مری گلیات اور گردونواح میں محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹمبر مافیا سرگرم ہے جہاں خوبصورت اور گھنے جنگلات میں سر سبزوشاداب درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاریسٹ افسران اور متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سےکلڈنہ کے قریب سرسبز جنگلات کو ٹمبر مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور فی درخت کاٹنے پر ٹمبر مافیا سے دس ہزار روپے کی وصولی کی جا رہی ہے۔ شکایت کی صورت میں جعلی رسید دکھا کر داروغہ لکڑی قبضے میں لینے کے بجاہے دگنی رقم وصول کر کے ٹمبر مافیا کو چھوڑ دیتا ہے ۔ ذراہع کے مطابق ملکہ کوہسار مری کی خوبصورتی کو ختم کرنے والے ٹمبر مافیا کو فاریسٹ افسران کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رات کے اندھیرے میں لکڑی کاٹ کر راولپنڈی چکوال ،سہالہ اور دیگر شہروں میں فروخت کے لیے بھیج دی جاتی ہے اور اس کالے دھندے میں پولیس کی کالی بھڑییں بھی ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ مری کے قریب جنگل میں درجن کے قریب سر سبز درخت کا ٹے جا چکے ہیں اور یہ عمل کئی برس سے چل رہا ہے لیکن محکمہ جنگلات اور ڈی ایف او مری کو کئی بار اطلاع ملنے اور خبریں شائع ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

