اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کشمیری قبیلے” میر یا میرزا ” کا مُختصر تعارف

28fcb8c6 eb22 41ac 9914 693b2547e45c

کشمیری قبیلے” میر یا میرزا ” کا مُختصر تعارف۔
مرتّب :- امجد بٹ ۔ مری

 

مشرقِ وسطیٰ خصوصاً فلسطین و یروشلم سے یہود النسل مسلمانوں نے دیگر ممالک کی طرح سیاحت ، تجارت اور تبلیغ کی غرض سے ایران و افغانستان کا رُخ کیا تو اُن میں سے کُچھ عظیم روحانی ہستیاں برّصغیر پاک و ہند میں بھی داخل ہُوئیں۔
سرزمینِ کشمیر میں داخل ہونے والی سب سے پہلی مسلمان بزرگ ہستی کا نام سیّد شرف الدین عُرف بُلبُل شاہ یا شاہ بلاول تھا۔ موصوف نے یہاں آنے والے باغی تبتی شہزادے” رنچن شاہ "جسے ذاتی خُوبیوں کے باعث عوام نے والئیِ کشمیر بنایا تھا، کو حلقۂِ بگوشِ اسلام کیا. بُلبُل شاہ کا یہی سلسلۂِ تبلیغ چھ صدیاں قبل میر علی بُخاری بڈ شاہی سے آ ملتا ہے۔
امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا ، جلد 15، مطبوعہ 1908ء کے مطابق فاضل جج لکھتے ہیں

” مُغلوں کی زیادہ اقسام نہیں ہیں ان کی گوتوں (خاندانوں) کے نام "میر” وغیرہ ہیں جو "میرزا” کی بگڑی ہُوئی صورت ہے”

27 جنوری 1932ء کو سیالکوٹ کے ایک عدالتی فیصلےمیں ( مُدعی نظام الدین میر کے استقرارِ حقِ زراعت پیشہ کے جواب میں) لکھا ہے کہ:-
"اب ہمیں دیکھنا ہے کہ لفظ "میر” سے کیا مُراد لی جاتی ہے۔ اگر "میر” کسی نام کے شروع میں لگا دیا جائے تو یہ محض ایک معزّز خطاب ہے. ہاں اگر یہ لفظ کسی نام کے بعد میں آ جائے تو اِس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ "میرزا ” کا مخفّف ہے جو مغل کا معزّز خطاب ہے۔

رپورٹ مردم شمارئِ ہند 1911ء میں صفحہ 126 پر مغلوں کی چھ گوتیں ( برلاس، میر چوغطہ اور بیگ وغیرہ) ہیں اور جلد اوّل کے صفحہ 205 کے حاشیہ میں مغلوں کی سات گوتیں بتائی گئی ہیں جن میں پھر میر کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ میر یعنی مُغل زراعت پیشہ ہیں۔ اسی کتاب میں سیّد میروں سے جو پروہت (ذاکر) جماعت سے ہیں انہیں علیحدہ بتا کر لکھا گیا ہے کہ "زراعت پیشہ میر” کی حالت میں لفظ "میر” نام کے بعد لگایا جاتا ہے اور سیّد میر کی صورت میں نام سے پہلے آتا ہے۔ ایسے مُستند حوالہ جات کی موجودگی میں بِلا شُبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ "میر کشمیری” مُغل زراعت پیشہ ہیں۔ پنجاب میں جو ذاتیں "میر” کہلاتی ہیں وہ فقط سیّد یا میراثی ہیں لیکن کشمیر میں مُغلوں کے سِوا اور کوئی میر نہیں کہلاتا…….

اگرچہ کشمیری ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جو کشمیر کی سرزمین پر بسنے والوں کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن کشمیری النسل افراد ہجرت کر کے دُنیا میں جہاں بھی گئے اسلامی ، محنتی، اور ذہانت والی جبِلّت کے باعث زندگی کے ہر میدان میں اپنی حیثیت کو منوایا۔ لیکن تعلیمی ، ادبی، تجارتی ، فلاحی اور انتظامی عہدوں پر دیگر کشمیری گوتوں کی نسبت "میر” قبیلے کو اکثر برتری حاصل رہی ہے ۔ نمونے کے طور پر چند نامور افراد کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1:- "انجمنِ حمایتِ اسلام” کے بانی میر شمس الدین ، عابد میر بڈ شاہی نسل سے تھے۔ کشمیری کانفرنسوں کے انعقاد اور انجمن کی بے لوث خدمات پر ادارے نے ان کی وفات پر "میر شمس الدّین نمبر” بھی شائع کیا۔ ان کے صاحبزادے میر رحمت اللّٰہ ہمایوں افغانی بادشاہ امان اللّٰہ خان کے مُشیرِ خاص رہے۔

2:- امرتسر کے اعزازی مجسٹریٹ ، ادیب اور اٹھارہویں صدی کے معروف عالمگیر تاجر میر اسداللّٰہ رئیس تھے۔

3:- اعزازی مجسٹریٹ میر غلام محمود مرحوم کے تینوں فرزندان بھی کمشنر، مجسٹریٹ اور جج رہے۔

4:- بیرسٹر میر مقبول محمود 1934ء میں پولیٹیکل منسٹر تھے اور ان کے بیٹے ڈاکٹر میر ہدایت اللّٰہ سرجن اور میڈیکل کالج امرتسر کے پرنسپل تھے اور پوتے سرجن، جج اور ریلوے ڈی ایم او رہے۔

5:- مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے سے قبل اور بعد میر عبدالقادر کی اعلیٰ تجارت و سخاوت کا مہاراجہ نے بھی مفرّس اعتراف کیا ہے۔

6:- قریباً دو سو سال قبل کمال میر کی نسل میں سے معروف شاعر علامہ سُلطان میر ضلع ایبٹ آباد کے جیّد عالم تھے۔ ایبٹ آباد کے اِس رئیس راہنما کی وجاہت و عِلمیّت کا پورا ہندوستان معترف تھا۔ موسمِ گرما میں جسٹس شاہ دین ان کی مصاحبت اختیار کرتے۔

7:- معروف مصنّف، وجدانی شاعر اور دیوانِ حافظ کے شارح میر ولی اللّٰہ ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔

8:- میر محمّد خان، سِکھّوں کے دورِ حکومت 1888ء میں بلوچ پلٹنوں میں سپاہی سے ترقّی کر کے لیفٹیننٹ صوبیدار میجر بنے۔ اپنی پلٹون میں کشمیریوں کی اکثریت کو بھرتی کیا اور دلائل کی بُنیاد پر نمبرداری بھی حاصل کی۔

9:- میر کریم بخش نے 12 مئی 1934ء میں صوبہ سرحد کے ڈائریکٹر محکمۂِ تعلیم کا ایک انگریز سے چارج لیا۔ اُس دور کے اخبارات کے توصیفی کالم آپ کے ماہرِ تعلیم ہونے کے گواہ ہیں۔

10:- میر عزیز الدین کوئٹہ میں اے سی اور ریاست لسبیلہ کے وزیرِاعظم رہے۔

11:- سِکھوں کے دور میں میر عبدالعزیز انسپکٹری کے امتحان میں پنجاب بھر میں اوّل رہے اور پھر بتدریج سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ جات ہُوئے۔

12:- میر شکیل الرحمن مرحوم مالک روزنامہ جنگ و جیو گروپ ، معروف صحافی حامد میر، معروف شاعر میر تقی میر و میر درد کی طرح پاکستان کے عسکری، سماجی و انتظامی عہدوں پر میر قبیلے کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

ماخوذ :-
1:- "راج ترنگنی”
از ۔ پنڈت راجہ کلہن۔
2:- ” تاریخِ کشمیر”
از ۔ سیّد مُحمّد حُسین آزاد
3:- "تواریخِ کشمیر”
از ۔ مُحمّد دِین فوق۔
4:- تاریخِ گُلشنِ کشمیر
از ۔ مولوی مُفتی مُحمد سعادت(سری نگر)
5:- ویلی آف کشمیر۔
از ۔ والٹر ایل لارنس۔
6:- امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا

نوٹ :- آپ کشمیر کے کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں اگر آپ اپنے قبیلے کا مُختصر تعارف جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھیں۔

10 مارچ ۔ 2023ء


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481