اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پشاور کی مسجد خون میں نہلا دی گئی

پشاور کی مسجد خون میں نہلا دی گئی

خودکش حملہ آور نے پشاور صدر کی پولیس لائنز میں واقع مسجد کو خون سے نہلا دیا۔ نماز ظہر کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں اب تک 28 افراد شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہیں جن میں سے دو درجن سے زائد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس لائن کی مسجد میں زیادہ تر نمازی پولیس اہلکار افسران اور ان کے خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہید ہونے والے زیادہ تر اہلکار پولیس کے ہیں۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں تھا نماز کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا دھماکا اس قدر خوفناک اور شدید تھا کہ مسجد کی چھت گرگئی اور مسجد تقریبا منہدم ہوگئی۔3

.
https://twitter.com/Oldpeshawar/status/1619992472553406465?s=20&t=nS1Q4CPmJMLXWWsQgsp-1g

 

واضح رہے کہ پولیس لائن صدر کا علاقہ ریڈ زون میں واقع ہے جو کہ حساس علاقہ ہے۔ اس کے قریب کئی حساس عمارتیں بھی واقع ہیں جن میں سی ٹی ڈی کا دفتر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پشاور پولیس کے سربراہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا دفتر بھی قریب ہی موجود ہے جبکہ گورنر ہاؤس بھی تھوڑے سے فاصلے پر ہے۔ عام طور پر علاقے میں سیکورٹی انتظامات سخت ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود حملہ آور اندر کیسے پہنچا اس حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دھماکے  کے فورا بعدریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا گیا۔ واقعے کے بعد پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ زیادہ تر زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا گیا۔ دھماکے کے بعد نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا۔

 

 

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر زخمیوں اور شہداء کو نکالا جا چکا ہے تاہم اب بھی مسجد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کے وقت مسجد کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481