اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”جاسوس“ ۔۔۔ لندن میں مقیم کشمیری علی عدالت کا کلاسک پہاڑی ناول

WhatsApp Image 2023 02 23 at 00.54.46

”جاسوس“

ہٹلرنے اپنی جاسوسی تنظیم ”گسٹاپو“میں تربیت یافتہ خواتین کو بھرتی کیا اور ان کو انگریزی زبان میں اتنا ماہر کر دیا گیا کہ لہجے سے ان کو پہچاننا مشکل تھا۔ ان کا کام برطانیہ کے اعلیٰ آفیسران کے درمیان رہ کر کے اہم اطلاعات سے ہٹلر اوراس کے آفیسران کو آگاہ کرنا تھا۔ برطانوی اہلکار اور آفیسران حیران تھے کہ ہٹلر ان کے سب اقدام اور فوجی چال سے قبل ہی واقف کیسے ہوجاتاہے۔محکمہ سراغ رسانی کے سربراہ نے ایک مشکوک خاتون کے امتحان کے لئے یہ لسانی ترکیب نکالی کہ اگر یہ خاتون واقعی برٹش ہوئی توجسم میں پِن چبھونے پر بے ساختہ اس کے منہ سے کوئی انگریزی صوتی علامت نکلے گی، اس کا یہ حربہ تیر بہ ہدف ثابت ہوا۔ ایک تقریب کے دوران پن کی نوک چبھتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ ایک مروجہ جرمن گالی نکل گئی۔اسے اسی وقت گرفتار کرلیا گیا۔ مادری زبان چونکہ اس کے لاشعور میں اتنی رچ بس چکی تھی اس لیے اس کی تمام فوجی تربیت دھری کی دھری رہ گئی۔آپ دکھ یا خوشی کے کسی بھی موقع کو لے کر دیکھ لیں آپ کے لاشعور سے ماں بولی کے لفظ آپ کے زبان سےخودبخود ادا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔
ماہرین لسانیات بجا طور پر کہتے ہیں کہ مادری زبان سے انسان کی فطرت کھلتی بھی ہے اور نکھرتی بھی ہے ، دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک نے بچے کی ابتدائی تعلیم کے لئے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم لازمی قرار دے رکھاہے۔ دراصل ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتی ہے اور بچہ اس مکتب کے ذریعے وہی کچھ سیکھتا ہے جو ایک ماں اپنے بچے کو سکھاتی ہے ، اس لئے کہایہ جاتاہے کہ مادری زبان انسان کی جبلت کا جز ہوا کرتی ہے۔ انسانی سماج میں مادری زبان کی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ، وہ فرد واحد سماج کا ایک حصہ ہوتاہے ، فرد کے لئے مادری زبان ناگزیر ہے۔ مادری زبان سے متعلق انعام اللہ خاں شروانی لکھتے ہیں: ’’مادری زبان وہ زبان ہے جس سے انسان جذباتی طورپر منسلک ہوتا ہے ، یہ وہ زبان ہے کہ اگر کوئی شخص اس زبان کو چھوڑ کر کسی دوسری زبان کو مادری زبان بنالے تو اس صورت میں وہ ذہنی طورپر تو زندہ رہ سکتاہے مگر جذباتی لحاظ سے مفلوج، بنجر اور سپاٹ ہوجائے گا۔
پہاڑی ہماری مادری زبان ہے،پاکستان اور آزاد کشمیر میں جہاں باقی مادری زبانوں پر کام ہورہا ہے اور ادب تخلیق ہو رہا ہے وہاں خوشی کی بات یہ ہے کہ پہاڑی زبان میں بھی معیاری ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں” انڈس کلچر فورم “ کے زیر اہتمام ہونے والے مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پہاڑی کی چھ کتابیں شامل ہوئیں اور پہاڑی زبان کے ادیب ڈاکٹر محمد صغیر خان کو ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا جو ہم سب کے لیے فخر و اعزاز کی بات ہے۔اس میلے میں جو کتابیں شامل ہوئیں اُن میں ڈاکٹر محمد صغیر خان کا سفر نامہ ”اندرے ناں پینڈا“،راشد عباسی صاحب کا شعری مجموعہ ”سولی ٹنگی لو“،علی احمد کیانی ایڈوکیٹ صاحب کا شعری مجموعہ ”پیار نے دِیوے بال“،قمر رحیم صاحب کے مترجم افسانے”کرشن چندر ناں کشمیر“،راقم الحروف ممتاز غزنی کی کہانیوں کی کتاب”سِکھَّاں“ اور علی عدالت صاحب کا ناول”جاسوس “شامل تھے ۔

WhatsApp Image 2023 02 22 at 21.15.54WhatsApp Image 2023 02 22 at 21.15.56
جاسوس علی عدالت کا پہاڑی زبان میں ایک کلاسیک ناول ہے جو حال ہی میں شائع ہوا۔علی عدالت کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ پہاڑی زبان کے جانے مانے بہترین لکھاری ہیں اس سے پہلے اُن کے ناول ”میلہ اسمان،پونچھ ناں سرمد ،تہاراں نی اگ “ شائع ہو چکے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے ”مہندی لان دے اور لکیر “فلم بھی لکھی ہے۔لکیر فلم کوشووت شرما مرحوم نے بنایا تھا۔
جاسوس کی کہانی بظاہر تتہ پانی بازارکے چوک میں بیٹھی ”کُتیاں آلی سرکار“کی لمبی لٹکتی لِٹوں سے شروع ہوکر ڈاک بنگلے میں پار سے آئے ہوئے مہاجروں کی کہانیوں سے گھومتی پھرتی یوسف اور زلیخا کے عشق پر ختم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ریاست جموں کشمیر کی تقسیم اور تقسیم کے بعد اس کے اندر لوگوں کی زندگیوں پر ایک ایسی کہانی ہے کہ قاری پڑھتے ہوئے اس میں کھو جاتا ہے۔یہ کہانی پڑھتے ہوئے سارے کردار اور سب جگہیں آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔بعض اوقات لگتا ہے کہ ہم خود اس کہانی میں موجود ہیں۔
جاسوس کے بارے میں ڈاکٹر محمد صغیر خان لکھتے ہیں کہ”وہ لوگوں کے لیے علی بھی ہے اور عدالت بھی لیکن میرے لیے وہ ولی ہے اور ذہانت بھی۔میں نے جب اس پر غور کیا تو مجھے کبھی وہ ولی لگتا ہے جو لوگوں سے گھل مل کر رہتا ہے تو کبھی میں اس کی ذہانت وفطانت سے بہت متاثر ہوتا ہوں ۔جاسو س پڑھ کر مجھے لگا کہ علی عدالت ولی ہو یا نہ ہو لیکن پکا جاسوس ہے،ایک ایسا جاسوس جو اپنی قوم ،اپنے ملک،اپنی تاریخ،اپنے جغرافیے اور ثقافت اور ماں بولی کے لیے کام کرتا ہے اور ایسے راز ڈھونڈ کر لاتا ہے کہ بندہ بشرسوچوں میں گم ہو جاتا ہے۔سچ یہ ہے کہ جاسوس پہاڑی کا بڑا نہیں بہت بڑا بلکہ کلاسیک ناول ہے، جو جہاں ہمیں بہت کچھ دیکھانے سنانے کا کام کرتا ہے وہاں ہماری ماں بولی کو نئی زندگی اور شان دینے کی جان بھی رکھتا ہے۔“
جاسوس 152 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا انتساب ریاست جموں کشمیر میں لٹن پٹن ہونے والے سارے ریاستی باشندوں کے نام ہے۔اس کی کہانی اتنی دلچسپ ہے کہ بندہ پڑھتا جاتا ہے اور اپنی ماں بولی کی میٹھاس اپنے اندر محسوس کرتا جاتا ہے۔

WhatsApp Image 2023 02 22 at 22.01.15WhatsApp Image 2023 02 22 at 21.56.24
اگرچہ ہم بحیثیت کشمیری قوم دنیاکی کسی بھی درجہ بندی میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں ۔ ہماری پہچان اور ہمارا تعارف ایک مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ مگر ہم اپنی زبان اور ثقافت کو قومی ورثہ قرار دیتےہیں ۔مگر بدقسمتی یہ کہ قومی ورثے کوبچانے اورترقی دینے کے لیے ابھی تک منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ہماری ماں بولی میں ابھی تک بنیادی حروف تہجی تک کا تعین ہو سکا ہے،اور نہ ہی زبان اور ثقافت کو بچانے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی عملی اقدام اٹھایا جا سکا۔ لیکن اس کے باوجود انفرادی طور پر اور محدود پیمانے پر ہونے والے یہ کام اپنی زبان کو بچانے اور جدید دنیا میں ان کو مقام دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ماں بولی کی اہمیت صرف بات کرنے یا گفتگو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پس منظر میں علاقے کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اورلوک روایات کی شکل میں ہزاروں سال پر محیط دانش کارفرما ہوتی ہے۔ زبان اس تہذیب کے اظہار کا بڑا ذریعہ ہے۔ ماں بولی ایک ایسا ذریعہ ہے کہ اس سے ایک نسل اپنے ماضی کو دوسری نسل تک منتقل کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد صغیر خان اور علی عدالت اور دیگر افراد کی پہاڑی زبان کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابل ستائش ہیں اور نئے آنے والے لکھاریوں اور ادیبوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔
جاسوس کی تقریب رونمائی 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر میرپور جبیر ہوٹل میں شام پانچ بجے منعقد ہو رہی ہے ،مصروفیات کی وجہ سے میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے مادری زبانوں کے ادبی میلے میں بھی شریک نہیں ہو سکا حالانکہ میری کتاب بھی اس میلے شامل تھی اور 18 فروری شام چار بجے ہمارا سیشن تھا لیکن میری جگہ روزنامہ تلافی کے ایڈیٹر مسعود حنیف صاحب نے میری نمائندگی اور ترجمانی کی اور کتاب کا تعارف پیش کیا ۔
جاسوس کی تقریب رونمائی بھی ہے اور پھر آرٹس کونسل مری میں بھی پہاڑی زبان کے حوالے سے مذاکرہ اور پہاڑی میں شائع ہونے کتابوں کی نمائش بھی ہے دونوں تقاریب میں شریک ہونے کی دلی خواہش تھی لیکن مصروفیات اور طویل سفر آڑے آرہا ہے ۔امید ہے کہ دوست میری معذرت قبول فرمائیں گے۔
(ممتاز غزنی)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481