اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مادری زبان سے محبت، انسانی شناخت کا بنیادی ستون ہے

images 62

وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس نے تاریخ عالم میں حیرت انگیز کارناموں کو جنم دیا ہے۔ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے صدیوں سے جانوں کے نذرانے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ کوئی ذی شعور شخص اپنی ثقافت، زبان اور اقدار سے عدم وابستگی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔  ہر انسان اپنی استطاعت کے مطابق مادرِ وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ مجاہد جان کا نذرانہ پیش کر کے اس محبت کا اظہار کرتا ہے، جو سب سے معتبر اور بے مثل نذرانہ ہے۔ استاد ، ڈاکٹر، انجنئیر، تاجر، صحافی، فنکار، کھلاڑی غرضے کہ ہر شعبے سے وابسطہ انسان ملک کی محبت سے سرشار ہوتا ہے ۔ یہ محبت کا ایسا گیت ہے جس کا ہر سر بے مثال ہے۔ معلّم کا بچوں کے مستقبل کو سنوارنا گیت ہے۔ انجنئیرز کا خوبصورت عمارتیں تعمیر کرنا گیت ہے۔ صفائی پر مامور شخص کا صفائی کرنا، چوکیدار کا اپنی نیند حرام کر کے دوسروں کے لیے سکھ کی نیند ممکن بنانا گیت ہے۔ چاٸے کے ڈھابے پر پہروں کھڑے رہ کر تھکے ماندوں کو کڑک چاٸے پلانا گیت ہے۔

ایک منفرد گیت "رسول حمزا توف” نے بھی گایا ہے، جس کا نام "میرا داغستان” ہے۔ مجھے کتابوں پر تبصرہ کرنے کا ہنر آتا ہے اور نہ ہی میری علمی استعداد اتنی ہے کہ میں عالمی طور پر معتبر اس ادبی شخصیت کی شہرہ آفاق کتاب پر کوئی تبصرہ کر سکوں۔ لیکن مجھے میرے دل نے مجبور کیا کہ مجھے "رسول حمزہ توف” کے لیے نہ سہی وطن کے لیے تو کوئی گیت بہرحال گانا چاہیے۔ اگر میرے الفاظ ٹوٹے پھوٹے ہیں تو کیا ہوا، محبت تو ٹوٹی پھوٹی نہیں۔۔۔۔ محبت تو ہر رنگ میں کامل ہوتی ہے ۔

اب آپ جان گئے ہیں کہ مذکورہ بالا کتاب رسول حمزہ توف نے اپنے وطن کے بارے میں لکھی ہے۔ اس میں انداز بیاں نہایت دلکش اور سادہ اختیار کیا گیا ہے۔ آپ کو کتاب پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہو گا جیسے رسول آپ کے دل کی بات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔  رسول حمزہ توف کا داغستان آپ کو اپنے ہی کوہسار کا قصہ لگے گا۔ بے شک دو الگ الگ ملکوں کے باشندوں کے رہن سہن میں فرق ہوتا ہے لیکن وطن سے محبت، اپنے آبائی علاقے سے محبت اور خاص طور پر اپنی مادری زبان سے محبت تو آفاقی جذبے ہیں۔ مجھے میرا داغستان پڑھتے ہوئے ایسا لگا جیسے کوئی "ہیر وارث شاہ ” گا رہا ہو۔ جب وہ اپنے علاقے کی رسموں کا ذکر کرتا ہے تو مجھے بھنگڑا، خٹک ڈانس، جھومر، سمی، گدا،  لڈی ضرور یاد آ جاتے ہیں۔ رسول اپنے وطن کے بارے میں ایسے پیرائے میں بتاتا ہے جیسے ماں کوئی لوری سنا رہی ہو۔ جیسے کوئی نانی دادی اپنے بچوں کو کہانی سنا رہی ہو۔ اتنا خوبصورت گیت لکھ دیا ہے حمزہ توف نے کہ مجھ جیسا بے سرا بندہ بھی گائے تو گیت کی تاثیر کم نہ ہو۔

رسول حمزہ کا بچپن پڑھتے ہوئے آپ کو اپنا بچپن یاد آ جائے گا۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کی کی باتیں آپ کو اپنی واردات لگے گی۔  ہاسٹل کی پر لطف زندگی کی یادیں آپ کو اپنے عہد ماضی میں لے جائیں گی۔ رسول کا کمال یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ میں وہ اپنے قاری کو اپنے ساتھ محو سفر رکھتا ہے۔ کبھی وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے حال کی سختیوں کو بھول کر خوش نظر آتا ہے تو کبھی دوستوں کی محفل میں دنبے کے گوشت سے محظوظ ہوتا نظر آئے گا۔  کبھی حمزا توف آپ کے ساتھ آپ کے گاؤں کی سیر کو نکل جائے گا۔  کبھی وہ چپکے سے آپ کے کان میں آکر ایسی راز کی بات بھی بتائے گا جو اج تک اپ نے کسی کو نہیں بتائی ۔ وہ آپ کی پہلی محبت سے لےکر آخری محبت تک سارے سفر میں ساتھ رہے گا۔ وہ آپ کو آپ کے بھولے بسرے دوستوں سے بھی ملائے گا۔ آبا و اجداد سے تو اپ کا ایسا مثالی انسلاک کرا دے گا کہ دوبارہ آپ کبھی اس کیفیت سے نکل نہیں سکیں گے۔  اور جاتے جاتے آپ کو ایک تحفہ بھی دے کر جائے گا۔۔۔۔۔ اپنے وطن سے محبت اور وطن پر فخر کرنے کے عملی اظہار کا تحفہ۔  وہ سلام پیش کرتے ہوئے اپنے داغستان واپس چلا جائے گا، جہاں اس کا سب کچھ یے ۔

کتاب تو ساری ہی باکمال ہے لیکن ان سطور کو مجھے لگتا ہے جیسے آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور خاص طور پر ہمارے لیے لکھا گیا ہے۔۔۔۔۔

’’جب ادب اپنے باپ دادا کی غذا پر پلنا چھوڑ دیتا ہے اور دوسرے ملکوں سے غذا حاصل کرنے لگتا ہے ، جب اس کے رشتے اپنی قوم کے رسم و رواج سے، زبان اور کردار سے ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ اپنی قوم کا وفادار نہیں رہ جاتا تو وہ مریض ہو جاتا ہے۔ اس کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں اور دنیا کی کوئی دوا اسے اس بیماری سے نہیں بچا پاتی۔”

اس کتاب کو ضرور پڑھیے اور جان لیجئے کہ وطن سے محبت ، مادری زبان سے محبت، اپنی روایات و اقدار سے محبت، اپنے لوگوں اور اپنی زمین سے انسلاک ہی کسی انسان کے زندہ ہونے کی نشانی ہے۔  یہ کتاب وطن کی محبت سے سرشار رسول حمزہ کی نثری کتاب نہیں بلکہ محبت کے سروں سے گایا ہوا لازوال گیت ہے جسے ہر زندہ انسان کے دل کو گانا چاہیے۔

Screenshot 20230213 234838 1
محمد نصیر عباسی

images 66


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481