اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج سرائیکی کے عالمی شہرت یافتہ شاعر شاکر شجاع آبادی کا جنم دن ہے

Screenshot 20230225 134340 1

شاکر شجاع آبادی کا اصل نام محمد شفیع ہے۔ شجاع آباد سے تعلق رکھنے کی وجہ سے "شاکر شجاع آبادی” مشہور ہیں۔ وہ پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے بڑے ادب کے مطالعے سے محروم رہے۔ لیکن پنجابی، سرائیکی کے صوفی شعراء کا کلام سن سن کر اس سے رہنمائی حاصل کرتے رہے اور یوں سرائیکی کے ایک نام ور شاعر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔

شاکر شجاع آبادی موجودہ مبنی بر استحصال متعفن نظام کی چیرہ دستیوں سے کما حقہ واقف ہیں۔ وہ جا بجا اس کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ان کے پسندیدہ سیاسی لیڈر ہیں۔

1994 میں شاکر شجاع آبادی پر فالج کا حملہ ہوا۔ جس کا اثر ہے کہ اب درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔  حکومت کی طرف سے انھیں صدارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔

شاکر کے دوہڑے، ماہیے اور گیت عطاء اللہ عیسی خیلوی سمیت کئی معروف گلوکاروں نے گائے ہیں۔ شاکر شجاع آبادی سرائیکی وسیب ہی نہیں پورے ملک کے پسے ہوئے طبقات کے نمائندہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں حزن و ملال کا عنصر نمایاں ہے۔ غربت ، پسماندگی، ظلم و استحصال اور رجعت پسندی کے خلاف بھی ان کے اشعار میں نمایاں اظہار ملتا ہے۔

ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں جن میں شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے، لہو دا عرق، پیلے پتر وغیرہ شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

مرے رازق رعایت کر، نمازاں رات دیاں کر دے
کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی

انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی

میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481