اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اردو ادب کا درخشاں ستارہ ڈوب گیا، امجد اسلام سپرد خاک

330172910 585057359801336 1040639151310143179 n

اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر، دانشور ،نقاد اور ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کو جمعہ کی شام  لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں عزیز و اقارب، ادیبوں اور شعرا ،صحافیوں اور مرحوم کے چاہنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

امجد اسلام امجد کی نماز جنازہ ڈیفنس فیز ون کی جامع مسجد میں ادا کی گئی، جس کے بعد امجد اسلام امجد کا جسد خاکی تدفین کیلئے میانی صاحب لایا گیا۔واضح رہے کہ امجد اسلام امجد کو جمعہ کی صبح دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیو ثابت ہوا۔

امجد اسلام امجدنے 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ 1968ء تا 1975ء ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے۔ اگست 1975ء میں پنجاب آرٹس کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔نوے کی دہائی میں دوبارہ ان کی خدمات محکمہ تعلیم کے سپرد کر دی گئیں اور دوبارہ ایم اے او کالج میں ہی شعبہ تدریس سے منسلک ہو گئے۔ یہاں سے ان کی تعیناتی بطور ڈائریکٹر چلڈرن کمپلکس ہوئی اور وہیں سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لی۔ 1975ء میں ٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ مشہور ڈراموں میں وارث (ڈراما)، دن، فشار (ڈراما)، شامل ہیں۔ ایک شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں جبکہ افریقی شعرا کی نظموں کا ترجمہ کالے لوگوں کی روشن نظمیں کے نام سے لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے علاوہ تنقیدی مضامین کی ایک کتاب (تاثرات) بھی ان کی تصنیف کردہ ہے۔
امجد اسلام امجد نے اپنی شاعری کی بدولت دنیا بھر کے سفر کئے ، ہر جگہ ان کے چاہنے والے موجود تھے۔
انہیں دنیا بھر سے مختلف اعزازات بھی عطا ہوئے جن میں حکومت پاکستان کے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن ، اکادمی ادبیات، نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اورمجلس فروغ اردو کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
4 اگست 1944ء کو پیدا ہونے والے امجد اسلام امجد کا سفر 78 برس کی عمر میں 10 فروری 2023ء کو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر آنا ہے
اس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹہر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اسے اصل میں مر جانا ہے
بول اے شام سفر رنگ رہائ کیا ہے
دل کو رکنا ہے کہ تاروں میں ٹہر جانا ہے
کون ابھرپے ہوۓ ماہتاب کا راستہ روکے
اس کو ہر طور سوۓ دشت سحر جانا ہے
میں کھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے اسے اگلے نگر جانا ہے
وہ تیرے حسن کا جادو ہو کہ میرا غم دل
ہر مسافر کو اسی گھاٹ اتر جانا ہے
May be an image of 1 person
All reactions:

34

 

۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481