اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اہل ادب اور ادارہ ہائے فروغ ادب کے ذمہ داران۔۔۔۔خوگرِ حمد کا گلہ بھی سن لیں۔۔۔۔۔

FB IMG 1677204925097

ادبی قبیلہ سے نسبت اور وابستگی ایک اعزاز ہے۔ یوں انسان خود کو تسلی دیتا ہے۔ چلیں ہم پہلی صف میں نہ سہی۔۔۔۔ کہیں دور کسی شمار میں تو ہیں۔ لیکن جب شمار میں بھی کہیں گنتی نہ ہو تو دکھ ہوتا ہے ۔

کسی بھی قوم کا وزڈم اور شعور والا طبقہ ادیب شمار ہوتے ہیں۔ ہر لکھنے والا ادب سے وابستگی اور خدمت کے لیے ماحول اور جغرافیہ کا بھی محتاج ہوتا ہے ۔ اسے پذیرائی کی تمنا بھی ہوتی ہے۔ وہ تعریف بھی چاہتا ہے۔ رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی اس کی تمنا ہے ۔ اور وہ ان آرزوؤں کے ساتھ ہی اپنے سے سینئر اور ہمسفر دوستوں کی پروفائل کو boost بھی کر رہا ہوتا ہے۔
اس کے اپنے آگے بڑھنے کا ایک رائج طریقہ یہ ہے کہ وہ گروپنگ، لاچنگ، چیٹنگ اور ادبی گروہ بندیاں کرتا پھرے۔ حکمرانوں کے قصیدے لکھے۔ رائج بیانیہ کے ساتھ کھڑا رہے۔ سینئرز کی چاپلوسی میں کمی نہ آنے دے۔۔ اپنے راستے میں اپنے سہولت کار لکھنے والے جمع کرے اور دوسروں کی سہولت کاری ایمانی سہولت کے ساتھ کرتا پھرے۔ پھر ایوارڈ لے۔ چیک وصول کرے۔  ادبی اداروں پر قابض ہو۔ لیجنڈز میں شمار ہو۔ شہرت اچھی آمدن کے ساتھ اپنی اولاد کو بخش کر آنجہانی ہو جائے۔اس کے کریڈٹ پر ہزاروں تعریفی کلمات، درجنوں ایوارڈز، سینکڑوں تقریبات اور یونیورسٹی مقالہ جات ہوں ۔۔۔

اس کمال کی جدوجہد میں چند ایک کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ کچھ ان کی بیعت میں رہ کر کچھ نہ کچھ پا لیتے ہیں۔ اور بہت سے لکھنے والے ان دبستانوں میں کسی توجہ کے نہ ہونے سے گم ہو جاتے ہیں۔ خاشاک اور خاک ہو جاتے ہیں۔۔۔ میں اس کمزور حیلے کا قائل نہیں ہوں کہ جوہر ہو تو پہچان ہو ہی جاتی ہے۔ نہیں ہوتی جناب ! جوہری اور رہنمائی چاہیے ۔ پلیٹ فارم اور ایک حد تک فالونگ چاہیے۔۔ اس کو ڈسکس کیا جائے، اس کی فکر شاعری اور رائے پر گفتگو ہو۔ نقاد اس پر لکھے اور ادبی مجالس میں اس کی جدوجہد کو شمار میں رکھا جائے۔ نہیں تو تاریخ کی راکھ میں ہزاروں ذہانتیں جبر اور جمود کے سرابوں میں کھو گئی ہیں۔۔۔

 

لیکن اس کے لیے سٹیٹس پالینے والے ادیبوں کا ظرف بلند اور اداروں میں بیٹھے لوگوں کا شملہ حد میں ہونا چاہیے جو کہ ہمارے معاشرے میں بالکل نہیں ہے۔ پروفیسری اور بیوروکریسی کے سہارے پروان چڑھنے والا ادب زوال یافتہ معاشرہ کے ادیب کو ہی نہیں ادب اور آرٹ کو ہی کھا جاتا ہے ۔۔ ایسے ماحول میں جب سیاستدان، مولوی، حکمران ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تو ادیب کیسے اعلی اقدار کے حامل انسان بنیں گے۔۔ یہی ہوگا ادائیگی والے مخصوص مشاعرے، ادارے اور فورم مخصوص لوگوں کے قبضہ میں رہیں گے۔ مراعات خاص دائرے میں گردش کریں گی۔ ایسا درباری ادب ہمیشہ ملا مبارک کی پالیسی کے اندر ہی تخلیق ہوگا ۔۔ اور منظور نظر شخصیات کو ہی پذیرائی حاصل ہوگی۔

 

ایسے منظر نامہ میں سب سے زیادہ متاثر وہ شاعر، نقاد شاعرات اور ادیب ہوتے ہیں جو ادب اور تخلیق سے پوری سنجیدگی کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ تسلسل سے لکھ رہے ہیں۔  کئی کتابیں اور بہت سے ادبی موضوعات پر لکھ چکے ہیں۔ بہت سے لکھنے والوں اور شاعروں کو شعری دنیا میں مقام دلا چکے ہیں۔ نقاد ہیں۔ نثر نگار ہیں۔ شاعر ہیں۔ عروض و نثری مناظموں کے مزاج پر دسترس ہے۔۔لیکن مجال ہے کوئی یونیورسٹی ان پر تھیسس کرے۔ کوئی ادارہ ان کی کتابیں شائع کرے۔ یا ان کی تحقیقات کو سپانسر کرے۔۔۔ کئی لکھنے والوں کی کتابیں بھی اس ماحول میں گم ہو جاتی ہیں۔ اکثر تو خود ادیب ہی بے نام و گمنام مر جاتا ہے۔ مجال ہے کہیں ان کے نام کا چیک جاری ہو۔۔۔ کسی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوں ۔۔وجہ یہی ہے کہ ایسے تخلیق کار سچے اور جینوئن تخلیق کار ہوتے ہیں۔ وہ چاپلوس نہیں ہوتے۔ پی آر کے بھوکے نہیں ہوتے۔ ان کا ضمیر اور وقار انھیں ایسے رویوں سے روکے رکھتا ہے۔۔ وہ گمنام مرنا پسند کریں گے۔ انھیں مانگے کی شہرت قبول نہیں ہوگی ۔جانے کتنے ہی لکھنے والوں کا علمی اور شعری اثاثہ اس ماحول میں مٹی ہو جاتا ہے۔۔ وہ تخلیق اور علمی سفر سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ صوفی مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ جعلسازوں، چاپلوسوں اور شہرت کے لیے بھاگنے والوں کے ساتھ دوڑ نہیں لگاتے۔ خاموشی سے اپنی گپھاؤں میں، اپنے من کی دنیا میں جینا آسان بنالیتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ زمانہ ہی نہیں ہمارے دوست اور جن کے لیے ہم پل اور سیڑھی بنے وہ بھی ہمیں روند رہے ہیں۔ نظر انداز کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی چپ رہیں گے۔ حرف شکایت زباں پر نہیں لائیں گے ۔ ان سے چیخ وپکار نہیں ہو گی۔ سفارش اور روابط کے چکر میں نہیں پڑیں گے۔۔۔۔
رچی ہوئی طبیعت کے یہی لوگ اصل ہوتے ہیں۔۔ جو شہرت کی منڈی میں بکنے نہیں جاتے۔۔۔

ہمارے ادبی دبستانوں اور مضافات میں بہت سے ایسے خاموش اور مسکراتے لوگ موجود ہیں۔۔۔ جن کے مقابلے میں جعلی اور سفارشی شاہ دولے انھیں ادب سکھاتے پھرتے ہیں۔  اور ان کا ظرف ہے کہ وہ مسکرا کر گزر جاتے ہیں۔۔۔۔

ہماری یونیورسٹیوں، آرٹ اور ادب سے وابستہ اداروں کا کچا چٹھا اور بھی قابل افسوس ہے۔ یہ تو ایک عمومی فضا ہے جس کا ان سطور میں ذکر ہے ۔جس کا ادب کے قاری کی حیثیت سے سامنا بھی ہے اور ادراک بھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرزمان راشد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481