اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مثبت سوچیں، مثبت طرز فکر عام کریں

Picsart 23 03 22 12 26 56 018

پاکستان اس وقت بہت کٹھن صورت حال سے گزر رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس گھر کو دشمنوں سے زیادہ میر جعفروں نے نقصان پہنچایا ہے۔ اشرافیہ اسے لوٹ کا مال سمجھ کے ہمیشہ بے دریغ لوٹ مار کر کے بیرون ملک اپنی آئندہ نسلوں کے لیے اثاثے بناتی رہی ہے۔ اہل اختیار و اقتدار کا تو مشن ہی یہی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اصلی وطن میں جاکر زندگی کے مزے لوٹنے ہیں۔  جو یہاں موجود ہیں یقینا انھوں نے بھی اپنا انتظام کر رکھا ہے۔
سامراج تو کارپوریٹو کریسی کے ذریعے غیر ترقی یافتہ ممالک کے وسائل کو اپنے قابو میں رکھتا ہے کہ کہیں ان کو استعمال کر کے یہ خوشحالی کے دور میں داخل نہ ہو جائیں۔ یوں اگر یہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرض واپس کرنے کے قابل ہو گئے تو سامراج کی ماں مر جائے گی۔ اس لیے وہ ہر محاذ پر نہایت چالاکی اور عیاری سے مصروف عمل ہے۔ اسی سلسلے میں ایک ہتھکنڈہ یہ ہے کہ وہ اپنے کارندوں کے ذریعے مایوسی پھیلاتے ہیں۔ عام آدمی کو مثبت سوچ اور طرز عمل سے دور رکھتے ہیں۔ عوام کو ان کی طاقت و اہمیت سے آگاہ نہیں ہونے دیتے۔ اور اچھائی کے تمام پہلوؤں کو پس پردہ رکھ کر صرف منفی خبروں اور واقعات کو عام کرتے ہیں۔
پاکستان ہی کو لیجیے۔  ہمارے ہاں اکثر لوگ اچھے اخلاق و کردار کے مالک ہیں۔ ایک دوسرے کا درد رکھتے ہیں۔ مدد کرتے ہیں۔ مشکل وقت میں قربانی دیتے ہیں۔ لیکن ان کا مثبت چہرہ منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک تعلیمی ادارہ ہے جس کی ٹک شاپ پر کوئی شخص موجود نہیں ہوتا۔ بچے چیزوں پر لکھی قیمت خود ہی غلے میں ڈال کر تفریح کے اوقات میں چیزیں خریدتے ہیں۔ اور حساب کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ بچوں نے مجوزہ قیمت سے زیادہ رقم غلے میں ڈالی ہے۔
میں ایک محنت کش کو جانتا ہوں اسے سرکاری آٹے کا ایک تھیلا مفت ملا۔ اس نے وہ تھیلا ایک اور محنت کش کو دے دیا کہ اس کے چار بچے ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں بیس پچیس ہزار روپے ماہانہ میں خدا خبر اس کا گزارہ کیسے ہوتا ہو گا۔
آئیے مثبت طرز فکر عام کریں۔ دنیا کو اپنے ملک کا اچھا چہرہ دکھائیں۔ شعور و آگہی عام کریں۔ جہاں تک بس میں ہو عام لوگوں کی تربیت کریں۔

یہ مشکل وقت بھی ان شاء اللہ گزر جائے گا۔ ہم اگر اتفاق و اتحاد پیدا کر لیں تو ہم اشرافیہ کے چنگل سے اس ملک کو آزاد کروا کر حقیقی آزادی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں خود اعتمادی، منصوبہ بندی، صبر و تحمل اور یقین محکم جیسے اوصاف پیدا کرنے ہوں گے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481