والدین امیر ہوں یا غریب، شہر سے تعلق رکھتے ہوں یا دیہات سے، بہت تعلیم یافتہ ہوں یا کم تعلیم یافتہ سب کو اپنے بچے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش مند والدین ہی ہوتے ہیں۔ لیکن گھمبیر سوال یہ ہے کہ کیا سارے والدین یہ اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کی صلاحیتوں کا صحیح جائزہ لے کر اس کے لیے اس کے رجحان اور پسند کے عین مطابق شعبے کا انتخاب کر سکیں۔ یقینا والدین پڑھے لکھے ہوں بھی تو وہ ماہرین تعلیم یا ماہرین نفسیات بہرحال نہیں ہوتے۔ لہذا ضروری ہے کہ تمام والدین کیریئر کونسلنگ کا ضرور اہتمام کریں نیز کچھ بنیادی اصولوں کا ہمیشہ خیال رکھیں تاکہ بچے کی شخصیت کو پر اعتماد بنانے کی راہ ہموار ہو۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بچے کی شخصیت سازی میں گھر کا ماحول بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سکول، اساتذہ، معاشرے اور نصاب تعلیم کے کردار سے بہت پہلے بچے کو پر اعتماد بنانے کے لیے والدین کی ذمہ داریوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ والدین اس بات کا خیال رکھیں کہ جیسی کردار سازی وہ بچے کی کرنا چاہتے ہیں اس کا عملی نمونہ اپنے گھر کے ماحول کی صورت میں پیش کریں۔
بچے کے سامنے تعلیم کی واضح مقصدیت ہو۔ صرف اچھے نمبر یا گریڈ تعلیم کا مقصد نہیں۔ بچہ جب سکول سے آئے تو اسے یہ پوچھنے کے بجائے کہ آج نمبر سب سے زیادہ آئے کہ نہیں یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آج کوئی جھوٹ تو نہیں بولا؟ کیا آج کسی کی مدد کی؟ آج کیا کیا اچھی باتیں سیکھیں؟ آج اساتذہ کی حکم عدولی تو نہیں کی؟
اکثر والدین سب سے زیادہ نمبر نہ لینے پر بچے کو طعنے دیتے ہیں۔ اس کا موازنہ اس کے کسی بھائی یا رشتہ دار سے کر کے اسے اس کی طرح کا بننے کی ترغیب دیتے ہیں. حال آنکہ ہر بچہ منفرد صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے. اس کی کامیابی کا راز اس کی صلاحیتوں کے کھوج اور ان کے فروغ میں ہے۔
بچے کو وہ بنانے کی کوشش کریں جو وہ ہے۔ جو اس کا رجحان ہے۔ اسے اس کی قابلیت کے شعبے میں جانے دیں تاکہ وہ خوشی اور جذبے کے ساتھ تعلیمی منازل طے کرے اور اس کی انفرادیت بھی برقرار رہے۔ بچے پر یہ دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کامیاب پروفیشنل (ڈاکٹر، انجنئیر، ماہر معاشیات، کاروباری) بننا ہے بلکہ اس کو سمجھائیں، اس کی رہنمائی کریں اور اس کے ساتھ تعاون کریں کہ اسے متاثر نہیں "موثر” بننا ہے۔ اسے بھیڑ میں گم نہیں ہونا ہے بلکہ اسے منفرد بننا ہے۔
بچوں کو احساس دلائیں کہ وہ بہت اہم ہیں۔ چھوٹے موٹے فیصلے کرتے ہوئے ان سے مشورہ کریں۔ ان کے کپڑے ان کی پسند پوچھ کر خریدیں۔ ان سے مکالمہ کریں۔ گھر کے بچوں کے مابین تلاوت، تقریر اور ذہنی آزمائش کے مقابلوں کا اہتمام کریں۔ اس طرح ان کی جھجک دور ہو گی اور وہ اپنا مافی الضمیر اچھے طریقے سے بیان کرنے کا ہنر سیکھ لیں گے۔
بچوں کی حوصلہ افزائی بے انتہا اہم ہے. بچوں کی کارکردگی کو خوب سراہیں۔ انھیں انعام سے بھی نوازا کریں۔ اس طرح کی سر گرمیوں سے بچوں کے اعتماد میں بہت اضافہ ہوتا ہے۔ نمبر کم آنے کی صورت میں اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ آپ نے محنت کی لیکن کچھ چیزوں پر توجہ نہیں دے سکے۔ اگلے امتحان میں آپ ان کمزوریوں کو دور کر کے اس کمی کو دور کر دیں گے۔
بچے کھیل کود کے رسیا ہوتے ہیں۔ وہ سیر گاہوں میں جانا پسند کرتے ہیں۔ انھیں مہینے میں ایک آدھ بار باہر لے کر جائیں۔ کسی ریستوران یا شاپنگ مال میں بھی لے جائیں۔ اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان سے کہیں کہ ساری معلومات کا اندراج وہ کریں۔ مجھے یاد ہے کہ میری بیٹی کو اے ٹی ایم کے استعمال کا بہت شوق ہوتا تھا۔ اس لیے ہم باہر جاتے تھے تو کیش کی ضرورت نہ بھی ہو تو کچھ رقم اس کو خوش کرنے کے لیے نکلوا لیتے تھے۔
بچوں کو مہمانوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ضرور مہیا کریں۔ انھیں ان سے مکالمے کا موقع دیں۔ ان کو ان کی عمر کے مطابق رہنے دیں۔ انھیں وقت سے پہلے بڑا ہونے پر مجبور مت کریں۔ انھیں دوست بنائیں۔ ان سے ان کے مسائل پوچھیں اور انھیں حل کریں۔ اگر وہ غلطی کریں تو انھیں بٹھا کر سمجھائیں۔ ان پر بھروسہ کریں۔ یقین کریں اگر آپ ان کو رزق حلال کھلائیں گے تو وہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے
