اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لاہور ہائیکورٹ نےغداری قانون 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیدیا

lahore high court

لاہور ہائی کورٹ نے جمعرات کو بغاوت کی دفعہ 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیاہے۔

حکومت کے خلاف تقاریرکرنے والوں کےخلاف بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے معاملے پر عدالت عالیہ  نے بغاوت کی دفعہ 124 اے  کو تعزیرات پاکستان کو کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس شاہدکریم نے سلیمان ابو ذر نیازی سمیت دیگرکی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ بغاوت کا قانون انگریز دورکی نشانی ہے، جو 1860میں بنایا گیا اور یہ قانون غلاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا،کسی کےکہنے پر بھی مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے لیکن اب بھی حکمرانوں کےخلاف تقاریرکرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے۔

درخواست گزار سلیمان ابو ذر کا کہنا تھاکہ بغاوت کےقانون کواب بھی سیاسی مقاصد کیلیےاستعمال کیا جا رہا ہے، حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر بغاوت کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائےکےخلاف ہے۔لہٰذا اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481