اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایچ ایس ای کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کیوں؟

FB IMG 1677313980502

بھارہ کہو حادثے کے بعد ایچ ایس ای (ہیلتھ، سیفٹی، انوائرنمنٹ) کے حوالے سے اس شعبے کے بارے میں آگاہی رکھنے والے لوگ اپنے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں اصلاح احوال کے لیے لکھ رہے ہیں۔ لیکن اسے بدقسمتی ہی کہیے کہ کچھ لوگ ایسی تجاویز پر بھی غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

راقم الحروف رات بارہ بجے ٹھیک اسی جگہ سے گزرا جہاں کل حادثے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ وہاں اسی کنکریٹ پلر پر ویلڈنگ کا کام جاری تھا۔ مزدور سیفٹی ہارنیس کے بغیر اس اونچائی پر لٹک کر ویلڈنگ کر رہے تھے ان کے پاس کھڑے ہونے کے لئیے کوئی ورکنگ پلیٹ فارم نہیں تھا۔

یہ کام کرنے والے مزدور میرے آپ کے قبیلے کے محنت کش ہیں۔ کمپنی کوئی بھی ہو، ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ اس نوعیت کے جتنے بھی پراجیکٹس ہیں ان کا ایچ ایس ای کے ماہرین سے معائنہ کروائیں۔ یقین کیجیے ان منصوبوں پر کام کرنے والے سب محنت کش خطرے کی زد میں ہیں۔ کہیں بھی حفاظتی انتظامات پر کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

عالمی طور جب سڑک یا فلائی اوور کا منصوبہ طے پاتا ہے تو متبادل رستے کا پہلے انتظام کیا جاتا ہے۔ یوں ٹریفک منتشر ہو جاتی ہے۔ اس طرح کام والی جگہ خطرات سے خالی نہ بھی ہو تو رسک فیکٹر کم سے کم ضرور ہو جاتا ہے کہ منصوبے پر کام کرنے والوں کو ایچ ایس ای کے ضابطوں کی پابندی کرتے ہوئے کام سرانجام دلوانے کے لیے ایچ ایس ای مینیجر اور انسپکٹرز موجود ہوتے ہیں۔

بھارہ کہو سے گزرتے ہوئے آپ نے سڑک پر جاری کام یقینا دیکھا ہو گا لیکن اب کی بار گزریں تو ایچ ایس ای کے حوالے سے جائزہ لیجیے گا کہ بھاری بھرکم کرینیں ٹنوں کا لوڈ اٹھانے وہاں کھڑی رہتی ہیں اور لوگوں کا ہجوم ہر وقت ان کی زد میں رہتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کشمیر، مری، ہزارہ جانے والی ہزاروں گاڑیاں جان جوکھوں میں ڈال کر روزانہ اسی مچھلی منڈی سے گزرتی ہیں۔ کل خدانخواستہ پھر کوئی حادثہ رونما ہو گیا تو ایک بار پھر اپنی کوتاہی اور مجرمانہ غفلت کو تسلیم کرنے کے بجائے ساری غلطی کسی ٹرک ڈرائیور پر ڈال دی جائے گی (جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہو گا).

حفاظت یعنی سیفٹی مہذب معاشروں اور ملکوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ راقم نے اس شعبے میں وقت صرف کیا۔ تعلیم و تربیت حاصل کی۔ بہت کچھ سیکھا اور عالمی معیار کے منصوبوں پر اس شعبے کے اصول و قوانین کا اطلاق کرواتے ہوئے کام کروایا. پاکستان کے سینکڑوں سیفٹی پروفیشنلز گلف اور یورپ میں کمپنیاں چلا رہے ہیں۔ لوگوں کی جانوں اور پراپرٹی کو اپنی محنت، لگن اور دلجمعی سے محفوظ بنا رہے ہیں. یہ ایک نافع علم اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی پریکٹس ہے جو گھر سے شروع ہو کر ہر شعبہ ہائے زندگی تک ساتھ چلتی ہے۔

ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ لاقانونیت یا قوانین کا عدم نفاذ ہے۔ ہماری اسمبلی میں سیفٹی لاز اور قانون سازی کے حوالے سے گزشتہ پچہتر سالوں میں بات ہی نہیں ہوئی۔

یاد رہے۔۔۔۔ ہمیں نئے قوانین نہیں بنانے ۔۔۔ نہ کوئی لمبا چوڑا تردد کرنا ہے بلکہ صرف یہ کرنا ہے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ویب سائٹ پر جا کر وہی قوانین جو عالمی سطح پر مسلم ہیں انھیں اسمبلی سے پاس کروانا ہے۔ اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے جیسا کہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔

آپ اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔ حادثات اور اموات کی شرح دیکھیں۔ سینکڑوں لوگ روزانہ غلط روڈ کراسنگ پر مر جاتے ہیں۔ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اونچی عمارتوں کے مختلف حصوں میں لٹک کر یا غیر محفوظ طریقوں سے کام کرتے ہوئے پھسل کر مر جاتے ہیں۔ پیٹرول ٹینکر گرتا ہے تو آگ بھڑک اٹھتی ہے اور وہی پیٹرول چوری کرتے ہوئے لوگ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ ہم سیٹ بیلٹ ٹریفک وارڈن کو دیکھ کر پہنتے ہیں۔ ہیلمنٹ سردیوں کی سوغات ہے، گرمیوں میں تو ہلمٹ کو موٹر سائیکل کی لائٹ پر آویزاں کرنا ہم فرائض منصبی میں شامل سمجھتے ہیں۔ کٹی ہوئی بوسیدہ تاریں جوڑ کر ویلڈنگ ہو رہی ہوتی ہے۔ ذرا غور و فکر تو کریں ایسے ہزاروں مناظر آپ کی آنکھوں کے سامنے گھوم جائیں گے جہاں خطرہ آس پاس منڈلا رہا ہوتا ہے اور ہم "بمثلِ شتر بے مہار” ایک ہجوم کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اگر آپ معاملات کا تجزیہ کریں گے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ بڑا مسئلہ ادارے ہیں، عوام نہیں۔ اصل مسئلہ کرپشن اور بدنیتی ہے۔ ادارے جعلی رپورٹ بنا کر اپنی دیہاڑی کے چکر میں سلائیڈ والی جگہ پر دس منزلہ عمارت بنانے کا اجازت نامہ جاری کر دیتے ہیں. اسی طرح ادارے کنسٹرکشن کمپنیوں کو Safety Department سیفٹی کی عدم موجودگی کے باوجود ان کی رجسٹریشن کر دیتے ہیں. مزدور طبقہ روزگار کے لیے Occupational injuries or deaths کی زد میں آ جاتا ہیں. ہزاروں بلکہ لاکھوں رنگ ساز اور صفائی کرنے والے گرد Dust کو نتھنوں سے پھیپھڑوں تک پہنچاتے ہیں اور پھر چند سالوں بعد وہی لاکھوں لوگ کینسر یا دیگر امراض کا علاج ہسپتالوں میں کرواتے نظر آتے ہیں. ویلڈنگ کے کیسز کا سروے کریں، ہزاروں ویلڈرز آخری عمر میں نابینا ہو جاتے ہیں اور اونچا سننے لگتے ہیں. نیز مزدور طبقے میں جب تک جان ہوتی ہے زور لگاتا ہے لیکن آخری عمر میں یا تو بیماری کا شکار ہو جاتا ہے یا مکمل معذور ہو جاتا ہے۔ بوجھ کس پر پڑتا ہے؟ ملکی خزانے، ہسپتالوں پر اور پھر اُسی مزدور پر اور اس کے خاندان پر ۔۔۔۔۔

اس کے برعکس اربوں روپے کے پروجیکٹ کا مالک اوراس کی کمپنی چند دنوں اور مہینوں میں دس ایسے مزید منصوبے پیسے دے کر اینٹھ چکے ہوتے ہیں اور انہی مزدوروں کے خون پسینے کی محنت سے زندگی کے مزے لوٹتے ہیں اور اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر مر جانے والے مزدوروں کی لاشوں پر فاتح خوانی کرتے ہیں۔
یہ نہیں کہا جا رہا کہ منصوبے (پراجیکٹس) بند کر کے لوگوں کا روزگار چھین لیں بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اربوں کما رہے ہو اس میں سے صرف 15 سے 20 فیصد بجٹ مزدوروں کی سیفٹی پر اور انکی صحت پر لگا دو۔ بس صرف اتنی سی عرضی ہے، مگر لالچ ختم ہو تب نا ۔۔۔۔۔۔

لکھنے کو بہت ہے، لیکن سنجیدہ کون لے گا ۔۔۔۔۔ ؟ یہ ساری ترقی اور انفراسٹرکچر مل کر بھی کیا ایک انسانی جان کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟ نہیں نا ___تو مجرم کون ہوا؟
زیرِ نظر تصویر مری روات کُنڈاں کی ہے ۔ جہاں پر مزدور زیرِ تعمیر عمارت کی ساتویں منزل پر موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔

لو بھائیو ۔۔۔ حادثے سے پہلے فلسفہ جھاڑ دیا ہے۔۔۔ کہیے ارباب اختیار و اقتدار سے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا حوصلہ پیدا کریں۔۔۔۔۔

FB IMG 1677438240723


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481