پاک فوج کے میجر جنرل فاروقی کی "بڑھاپے” کی شادی نہایت دھوم دھام سے ہوئی. راولپنڈی چھاؤنی کے گرد واقع سبزہ زار میں محفل آراستہ کی گئی. حفیظ جالندھری کو سہرا پڑھنے کے لیے بلایا گیا. حفیظ صاحب نے دولہا کی عمر کے حوالے سے طنز و مزاح کا پیرایہ اختیار کیا.
محفل میں شریک فوجی افسروں کو یہ بات ناگوار گزری کہ ایک شاعر نے میجرل جنرل کی تفریح لی. انہوں نے حفیظ جالندھری کو اٹھا کر تالاب میں پھینک دیا. حفیظ صاحب ڈوبتے ڈوبتے بچے. پانی کی سطح پر صرف ان کی ٹوپی تیر رہی تھی.
ایک رحمدل فوجی افسر کرنل مسعود احمد کے دل میں نیکی آگئی اور وہ غرقاب شاعر کو تالاب سے کھینچ کر کنارے تک لائے. حفیظ صاحب بھیگے کپڑوں میں کانپتے جسم کے ساتھ مائیکرو فون کی طرف گئے اور تم پر لعنت ہو کہہ کر محفل سے رخصے ہوئے. حفیظ ہوشیارپوری نے حفیظ جالندھری کے اس شعر سے ان کی غرقابی کی تاریخ نکالی.
جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں
وہاں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں
