اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عالمی گاؤں کو تباہی سے بچانے کے لیے متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے

1669864574005

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ
(الروم – 41)

بدقسمتی سے آج کے بہ زعم خود ترقی یافتہ اور مہذب انسان نے تباہی کے منصوبوں کو سائنسی ترقی کا نام دے رکھا ہے۔ سامراج نے بدلے ہوئے حالات میں جبر و استحصال کے نئے اور ترقی یافتہ طریقے وضع کر لیے ہیں۔ انقلاب کے حق میں نعرے لگانے والوں کی اکثریت "ڈرائنگ روم کے مجاہد” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ سچ بولنا ہی نہیں سچ سننا بھی کار دشوار ہے اس لیے منافقت اور مصلحت پسندی کا چلن عام ہے اور حق گوئی قصہ پارینہ ہو کر رہ گئی ہے۔

سامراج نے جنگ اور تباہی و بربادی کو ایک صنعت (انڈسٹری) بنا دیا ہے۔ یہ صرف انڈسٹری نہیں۔۔۔۔ دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آج دنیا کی سب سے بڑی صنعت جنگ کی صنعت ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس صنعت کے سب سے بڑے خریدار وہ ملک ہیں جن کے عوام زندگی کی بنیادی سہولیات تک سے محروم ہیں۔ ان میں ہمارا پیارا ملک پاکستان بھی شامل ہے۔ ہمارے پاس روٹی نہیں ہے لیکن ایٹم بم موجود ہے، جس کی حفاظت کے لیے ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم ہر معاملے میں ہندوستان کے ساتھ مقابلہ و موازنہ کرتے ہیں لیکن جاگیرداری (اشرافیہ کلچر) کے خاتمے کے معاملے میں ہمیں کبھی یہ خیال نہیں آیا۔ اور آ بھی کیسے سکتا ہے کہ یہاں حکمرانی ہی اشرافیہ کی ہے۔ ہندوستان میں فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے اور کار سیاست کے حوالے سے اظہار خیال کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن ہمارے ہاں فوج ہی سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ لیکن کون مائی کا لعل ہے جو اس حوالے سے زبان کھول سکے۔۔۔۔ قانون سازی تو خیر خیال است و محال است و جنوں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سارے ترقی یافتہ و ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک متحد ہو کر صنعت حرب کی ریشہ دوانیوں کے سامنے بند باندھیں۔ امن عالم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی صنعت حرب ہے۔ اس کی موجودگی میں انسانیت کے وجود کو ہر لحظہ شدید خطرات لاحق رہیں گے۔

امریکہ، روس اور چین اگر واقعی امن عالم چاہتے ہیں تو مل کر دنیا سے غربت اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔ تمام ترقی یافتہ ممالک کا فرض ہے کہ وہ ماحول کو تباہ کرنے اور فطرت سے جنگ مول لینے کے بجائے ماحول دوست اقدامات کے لیے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیں۔

کئی ممالک ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ہر جگہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سارے ممالک اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے کرہ ارضی کے مرہون منت ہیں۔ لیکن ہماری حماقت و بدنصیبی یہ ہے کہ ہم اس کرہ ارضی کی تباہی و بربادی کے سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ شعور عام کرنا پڑے گا کہ یہ کرہ ارضی ہم سب کا گھر ہے۔ یہ مادر ارضی ہے۔ اس کی تباہی ہم سب کی تباہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کرہ ارضی کے باشعور شہری مثبت سائنسی ترقی کے لیے باہم متحد ہو جائیں۔ طاقت ور ملکوں کو کمزور ملکوں کے وسائل ہڑپ کرنے سے باز رکھنے کے لیے عالمی گاؤں کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے۔ ترقی کی دوڑ میں کمزوروں کی گردن پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھنے کے بجائے انھیں اس دوڑ میں شامل ہونے کا موقع دیں۔ ان کی صلاحیتوں کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال میں لائیں۔ ان کی ترقی و خوشحالی سے عالمی گاؤں کا مجموعی ماحول بہتر ہو گا۔

اگر آج کا انسان واقعی تعلیم یافتہ، باشعور اور تہذیب یافتہ ہے (جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے) تو اسے بلا امتیاز و تفاوت متحد ہو کر حیاتیاتی اور ماحولیاتی بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

آئیے ہم سب مل کر رنگ و نسل اور ملک و مذہب کی تفریق کے بغیر عالمی گاؤں کے ایک باسی کے طور پر اس تحریک کا حصہ بنیں کہ ہم نے کرہ ارضی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے عملی جدوجہد کرنی ہے۔ انسان دوستی کو اپنا شعار بنانا ہے۔ ہمیں تصنع، کھوکھلی علمیت اور ظلم و ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہے کہ جسم کو بچانے سے کہیں ضروری کام روح کو بچانا ہے۔

images 10images 8images 9


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481