اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہزارہ ڈویژن کےمایہ ناز سپوت سابق اولمپین فضل الرحمان لالہ سپرد خاک

WhatsApp Image 2023 03 09 at 19.38.38

ایبٹ آباد(نوید اکرم عباسی ) ہزارہ ڈویژن کے مایہ ناز سپوت عالمی شہرت یافتہ سابق اولمپین  فضل الرحمان لالہ ایبٹ آباد میں انتقال کرگئے ۔اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر پاکستان ہاکی ٹیم کے دروازے پر 1960 کی دہائی میں سب سے پہلے دستک دینے والے اور بعد ازاں اولمپیکس ۔ایشین گیمز ۔اور پہلے ہاکی ورلڈ کپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی قومی ہاکی ٹیم کا حصہ رہنے والے دنیائے ہاکی کے عظیم کھلاڑی اولمپین لالہ فضل الرحمن المعروف "بلا لالہ” 84 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد دار فانی سے دار بقاء کی جانب سفر کر گئے اور یوں پاکستان ہاکی کا ایک روشن ستارہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ۔

فضل الرحمان لالہ کی نماز جنازہ جمعرات کو ان کے آبائی گاؤں بانڈہ پھگواڑیاں ایبٹ آباد میں ادا کی گئی جس میں کھیلوں سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔۔

WhatsApp Image 2023 03 09 at 15.55.36سابق ہاکی اولمپین مرحوم لالہ فضل الرحمن کی فائل فوٹو۔۔

مرحوم اولمپین لالہ فضل الرحمن المعروف بلا لالہ نے اپنے ہاکی کیرئر کا آغاز ایبٹ آباد سے کیا اور 1961 میں وہ مردان شوگر ملز کی ہاکی ٹیم کے ساتھ منسلک ہوئے۔ یہ سفر 1964 تک جاری رہا اور 1965 میں وہ پاکستان ہاکی ٹیم میں اپنی شمولیت کو یقینی بنانے میں سرخرو  قرار پائے اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ وہ ڈومیسٹک ہاکی میں 1966 سے 1975 تک مستقل حصہ بھی بن گئے۔  1966 میں بنکاک ایشین گیمز میں وہ سلور میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے جبکہ 1968 کے میکسیکو اولمپیکس میں وہ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سینے پر اول پوزیشن کے ساتھ سونے کا تمغہ سجانے میں کامیاب رہے۔

پھر 1970 میں وہ بنکاک ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے جبکہ 1971 میں بارسلونا میں ہاکی کا پہلا ورلڈ کپ کھیلا گیا تو وہ اپنے کھیل میں مہارت اور دسترس کی بنا پر اوج ثریا پر فائز نظر آئے اور پاکستان نے ہاکی کے اس پہلے ورلڈ کپ میں کامیابی اپنے نام سمیٹی انہیں اس ورلڈ کپ میں بحثیت لیفٹ ہاف ان کے شاندار کھیل کی بدولت نہ صرف اس وقت کی حکومت نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا بلکہ انہیں دو دفعہ ورلڈ الیون میں نمائندگی کا بھی اعزاز ملا ۔اس کے ساتھ 1972 میں میونخ اولمپیکس میں وہ سلور میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ بعد ازاں ان کے خاندان سے اولمیپین نعیم اختر۔ارشد منیر۔محمد شمعریز۔محمد مدثر علی۔ انعام الرحمن۔شجاع الرحمن۔تیمور نعیم سمیت دیگر بھی پاکستان ہاکی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔اور ان کے نام سے موسوم فضل ہاکی کلب کا شمار اب بھی پاکستان ہاکی کے بہترین کلبوں میں ہوتا ہے ۔

مرحوم ایبٹ آباد ہاکی ایسوسی ایشن کے کئی سال تک صدر رہے ۔مرحوم لالہ فضل الرحمن کی وفات پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر سمیت دیگر عہدیداروں ۔متعدد سابق اولمپئنز اور سابق قومی کھلاڑیوں سمیت صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن اور کھیلوں کی تمام مقامی تنظیموں کے عہدیداروں اور سپورٹس بورڈ کے اعلی اور مقامی حکام نے اسے ہاکی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481