اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارہ کہو حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دی جائے

WhatsApp Image 2023 02 25 at 21.27.49 1

FB IMG 1677313980502صاحب تحریر

یقینا کوہسار کا سفر کرتے ہوئے حالیہ مہینوں میں بہارہ کہو سے آپ کا گزر ہوا ہو گا۔ میرا ان دنوں جب بھی وہاں سے گزر ہوا Unsafe Work کا تذکرہ ضرور ہوا۔ ہم لوگ، جن کے پاس ایچ ایس سی کی تعلیم بھی ہے اور بیرون ملک کئی سالوں کا تجربہ بھی،  یہ دعا کرتے تھے کہ یہ منصوبہ خدا نہ خواستہ کہیں کسی بڑے حادثے کو جنم نہ دے کہ یہاں ایچ ایس سی کے اصولوں کی سر عام دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

چونکہ پاکستان میں انسانی جان بہت سستی ہے۔ اس کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں ہے. کمپنیاں ٹھیکہ لیتی ہیں اور اس کو وقت پر ختم کرنے کے لیے ہر دو نمبر کام کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں. در حققیقت مزدوروں کو مزدوری نہیں دی جاتی بلکہ ان کی زندگی پر جُوا کھیلا جاتا ہے. بچ گئے تو منصوبہ بر وقت مکمل کرنے پر پر واہ واہ ہو گی۔  کمپنی کی ساکھ میں اضافہ ہو گا اور وقار بڑھے گا۔ مزدور مر گئے تو کون سی قیامت آ جائے گی۔۔۔ بے چارے شہید کہلائیں گے.

 

بھارہ کہو سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ کرینیں Cranes چل رہی ہیں اور بُوم Boom کے radius کے نیچے سے اور عین اٹھائے گئے load کے نیچے سے بھی لوگ محوِ سفر ہوتے ہیں.

 

Scaffolding کی شیٹنرنگ بن رہی ہوتی ہے اور کوئی پلیٹ فارم نہیں ہوتا. چپل اور شلوار قمیض پہن کر اونچائی پر مزدور لٹکے ہوتے ہیں اور زمین پر عین ان کے نیچے سریے نکلے ہوئے ہیں. اگر خدا نہ خواستہ کوئی مزدور ان پر گر جائے تو یہ تلوار اور تیر کا کام کریں گے۔

 

جس Formwork یا Scaffolding سے شیٹرنگ کا کام لیا جاتا ہے وہ میٹریل انتہائی ناقص اور بوسیدہ ہے. نہ میٹریل کی کوئی انسپیکشن ہے اور نہ ہی سکیفولڈ کی پائیداری کی کوئی انسپیکشن ہے. بس شام تک پلر بھرنے ہیں. جب ٹنوں کے حساب سے سریا اور کنکریٹ ایک ناپائیدار شیٹرنگ کے اندر جائے گی تو نتیجہ حادثہ ہی ہو گا۔

بڑے بڑے گڑھے ہیں جن کے اطراف میں کوئی احتیاطی باڑ نہیں لگائی گئی۔  کوئی وارننگ لائٹ نہیں ہے. مزدور پلاسٹک کے چپل اور پھٹے پرانے کپڑوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے لیے کوئی PPE’s نہیں ہیں۔

گزرنے والے بھی اکتائے ہوئے ہیں اور دعا گو ہیں کہ  یا خدا یہ پروجیکٹ جلد ختم ہو۔ لوگوں کی اکتاہٹ اور بے صبری تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن کمپنی بہادر NLC کیوں بدمست ہے؟؟؟ انھوں نے تو آج تک ہزاروں منصوبے مکمل کیے۔ ان کے پاس تو PPEs کے حوالے سے فول پروف انتظام ہونا چاہیے۔  بھرتی کیے گئے مزدوروں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی۔ اس امر کو یقینی بنایا جاتا کہ تمام ورک فورس حفاظتی شوز، ہلمٹ، یونیفارم کے استعمال کے ساتھ ساتھ حفاظتی انتظامات کا خیال رکھتے ہوئے کام کرے۔

اگر ایسا حادثہ کسی اور مُلک میں ہوا ہوتا تو کمپنی کو ہوشربا جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا۔ کیونکہ کمپنی کی ایچ ایس سی کے اصولوں کے حوالے سے غفلت کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے اس لیے  کمپنی بہادر کو آئندہ کے لیے Ban کر دیا جاتا۔

لیکن رکیے! ذرا ایسے منصوبوں کا دیگر ممالک میں طریقہ کار ملاحظہ فرمائیے۔  پروجیکٹ کے لیے باقاعدہ bidding ہوتی ہے جس میں ایچ ایس سی کا طریقہ کار اور تکمیل شدہ منصوبوں میں حادثات کی شرح منصوبہ ملنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ عموما منصوبہ ایسی ہی کمپنی کو ایوارڈ ہوتا ہے جس کے پاس ایک Comprehensive Safety Plan ہو اور پھر اس کو نافذ العمل کرنے کے لیے تعلیم و تجربے کا حامل سٹاف بھی موجود ہو۔

 

مسئلہ کہاں ہے؟؟؟؟  پاکستان میں منصوبے پچھلے دروازوں کی ڈیل سے لیے جاتے ہیں اور کسی کمپنی کی اتنی جرات بھی نہیں کہ وہ NLC کے ہوتے ہوئے پر مار سکے یا بے اصولیوں پر آواز اٹھا سکے. اس منصوبے کی ناکام حفاظتی حکمت عملی کا کیا رونا جب یہ ملک ہی NLC چلا رہی ہے اور ہر جگہ بلڈی سویلین کی جان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔

چونکہ ہم پاکستانی ہیں اور ہم اس امر کا احساس و ادراک کرنے کے بجائے کہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والی موت مزدور کے قتل کے مترادف ہے۔ کمپنی بہادر بری الذمہ ہونے کے لیے اس قتل کو بھی شہادت کے کھاتے میں ڈال کر مقتولوں مرتبہ شہادت پر فائز کر کے ان کی موت کو مقدس بنا کر پیش کرتی ہے تاکہ مرنے والوں کے لواحقین کہیں قانونی کاروائی کا نہ سوچ لیں۔

عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ کمپنی بہادر کے خلاف سوموٹو لے۔ ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ جان سے ہاتھ دھونے والوں اور زخمیوں کو بڑی رقوم دی جائیں۔ ایسے ہر منصوبے پر کام کرنے والوں کو انشورنس کی سہولت کو یقینی بنایا جائے۔ اس منصوبے پر کام کے حوالے سے پی پی ایز کا پروفیشنلز کے ذریعے جائزہ لیا جائے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے منصوبوں کے دوران اچانک ایچ ایس سی انسپیکشن ہو تاکہ حادثات کی شرح کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملے۔

FB IMG 1677310581787


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481