۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازیہ درانی ۔۔۔ پشاور
اردو ترجمہ
اے اجل !!!
میں تجھ سے خائف تھی۔
وجود کے بے حرکت ہونے پر
اور اپنے مستقبل کے تصور پہ
میرے بچے اور،،،،،،،،،،،
اور بہت سے عزیز و اقارب کی
آنکھوں کے آنسوؤں کو
اپنے لیے عذاب سمجھا
اسی سوچ نے تاحیات پریشان رکھا کہ
جب مرے بے حرکت وجود پر نوحہ کریں گے
اک عمر یہی تصور تھا
ہاں جو ذہن پر حاوی رہا
لیکن شکر کہ میرا دل
وقت کے سمجھانے سے
رویوں کے دکھانے سے
سکون پا گیا، قرار پاگیا
میں نے محسوس کیا کہ
صبر کرسکتے ہیں وہ
اور مجھے ترے سپرد بھی کرسکتے ہیں
اس لیے اب یہ خوف نہیں رہا
اپنے وجود کو تیرے سپرد کرنے سے
میں نہ اداس ہوں اب
نہ احساس پہ بوجھ رہا
میرے کندھے بھی ہلکے ہیں
اب میں یہ سوچ کے پرسکون ہوں کہ
میں اپنے وجود کے لئے
سب کے احساس کے
جھنجھٹ سے آزاد ہوں
اب یہ وہم نہیں
کہ چھوڑ جاؤں گی
رشتے ہار جاؤں گی
اے اَجل تجھ سے ڈر جاؤں گی
میری دہلیز پر آؤ گی جب
تو مجھے مسرور پاؤ گی
مجھے تم با وفا پاؤ گی
مجھ کو شاد پاؤگی
نازیہ درانی


