اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک کمزورسی ہتھیلی کی گرفت جس نےطاقتورمرد کو بدل ڈالا

WhatsApp Image 2023 03 10 at 17.08.51

273016291 1638768679798087 706253624988024396 n

محمود صاحب اکثر میرے ساتھ لمبے سفر پر جاتے تھے۔
ہم اسلام آباد سے آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں تک ساتھ جاتے تھے۔ تب میں ایک ادارے کی طرف سے ٹریننگز کررہا تھا اور آئے دن آزاد کشمیر جاتا تھا۔ محمود صاحب کو ادارے کی طرف سے میرا ڈرائیور بنا کر بھیجا گیا تھا اور اسی وجہ سے ہم کئی کئی دن ساتھ رہتے تھے۔
چالیس پنتالیس سال کی عمر والے محمود صاحب نہایت عمدہ ڈرائیور تو تھے ہی، ساتھ ہی نہایت خوش باش اور زندہ دل آدمی بھی تھے۔ چین اسموکر تھے۔ ڈیش بورڈ پر ہی سگریٹ کی ڈبیا دھری رہتی تھی۔ مگر صرف سگریٹ ہی نہیں ساتھ میں دیگر شغل بھی فرماتے تھے اور ہمیں کھل کر بتاتے تھے۔ البتہ جس دن میرے ساتھ جانا ہوتا تھا، اس دن ایسا کوئی شغل نہیں کرتے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو جھینپ کر کہنے لگے کہ پتا نہیں آپ کے سامنے اچھا نہیں لگتا۔
پہلے مجھے شک تھا کہ شاید گپ مارتے ہیں ورنہ ایک ڈرائیور کی کہاں یہ استطاعت کہ اتنی مہنگی شراب اور دیگرنشے کرسکے۔ مگر پھر کسی نے تصدیق کی کہ ایسا ہی ہے۔ انہیں ورثے میں زمینیں اور مکان ملے تھے۔ اکلوتی اولاد تھے اس لیے مالی آسودگی بھی تھی۔
میں نے ایک بار پوچھا کہ محمود صاحب، یار یہ خواری والا کام کیوں کررہے ہیں؟۔ دن رات پہاڑوں، ندیوں، وادیوں میں چکراتے پھرنا۔ گاڑی کی حفاظت کرنا ۔ اگر پیسا ہے تو آرام سے گھر کیوں نہیں بیٹھتے؟۔ میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا اوربولے۔
‘آفتاب صاحب، اصل میں گھر بیٹھا نہیں جاتا۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ گھر میں بس بیوی ہے اور وہ سیدھی سادی دیہاتی عورت ہے۔ اس سے کتنی باتیں کروں۔ یہ کام تو آپ جیسے لوگوں کے ساتھ ٹائم گزارنے اور شغل میلہ لگانے کے لیے کرتا ہوں۔ ورنہ مجھے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جتنے پیسے ملتے ہیں، اس میں تو گاڑی کا خرچا ہی پوری ہوتا ہے’۔
ایسی ہی باتوں کے درمیان، ان کی نئی ٹویوٹا کورولا میں ہمارا سفر خوب مزے سے گزرتا تھا۔ گھنٹوں کی مسافت میں وہ اپنی کہانیاں سناتے رہتے تھے اور ہم دل کھول کر ان کی جواں مردی، عیاشی اور فضول خرچیوں کی برسوں پرانی کہانیوں پر ہنستے رہتے تھے۔ بقول محمود صاحب، انہوں نے بھرپور جوانی گزاری ہے اور ہر خطے کی غذا، ہر قسم کا نشہ، ہر علاقے کی عورت اور ہر قانون کو توڑنے کا مزا چکھ رکھا تھا۔
پاکستان کے معروف سیاست داں ملک محمد عطا کے عاشق تھے ۔ اس لیے اٹک کے علاقے کی ہر گھڑ دوڑ اور بیلوں کی دوڑ میں جوا لگاتے تھے۔گھوڑوں اور بیلوں کی اقسام، نسلی خصوصیات اور قیمتوں کے بارے میں مجھے پہلی بار محمود صاحب نے ہی بتایا۔ کون سا سردار اس بار ریس جیتا اور انعام میں کتنے کروڑ روپے ملے، اس کا خبرنامہ محمود صاحب ہی تھے۔ اس لیے جب پہلی بار انہوں نے مجھے اپنے ایک بیل کی موبائل میں تصویر دکھائی جس کی قیمت ستر لاکھ روپے لگ چکی تھی تو میں حیران رہ گیا تھا۔ میرے خیال سے تو اس دبلے پتلے بیل کی قیمت چالیس ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بہرحال یہ بات میں نے ان سے نہیں کہی کہ خواہ مخواہ شہری عوام کی جہالت ایکسپوز ہوتی۔ملک عطا صاحب کی وفات پر محمود صاحب کو میں نے بے حد سوگوار دیکھا تھا۔
سندھ اور بلوچستان تک دوستوں کے ساتھ مزاروں پر جاتے تھے اور میلوں میں شرکت کرتے تھے۔ پاکستان کے ہر روڈ سائیڈ ہوٹل پر کھانا کھاچکے تھے اس لیے اب السر ہونے کے بعد، صرف سبزی ہی کھاتے تھے ہمارے ساتھ سفر میں۔ اپنے ساتھ مہنگا ترین پستول لے کر چلتے تھے اور گھر میں بھی اسلحے کا ڈھیر لگا رکھا تھا جو دوست شادی بیاہ اور ریسوں میں فائرنگ کے لیے لے جاتے تھے۔ گولیاں ان کی طرف سے مفت ملتی تھیں۔
میں منہ کھولے کبھی کبھی اپنے ڈرائیور کی باتیں سنتا تھا کہ یاخدا، یہ آدمی ہے کہ باتوں کی پٹاری جس کے پاس سے ایک سے ایک قسم کے رنگین و سنگین قسم کے قصے برآمد ہوتے ہی چلے آتے ہیں اور ہر بار ایک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔ بہرحال، سچ ہو یا جھوٹ، محمود صاحب گاڑی چلاتے چلاتے اسی طرح اپنی زندگی کی کہانیاں سناتے رہے اور ہم مہینوں ان کے ساتھ کو انجوائے کرتے رہے۔
پھر کچھ عرصہ ٹریننگز میں وقفہ ہوا تو محمود صاحب سے رابطہ ٹوٹ گیا۔
دوبارہ ٹریننگز شروع ہوئیں تو محمود صاحب پھر سے دروازے کے باہر اپنی سفید چمکتی ہوئی کورولا لیے موجود تھے۔ ایک دوپہر میں گھر سے اپنا بیگ لے کر باہر آیا تو سفید کاٹن کے کلف لگے شلوار قمیض میں ملبوس محمود صاحب سے گلے ملا۔ پھر وہ میرا بیگ ڈگی میں رکھنے پیچھے پلٹ گئے اور میں گاڑی کے اندر بیٹھ گیا۔

گاڑی چلی تو مجھے احساس ہوا کہ آج محمود صاحب خلافِ معمول چپ چپ سے ہیں۔ تھوڑا سا آگے چلے تو یہ خاموشی مجھے زیادہ عجیب لگی۔ مجھے ایک عادت سی پڑگئی تھی کہ ان کی گاڑی میں بیٹھتے ہی کسی پرانے قصے سے دوبارہ پھلجھڑیاں پھوٹنی شروع ہوجاتی تھیں اور تب تک چلتی تھیں جب تک وہ واپس آکر مجھے گھر ڈراپ نہیں کردیتے تھے۔اس لیے ایک انتہائی ہنستا، بولتا، چٹکلے چوڑتا انسان چپ چاپ ہوجائے تو پریشانی ہوتی ہے۔ میں نے فوراً ہی پوچھ لیا۔
‘کیا ہوا محمود صاحب۔ خیریت تو ہے؟’۔
‘اللہ کا شکر ہے سر’۔ وہ دھیرے سے بولے۔
‘آپ کچھ خاموش ہیں آج’۔ میں نے کہا۔’ کیا بات ہے؟’۔
‘کوئی بات نہیں ہے آفتاب صاحب’۔ ان کی نظر سڑک پر جمی رہی۔’ویسے ہی بس’۔
میں نے مزید نہیں کریدا۔ ہمیں چار گھنٹے ساتھ چلنا تھا۔اس لیے سوچا کہ تھوڑی دیر میں خود ہی بتادیں گے مگر حیران کن طور پر وہ چار گھنٹے مکمل خاموش رہے۔ اس دوران دوسری تبدیلی جو میں نے نوٹ کی کہ انہوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نہیں کی۔ کوئی قصہ نہیں سنایا اور سب سے بڑھ کر سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا جو سامنے ہی رکھی تھی۔ البتہ یو ایس بی پر قوالیاں اور پوٹھوہاری لوک گیت سنتے رہے جو مجھے سمجھ تو نہیں آتے تھے مگر مزا دیتے تھے۔
ہم منزل پر رات گئے پہنچے۔ میں نے ہوٹل میں چیک ان کیا اور ان سے کہا کہ آپ بھی کچھ دیر آرام کرلیں۔ پھر کھانا کھانے باہر چلیں گے۔ انہوں نے ہامی بھری اور چلے گئے۔ رات آٹھ بجے ہم کھانے کے لیے ایک چھوٹے سے ہوٹل پہ پہنچے تو آرڈر دینے کے بعد میں نے پوچھ ہی لیا۔
‘محمود صاحب۔ کیا بات ہے ؟۔ آپ خاموش کیوں ہیں؟’۔
‘کدھر سر؟’۔ وہ دھیمے سے مسکرائے۔’سارا راستا تو آپ سے باتیں کی ہیں’۔
‘نہیں محمود صاحب’۔ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ‘ آج وہ پرانے والے محمود صاحب ادھر نہیں ہیں۔ نہ کوئی قصہ، نہ کہانی، نہ کوئی گھڑ دوڑ کا واقعہ۔ نہ کوئی عاشقی معشوقی۔ بات کیا ہے؟’۔
میں نے دیکھا کہ میری بات کا جواب دینے کے لیے وہ تھوڑے سے تذبذب میں مبتلا ہوگئے۔ تھوڑی دیر ہاتھوں کو مسلتے رہے۔ پھر دھیرے سے بولے۔
‘سر’۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔پھر ان کے الفاظ مشکل سے نکلے۔ ‘گھر میں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ اب سب چھوڑ دیا ہے۔ بیٹی کے باپ کو اچھے نہیں لگتےیہ کام’۔
میں محمود صاحب کو دیکھتا رہ گیا۔ایک لمحے میں ہماری ساری تہذیب کی خوبصورتی مجھے ان کی آنکھوں میں نظر آئی۔ میں نے اٹھ کر ان کو گلے لگایا ۔ مبارکباد دی۔ شکوہ کیا کہ اتنی خوشی کی خبر تھی اور مجھے سارا راستا نہیں بتایا۔ وہ شرمائے شرمائے وضاحتیں دیتے رہے۔
پھر مجھے وہ واردات سنائی جو ان پر گزری۔ بولے کہ آفتاب صاحب، جب میں نے بیٹی کو پہلی بارگود میں لیا اور اس کا گال چھوا تو اس نےسوتے میں ہی میری انگلی پکڑ لی تھی۔بس یوں سمجھیں کہ میرے لیے قیامت ہوگئی۔ تب پتا نہیں میرے دل کو کچھ ہوا اور اسی وقت میری ساری بدمعاشی ہوا ہوگئی ۔میں زور زور سے رونے لگا اور وہ میری انگلی پکڑے رہی۔پہلے کسی کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے مگر پھر سب کو پتا چل گیا ۔ میں بیٹی کو گود میں لے کر گھنٹوں روتا رہا۔ شاید اپنے گناہوں پر معافی مانگ رہا ہوں گا۔ہوسکتا ہے کوئی اور وجہ ہو۔ مگر پھر اس کے بعد میرے سارے شوق ہوا میں اڑ گئے اورگھر میں ایک باپ اور بیٹی رہ گئے ۔
ہم نے کھانا ختم کیا اور واپس ہوٹل آگئے۔ مگر پھر اس دن کے بعد سے، میں نے محمود صاحب کو خاموشی اور وضع داری کی چادر اوڑھے ہی دیکھا۔کوئی قصہ نہیں۔ کوئی کہانی نہیں۔ کوئی بدمعاشی نہیں۔ ایک انتہائی ذمے دار، محتاط انسان جو میرے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ایک بالکل نیا انسان۔
میں اس انقلاب پر حیران تھا۔ جو کام کوئی نہیں کرسکا تھا، وہ ننھی منی بیٹی نے گھر میں آتے ہی چند دنوں میں کرڈالا تھا۔ایک چھوٹی سی عورت نے مرد کو سیدھا کردیا تھا۔
عالمی یومِ خواتین پر ۔۔۔ نجانے کیوں یہ کہانی مجھے یاد آئی!۔
ختم شد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481