"فکر راشد”
دعوت خود شناسی
احسن الخالقین نے ہر فرد کو کسی خاص وصف اور صلاحیت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اسی لیے تاریخ عالم میں کثیرالجہت شخصیات کے تذکرے ملتے ہیں۔ ہم اپنے قرب و جوار کا جائزہ لیں تو اس تنوع کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ ایک گھر کا جائزہ لیا جائے تو ہر فرد اپنی اپنی پسند ناپسند اور میلان و اہلیت رکھتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو میلانات اور صلاحیتوں کے اس تنوع سے ہی دنیا اتنی دلچسپ اور قابل توجہ ہے ورنہ ایک فرد کی ہی زندگی جب یکسانیت کا شکار ہو جائے تو وہ اکتا کر رہ جاتا ہے۔
اقبال نے فرمایا تھا۔۔۔۔۔
ہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
اس لیے ہمارے لیے کرنے کا ناگزیر کام یہ ہے کہ ہم عرفان ذات کے حصول کے لیے شعوری کوشش کریں۔ یوں یہ کوشش و کاوش عرفان الٰہی کی منزل کی طرف ہماری رہنمائی کرے گی کہ جس نے اپنا عرفان حاصل کر لیا اس نے خدا کو پا لیا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو جانے بغیر یا تو اپنا موازنہ کسی اور سے کر رہے ہوتے ہیں یا کسی ایسے شخص جیسا بننا چاہتے ہیں جو حقیقت میں نابغہ روزگار شخصیت نہیں ہوتا۔
کامیابی کے لیے ناگزیر ہے کہ اپنے وصف و امتیاز کا کما حقہ ادراک حاصل کیا جائے۔ اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جائے۔ مقصد کا تعین کر کے مستقل مزاجی سے محنت و ریاضت کی جائے۔ اور حرص و ہوس، تکبر، نفرت، حب جاہ و حشم اور دنیا پرستی جیسی لعنتوں سے دامن چھڑا کر احسن تقویم کے اعلی مرتبے کے شایان شان کردار کا حامل بننے کی کوشش کی جائے۔
یقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
۔۔۔۔۔ اقبال

