اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”دیسی روزہ “ اپنا بچپن عجیب بچپن تھا

IMG 20221018 WA0165 720x430 1

اب تو خیر بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے ”لنگ“ گیا ہے مگر حافظے کی گٹھڑی میں وہ یادیں اب بھی محفوظ ہیں جیسے کل کی بات ہو ؟
گاؤں کی سادہ زندگی شبِ برات کی آمد
پر ”مشادے بالنا “ اور رمضان کی تیاری شروع ہوجاتی ہم بچہ لوک ” اتاولے “ ہوئے ہوتے کہ رمضان میں جلیبی پکوڑے سموسے نمک پارے فروٹ وافر ملتا، باقی گیارہ مہینے تو وہی ”لاونڑن پٌھلکے“ یوں ہماری ہرروز عید ہوتی ہمارے گاؤں میں چھوٹا سا بازار تھا جِسے” منڈی “ کے نام سے پکارتے تھے یہی دوچار دکانیں۔۔
گوشت بھی باقاعدہ رمضان کو ہمارے دوست کےدادا کرتے تھے ورنہ غیررمضان
فقط حادثے کا شکار جانور ہی زبح ہوتا
گاوں کے زیادہ تر لوگ کراچی میں ہوٹلز بزنس سے وابستہ تھے اور رمضان میں ہوٹل  بند کر کے گاؤں آجاتے ،چونکہ مصروفیت کوی نہیں ہوتی تھی، سو سارا دن یا سونا یاتاش کھیلنا ہی مشغلہ ہوتا
دوچار مخصوص جگہوں پر مختلف ٹولیاں
بیٹھ جاتیں اور تاش کی بازی لگ جاتی
اکثر کھلاڑی بےروزہ ہوتے اور روزہ گزارتے ؟
جب بھوک لگتی تو ہمیں آواز دی جاتی جو
اکثر ان کے قریب اپنے سنگیوں کے ساتھ کوڈی کھیل رہے ہوتے، سو ہم حاضر ہوجاتے اور چاچا ریاض بسنوٹی مرحوم کی دوکان سے سموسے پکوڑے جلیبی وغیرہ لاتے اور اکثر راستےمیں آدھے کی” لم کڈتے آتے “ اور اکثر کھلاڑی ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے اور کہتے تم روزہ کیوں نہیں رکھتے ؟
اور ہم کہتے” میں استاداں کی آخساں جے
بڑے وی روزے کھانے “
بس یہ دھمکی کام کرجاتی اور ہمیں ایک روپیہ دیا جاتا کہ کسی سے کچھ نہیں کہنا جاؤ عیاشی مارو۔۔ اب ایک روپیہ بہت بڑی رقم ہوتی جو ہم سے کھاکھا کر بھی ختم نہ ہوتا کہ سستا دور تھا ابھی” مردِ مچھ “
کازمانہ تھا ،امریکی ڈالر وافر آرہے تھے
یعنی کاروبار ِجہاد عروج پر تھا
شام کو افطاری کے وقت ہمارے چہرے پر
نور کی” چھؔلی چڑی ہوتی “ ہم اپنے والد صاحب کا حقہ تازہ کرتے کچن سے انکی چارپائی تک مال لانا لے جانا ہماری ڈیوٹی ہوتی جس کا ہم الگ سے معاوضہ بھی لیتے
یعنی” ہک پکوڑہ فی پھیرا “

اکثر رمضان میں ہمارے گاؤں میں لڑائی جھگڑے ہوتے، جو بڑے دلچسپ ہوتے، سال بھر ایک دوسرے سے محبت کرتے لوگ نہ جانے کیوں رمضان میں لڑ پڑتے اور ”ڈانگ وڈانگ“ ہوجاتے ہماری ”نکی مسیت“ نمازیوں سے بھرجاتی اور ہم سنگی اذان دینے میں پہل کرنے پر لڑتے نیا نیا لاؤڈسپیکر آیا تھا
سب کو شوق تھا کہ ہماری آواز لوگ سنیں
ہر نماز کے بعد کلمے کا ورد ہوتا اور سارا علاقہ گونجتا ۔اکثر جمعہ پر ہم نعت شریف پڑھتے چاند رات پر وہ غدر ہوتا کہ الامان الحفیظ۔ عید پر ایک روپیہ عیدی ملتی تو
”لگتا کہ جیسے دولت ِکونین مل گئ “
اور ہم” مرنڈوں “ کی ”لم کڈھتے “ یہ وہ وقت تھا جب گاؤں میں بیت الخلاء کا کسی پتہ تک نہیں تھا گھر میں” کھرا “
یا ”چھلچھووی “ ہوتی تھی تمام گاؤں کے مرد حضرات قدرتی چشموں پر غسل فرماتے یا ندی نالوں کا رخ کرتے، شرم و حیا اتنا کہ ہم چودہ پندرہ سال کی عمر تک بے پیرہن” پورما نی ٹہن “ روی والے سند “
میں سنگی نہاتے تھے۔ آج انفارمیشن کے سیلاب نے بچوں کو وقت سے پہلے جوان کردیا ہے
"روزہ لگ جانا اور روزہ چڑھ جانا” کی اصطلاح بھی گاؤں میں ہی ایجاد ہوئی
ہمارے ایک” مِتر “ جو شدید نسوارچی واقع ہوۓ تھے اکثر روزےکے دوران بھی نسوار ڈالے رکھتے جو بہ وقت گفتگو نظر بھی آتی کوئی پوچھے کہ روزے میں نسوار ؟
تو کہتے ”سرگی رکھی فیر یاد نہئ رہی “
حالانکہ وہ روزہ نہیں رکھتے تھے
نگری کی منڈی ہمارے علاقے کے بہت سے دیہات کا مرکز تھی ،چنالی ماڑی بینانی میرا حسنال تروڑ بسویڑ بٹنگی جیسے بڑے گاؤں کا یہی مرکز تھا۔ لوگ ”بہتروں “ {کھوتوں }
پر اشیاے ضروریہ لاد کر لے جاتے آج وہ سارے گاؤں خود ایک منڈی کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں پکے روڈ جاتے ہیں
اور نگری منڈی چالیس سال پرانا منظر پیش کر رہی ہے
نظم

اپنا بچپن عجیب بچپن تھا
نہ کوئی فکر تھی، نہ کچھ غم تھا
زندگی سادگی سے کٹتی تھی
اور محبت دلوں میں بٹتی تھی
رتڑوں کا شکار کرتے تھے
ایک دوجے سے پیار ہوتا تھے
گو کہ غربت کےگھر میں ڈیرے تھے
ہاں مگر دن بڑے سنہرے تھے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481