اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حادثات سے بچنے کے لیے ایچ ایس ای کے حوالے سے آگہی ناگزیر ہے

1669864574005

عالمی سطح پر انسانی جان کی قدر و قیمت کا احساس و ادراک رکھتے ہوئے ایچ ایس ای کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا ساری انسانیت کو بچا لیا۔  لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں عملی طور پر نہ انسان کی کوئی قدر و وقعت ہے اور نہ ہی اس کی جان کی۔ چھوٹے بڑے منصوبوں پر کام کرنے والے محنت کش حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی شدید زخمی ہوتا ہے، کوئی عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتا ہے اور اکثریت جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

ترقی یافتہ دنیا میں حادثات کی روک تھام کے لیے ایچ ایس ای پروفیشنلز کی ٹیم کے ذریعے ورک فورس کو پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ حفاظتی لباس (یونیفارم، سیفٹی شوز، ہیلمنٹ، سیفٹی بلٹ، گلوز، وغیرہ) کے قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ کوئی بھی سرگرمی انسانی صحت کے لیے مضر نہ ہو۔ اور کسی بھی کام سے ماحول پر برے اثرات نہ پڑیں۔

راقم الحروف سعودی عرب ، دوبئی، قطر، عمان اور لیبیا کے قیام کے دوران بڑی کمپنیوں کے انتظامی امور کا ذمہ دار رہا۔ وہاں مختلف اداروں سے منصوبوں کی منظوری ایچ ایس ای قوانین کی پاسداری کے ساتھ مشروط کر دی جاتی ہے۔ لیبیا میں ہم جی ایم ایم آر پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ ہمارے پروجیکٹ کے چیئرمین علی قریانی تھے جو کرنل قذافی کے یار خاص تھے۔ ایک بار ان کا معتمد خاص ہمارے پائپ بنانے کے کارخانے کے دورے پر آیا۔ جب دفتر سے نکل کے وہ ہمارے ڈائریکٹر کے ہمراہ فیکٹری کے بڑے دروازے پر پہنچا تو سیکورٹی نے اسے روک دیا کہ ہیلمٹ اور سیفٹی شوز کے بغیر فیکٹری میں داخلہ ممنوع ہے۔ ڈائریکٹر کی گاڑی میں سیفٹی شوز اور ہیلمٹ موجود تھے۔ مہمان کو وہیں یونیفارم پہنائی گئی اور پھر سیکورٹی نے اندر جانے کی اجازت دی۔ چئیرمین کے علم میں جب یہ بات آئی تو سیکورٹی گارڈ کو اتنا انعام دیا گیا جو اس کی ایک سال کی تنخواہ کے برابر تھا۔

جب نیا سٹاف آتا تھا تو اسے دو ہفتے تربیت دی جاتی تھی جس میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی مینوئل پڑھایا جاتا تھا اور دو ہفتے کے بعد امتحان ہوتا تھا۔ اس مینوئل میں درج تھا کہ اس تربیت سے کارکن محفوظ طریقے سے کام کرنے کا ہنر سیکھ لے گا یوں کام کے دوران زخمی ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ جب حادثات کے امکانات معدوم ہو جائیں تو کام کے دوران حادثاتی موت کے امکانات بھی نہیں ہوتے۔ اس طرح کمپنی مالی نقصانات سے بھی بچ جاتی ہے۔ اور پراپرٹی اور چیزوں کا نقصان بھی نہیں ہوتا۔ کارکن اطمینان سے کام کرتے ہیں اور ان کی استعداد کار بڑھ جاتی ہے۔ یوں معیار کار اچھا ہو جاتا ہے اور کمپنی کے منافع میں اضافے کی وجہ سے ورک فورس کو بونس اور تنخواہ میں خاطر خواہ اضافے جیسی سہولیات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ تربیت دینے والے اس شعبے میں مہارت رکھنے والے پروفیشنلز ہوتے تھے۔ صرف کامیاب ہونے والوں کو ہی فیکٹری میں کام کی اجازت دی جاتی تھی۔ باقی لوگوں کو ایک ہفتہ مزید تربیت گاہ میں گزارنا پڑتا تھا۔

عالمی معیار کی تمام کمپنیوں میں اجتماعی کوشش سے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جہاں مثبت سوچ اور محفوظ اور صحت مند کلچر سب کی ترجیح کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ سب کی مشترکہ کوشش ہوتی ہے کہ ہیلتھ اور سیفٹی کا معیار بہتر سے بہتر بنایا جائے۔ قانونی ذمہ داری اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے لیکن متواتر تربیت سے ہیلتھ اور سیفٹی قوانین اخلاقی ذمہ داری میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام باشعور لوگ اپنے اپنے دائرہ کار میں ایچ ایس ای قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ اساتذہ طلبا میں اس سلسلے میں آگہی پیدا کریں اور صحافی خواتین و حضرات میڈیا پر اس ضمن میں مکالمہ عام کریں۔

images 57images 58


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481