اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کا آغاز، کامیاب یا فلاپ؟

WhatsApp Image 2023 02 23 at 03.43.24

تحریک انصاف نے اعلان کے مطابق لاہور سے جیل بھرو تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے سینکڑوں کارکنوں نے گرفتاری دے دی ہے جبکہ ہزاروں کارکن گرفتاری دینے کے لیے تیار ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد سو سے بھی کم ہے اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے دعوے کے مطابق تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک کے تحت بدھ کی سہ پہر گرفتاریوں کا آغاز پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی ، سیکرٹری جنرل اسد عمر ، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور اعظم سواتی کی طرف سے کیا گیا جو پولیس وین میں خود ہی آکربیٹھ گئے ۔اس سے پہلے سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کی قیادت میں گرفتاریوں کیلئے پی ٹی آئی کا قافلہ پارٹی آفس جیل روڈ سے روانہ ہوا جس میں کارکنوں نے علامتی جیلوں میں خود کو ہتھکڑیوں میں قید کررکھا تھا ، تین گھنٹے تک پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مال روڈ اور ملحقہ فاطمہ جناح روڈ پر پولیس ہیڈ کوارٹرز کے سامنے نعرے بازی کی ، کارکنوں نے ازخود گرفتاری دینے سے پہلے وہاں سے گزرنے والی پو لیس کی قیدی وین پر قبضہ کرلیا تاہم گرفتاریوں کا عمل پولیس کی طرف سے میگا فون پر اعلان کے بعد شروع ہوا۔

تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

پولیس نے نرم رویہ رکھا

ابتدائی طور پر لیبر ونگ اور مینارٹی ونگ کے چار کارکنوں نے گرفتاری پیش کی۔ بعد ازاں قریب ہی کھڑی وین میں مخدوم شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ، عمر سرفراز چیمہ ،اعظم سواتی ، احسان ڈوگر ، ولید اقبال سمیت دس سے زائد رہنما بھی وین میں سوار ہوگئے ، اس کے ساتھ ہی درجن بھر کارکن اس گاڑی کی چھت پر سوار ہوگئے جنہیں دیکھ کر اتنے ہی کارکن گاڑی کے ساتھ لپک گئے ، یہ گاڑی کچھ دیر پولیس ہیڈ کوراٹرز سول لائنز کے سامنے کھڑی رہی اور مغرب کے بعد ڈسٹرکٹ جیل پہنچی تاہم وہاں سے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت روانہ کردی گئی ، پی ٹی آئی کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن اس گاڑی کے ساتھ قافلے کی شکل مین جیل کی حدود تک ساتھ چلتے رہے ۔

گرفتاریاں پیش کرنے سے پہلے مال روڈ پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پولیس ہیڈ کوارٹر کی جانب جاتی پولیس وین پر قبضہ کرلیا اور درائیور سے چابی چھیننے کی کوشش کی اس دوران وین کو نقصان پہنچا تحم پولیس خاموش رہی جس کا کہنا تھا کہ دفعہ 144کی خلاف ورزی پر مقدمہ تو درج کیا جائے گا تاہم ابھی طے نہیں ہوا کہ کس کس کے خلاف درج ہوگا ۔

کتنے کارکن گرفتار ہوئے ؟ تحریک انصاف اور حکومت کے متضاد دعوے

پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما فواد چودھری کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سات سو کارکنون نے گرفتاری دی ہے تاہم آزاد ذرائع سے اتنی تعداد میں گرفتاریوں کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت کے ترجمان وزیر عامر میر کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد 80 سے زیادہ نہیں ہے ، گرفتاریوں کے بعد پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے نائب صدر زین قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف نے آج اپنی اعلی قیادت کی گرفتاریوں سے جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا،وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سب سے پہلے اپنی گرفتاری دی جس سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا ہے،جیل بھرو تحریک آئین کی بالادستی،انسانی حقوق کی پامالیوں اور مہنگائی کے خاتمے تک جاری رہے گی،تحریک انصاف کے تمام کارکنان سے اپیل ہے کہ باہر نکلیں اور جیل بھرو تحریک کو کامیاب بنائیں، مخدوم شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی ملائیکہ بخاری اور کنول شوذب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی، اسد عمر ، مراد راس، اعظم خان سواتی سمیت دیگر قائدین کی گرفتاری پر فخر ہے ، کل تک جو پیشیاں مانگ رہے تھے آج ہم نے ان کو گرفتاریاں دی ہیں،ہم قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481