچ چوڑے دندانےداراورآگے سے نوک دار ہوتے ہیں۔اس کے پھل گول ہوتے ہیں۔جس کو شاہ بلوط کہاجاتا ہے، انگریزی میں ہارس چیسٹ نٹ بھی کہتے ہیں۔اورکچھ کے پھل لمبوترے ہوتے ہیں۔بیرونی چھلکا سخت ہوتاہے۔ جس کے نیچے اس کے مغز سے ملا ہوا ایک نازک پوست ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اس کو جفت بلوط کہاجاتا ہے۔

شاہ بلوط کو ہندی میں سیتاسپاری،سندھی میں شاہ بلوط،انگریزی میں اوک ٹری اور پشتو میں چیڑے کہا جاتا ہے۔شاہ بلوط کے درخت عموماً برفانی علاقوں میں زیادہ پیداہوتے ہیں۔یہ کوہ ہمالیہ میں دریائے سندھ کے کناروں سے لے کر نیپال تک پائے جاتے ہیں۔یونان کو اس حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ترکی، ایران اور چین میں بھی اس کی اچھی خاصی پیدوار ہوتی ہے۔پاکستان میں یہ شمالی علاقوں خصوصاً فاٹا میں پایا جاتا ہے۔یہ پھل اسم با مسمیٰ ہے اور خشک میوہ جات میں اسے پھلوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔

شاہ بلوط کے پھل میں مکمل غذائیت اور متعدد بیماریوں سے بچاؤ کی خصوصیات کی بنا پر 20ویں صدی میں اسے اناج کا درجہ حاصل تھا۔ اس کے پتّے گول چکردار (ترتیب وار) ہوتے ہیں۔ اس کے پھول جھمکوں کی طرح ہوتے ہیں جو موسم بہار میں کِھلتے ہیں۔ اس کے پھل پیالے نما خول میں ہوتے ہیں۔ اس کے ہر پھل میں ایک بیج (کبھی کبھار دو یا تین بھی) نکل آتے ہیں۔ یہ 6سے18 ماہ میں پک جاتا ہے جو اس کی قسم پر منحصر ہے۔

شاہ بلوط کی لکڑی انتہائی پائیدار اور سخت ہوتی ہے۔ اس کی لکڑی خاص طور پر پانی کے جہازوں کی عمارتی بناوٹ اور تعمیرات میں کام آتی ہے۔ نیز گھریلو فرنیچر‘ ریلوے پٹڑی‘ لکڑی کے صندوق‘ اوزاروں کے دستے بنانے میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے بنا فرنیچر برسوں نہیں بلکہ صدیوں چلتا ہے۔

شاہ بلوط خاص طور پر کاربوہائیڈریٹ سے مالا مال ہوتاہے۔ اس میں دیگر گری دار میووں کی نسبت کاربوہائیڈریٹ دوگنا ہوتا ہے۔اس میں شامل چکنائی بھی نہایت عمدہ قسم کی چکنائی ہوتی ہے، اس میں لینولک ایسڈ اور لینولینک ایسڈ جیسے ضروری فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ پوٹاشیم، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم اور مینگنیز،وٹامن اے، بی 9،سی، فولک ایسڈ سمیت دیگر مرکبات ہوتے ہیں۔

شاہ بلوط کا پھل میں پایا جانے والا ایک کیمیکل سرطانی رسولیوں کی نشاندہی میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔اس میں پائے جانے والے کیمیکل "ایسکیولِن” سے روشن اور چمک دار جیل بنا کر اس سے چھوٹی اور معمولی ترین سرطانی رسولیوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بنا پر یہ کیمیکل بہت جلد ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور الٹرا ساؤنڈ کا حصہ بن جائے گا۔ نیویارک سٹی کالج کے ماہرین نے اس پھل پر تحقیق کرکے بتایا ہے کہ شاہ بلوط کے پھل میں موجود کیمیائی مادہ کم روشنی میں بھی کینسر سے متاثر رسولی یا ٹشو کو ظاہر کرسکتا ہے۔ اس طرح کینسر کی شناخت ابتدائی مرحلے میں کرکے ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچاسکتا ہے

۔ ایسکیولِن نامی یہ کیمیکل بہت سی بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال ہورہا ہے۔ اس پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر جین گِرم کہتے ہیں کہ اس کیمیکل پر مبنی جیل بناکر کینسر تصویر سازی (امیجنگ) میں انقلاب لایا جاسکتا ہے جس سے سرطان کی شناخت میں بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔
.

ڈاکٹر جین کا کہنا ہے کہ پودوں سے حاصل شدہ جیل ماحول دوست، بے ضرر اور کم خرچ ہوتاہے۔ عموماً سرطانی رسولیوں کو نیلی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تاہم نیلی روشنی کے مقابلے میں یہ میٹریل ایک جانب تو بہت روشن ہے اور دوسری جانب جب اسے استعمال کیا جائے تو ٹیومر سے منعکس ہونے والی روشنی ایک الگ سمت میں جاتی ہے جس سے سرطان کی شناخت آسان ہوجاتی ہے اور وہ اسکرین پر بہتر طور پر نمودار ہوتا ہے۔

شاہ بلوط کے پھلوں میں ہلکا زہریلا پن بھی ہوتا ہے جو جسم کو متاثر کرسکتا ہے۔ لیکن اس میں نئی دریافت ہونے والی خاصیت نے اسے کینسر کی شناخت کیلیے ایک مضبوط امیدوار بنادیا ہے۔

گلہریاں خاص طور پر ان پھلوں کو گرمیوں میں اپنے بلوں میں جمع کرتی رہتی ہیں تاکہ سردیوں میں بطور خوراک کام لایا جا سکے۔ دوسرے بے شمار پرندے اور جانور بھی اس پھل کو کھاتے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481