اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایبٹ آباد کا گوبند گرلزہائی سکول تاریخ کے آئینے میں

WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.39 1

ایبٹ آباد کے تاریخی شہر کے وسط میں بندکھوہ  لنک روڈ پر موجودہ دفتر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس فی میل اور گورنمنٹ سینٹینل گرلز ہائی سکول کے احاطہ میں ایک تاریخی چنار کا درخت 85 سالوں سے اپنی بہار دکھا رہا ھے اور اس کے سائے میں اپنے وقت کے نامی گرامی اور عام شہریوں نے استفادہ کیا۔ موجودہ پاکستان میں جہاں شجر لگانے سے زیادہ کاٹنے کا رواج بن چکا ایبٹ آباد بھی چناروں کی جگہ سیمنٹ کی عمارات کا جنگل بنگیا ہے۔یہ درخت برصغیر پاک و ہند کے معروف کانگریسی لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو نے لگایا تھا جب وہ ایک دورہ کے موقع پر سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان (باچا خان)۔راجندر ناتھ ۔مہاتما گاندھی کے ہمراہ ایبٹ آباد  آئے اور یہاں  کے معروف کاروباری سکھ خاندان کے رائے بہادر روچا رام رائے کے مہمان بنے جن کا گھر اور اس سے ملحقہ ان کا عطیہ کردہ سکول (جو ان کے آنجہانی گوبند سنگھ کے نام پرتھا )  ایبٹ آباد کا پہلا گوبند گرلز ہائی سکول تھا، وہاں 21 جنوری 1938 کو چنار کا پودا لگایا گیا۔

WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.39

روچا رام رائے فیملی جو سکھوں کے دور حکومت میں ڈیرہ خالصہ مانکیالہ موجودہ گوجر خان راولپنڈی سے ہری پور میں آباد ہوئے جہاں انکا پانچ بیٹوں میں سے ایک گوبند سنگھ فوت ہو گیا جس کے نام پر ہری پور میں بھی سکول قائم کیاگیا  اور1898 میں چار بیٹوں کے ساتھ ایبٹ آباد جو اس وقت انگریزوں کی چھاونی تھی یہاں شہر کے وسط میں کریم پورہ میں گھر بنا کر ساتھ 1901 میں گوبند گرلز ہائی سکول قائم کیا ۔روچا رام رائے فیملی کے دوسرے بیٹے قانون دان اور سرکاری ٹھیکدار بنے جو انگریز فوج کو مال سپلائی کرتے تھے۔اس خاندان کا ایبٹ آباد میں اپنے وقت کا مشہور ہوٹل وڈ لاک اور گلیات میں مکش پوری ہوٹل کے علاوہ نتھیاگلی اور ایبٹ آباد میں گھر اور کاروبار جائیدادیں تھیں .

برطانیہ میں مقیم فہد جمشید عباسی کی تحقیق کے مطابق ایبٹ آباد کے رائے بہادر روچا رام جن کی ایبٹ آباد اور گلیات میں بہت ساری قیمتی جائیدادیں اور گھر تھے، ان کا ایک پوتا اندر سنگھ جی تھا جو ایک مسلمان بیوروکریٹ کی پوتی سے شادی کا خواہشمند تھا ۔اس نے اسلام قبول کرکے اپنا نام شیخ اقبال رکھا اور اس خاتون سے شادی کی اور ایبٹ آباد کے ایک بنگلے میں رہائش پذیر رہے۔ اس جوڑے کی کوئی اولاد نہیں تھی یہ گھر بھی شہزادہ مسجد کے قریب ایبٹ آباد شہر میں موجود ھے ۔ ۔ ایبٹ آباد کے کریم پورہ بندکھو کے اس رائے خاندان کے اس گھر میں یہ ساری لیڈر شپ دو دن تک قیام پذیر رہی جو آج بھی محفوظ ہے۔ باقی گھر اور سکول 2005 کے زلزلے کی زد میں آ کرخراب ہوگیا تھا، اس کی جگہ نئی عمارت بن گئ ہے جہاں آج کل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول وپرائمری سکول کی 1500 سو سے زائد بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.42 WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.43

زلزلہ 2005 میں محمود اسلم نے ایبٹ آباد کی کچھ عمارات اور درختوں کو بذریعہ عدالت بچایا تھا جو نیلامی اور ازسر نو تعمیر کے نام پر کوڑیوں کے بہاؤ ٹھیکداروں کو دیئے گئے تھے ۔رائے خاندان کے پرانے گھر کے ساتھ ساتھ ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس فی میل کے دفاتر بھی ہیں ۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پلاننگ آفیسر وسیم فضل نے بتایا کہ اس تاریخی ورثہ کو اور درخت کو محفوظ بنانے کے لیے اور رائے فیملی کے اس رہائشی حصہ اور ان کمروں جہاں ان تاریخی شخصیات نے قیام کیا تھا محفوظ کیا گیا ۔کچھ عرصہ تک ڈی ای او فی میل کا دفتر رہا اب بند ہے ۔وسیم فضل نے بتایا کہ ازسر نو تعمیر کے دوران قدیم تاریخ کو بچانے کی ہرممکن کوشش کی گئی جس کی مثال یہ چنار کا درخت اور کمرے ہیں ۔وسیم فضل جو تاریخ اور تاریخی ورثہ اور اپنے شہر ایبٹ آباد سے محبت کرنے والی شخصیت ہیں نے بتایا کہ پرانا شہر ایبٹ آباد خوبصورت تاریخی عمارات اور خوبصورت چنار کے درختوں کی بدولت اپنی مثال آپ تھا ایبٹ آباد کے تمام تاریخی ورثہ کو بچانے کے لیے آثار قدیمہ ودیگر محکمہ جات اب بھی کردار ادا کرکے مزید بہتری لا سکتے ہیں ۔

WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.44 1 WhatsApp Image 2023 03 10 at 15.59.45

اس حوالے سے پریس کلب ایبٹ آباد کے جوائنٹ سکریٹری ہارون تنولی کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے جن شخصیات نے شجر کاری کی یا عوامی فلاح و بہبود کے کام کئے ان کو آج بھی یاد رکھا جارہا ہے ۔حکومت وقت اور اس کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی ورثے کو بہتر حالت میں محفوظ کریں ۔اس دفتر کے باہر سکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے سکیورٹی گارڈ شاہ جی کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جو اس دفتر میں آتے ہیں وہ اس درخت کے سائے میں بیٹھ کر آرام بھی کرتے ہیں کیونکہ درخت کا سایہ سب لئے یکساں ھے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کے شہر میں نواں شہر رجوعیہ بکوٹ میں پرانی عمارات تھانہ بکوٹ کی تاریخی عمارت کوہالہ انگریز دور کا ڈاک بنگلہ جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سمیت متحدہ ہندوستان کی تمام شخصیات کا قیام رہا ،اس  تمام ورثے کو محفوظ بنا کر تاریخی ورثہ قرار دیا جائے ۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481