اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مسلمانوں کا زوال اور ہماری ذمہ داریاں

FB IMG 1674875625696 1

مسلمانوں کا زوال اور ہماری ذمہ داریاں

آخری الہامی کتاب یعنی قرآن مجید کی موجودگی میں اور ایک آفاقی پروگرام رکھنے کے باوجود بدقسمتی سے آج مسلمان پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے۔ اگر اس زوال و پستی کا ایک بڑا سبب تلاش کیا جائے تو وہ مسلمان کا قرآن کے آفاقی پروگرام سے اعراض ہے۔

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال

اسلام کا نچوڑ فلسفہ "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” ہے۔ جب کوئی قوم اصل اور اصول کو چھوڑ کر محدود تصورات میں الجھے گی تو نتیجہ وہی ہو گا جو آج پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مسلمان جب عدل سے دور ہو گا،  صدق و صفا کا پیکر نہیں ہو گا تو ہر شعبہ حیات میں اس کی ناکامی تعجب کی بات نہیں ہے۔

علم کے میدان میں آج مسلمان سب سے پیچھے ہے۔ وہ تحقیق کی ترتیب تہجی سے بھی واقف نہیں۔ نظام معیشت کے لیے کبھی سرمایہ داری اور کبھی اشتراکیت میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔  سود کو اسلامائز کر کے مجبوریوں میں ملفوف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ سود کو اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ اور رسول سے جنگ مول لے کر ترقی کیسے ممکن ہے؟

آج کیوں کہ مسلمان بے وقعت ہے۔ مسلمان دنیا میں لیڈرشپ کے معاملے میں سنگین قحط الرجال ہے۔ اس لیے مہذب ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے والی مغربی دنیا کہیں اسلام کو بدنام کر رہی ہے، کہیں پیغمبر اسلام کی توہین اور کہیں آزادانہ قرآن مجید، فرقان حمید کی بے حرمتی کر رہی ہے۔ لیکن کمزور اور بے وقعت مسلمان “مذمت” کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

سیاست، معیشت، علم و تعلم، سائنس و تحقیق۔۔۔۔ غرض ہر شعبے میں ہم دوسروں کے محتاج ہیں۔ واللہ۔۔ آپ کی عبادات سے کسی کو کوئی غرض ہے اور نہ ہی خوف اور ڈر۔ ہاں۔۔۔ اگر خوف ہے تو یہ کہ مسلمان کہیں قرآن کا فلسفہ حیات نہ اپنا لے کہ پھر اسے دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ہو اگر خود نگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
علامہ اقبال

نئی نسل کو قرآن کا پیغام سمجھائیں۔ اسے احساس کمتری سے نکالیں۔ اسے اپنی تاریخ سے روشناس کروائیں۔‌ اسے علم ہی نہیں کہ جس مغرب سے وہ مرعوب ہے دراصل اس کی حقیقت وہ نہیں ہے جو نظر آ رہی ہے۔

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر
علامہ اقبال

آج اگر مسلمانوں کو زوال کے پاتال سے نکلنا ہے اور ترقی کی منازل طے کرنی ہیں تو عہد جدید کے تقاضوں کو سمجھیں۔ کوانٹم فزکس سے لے کر آئی ٹی اور اے آئی کے میدان میں خود کو آگے لے کر آئیں۔ نظم و ضبط ، محنت و ریاضت اور علم و تحقیق کو اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ بہ صورت دیگر غیر آپ کی کتاب کی، آپ کے دین کی، آپ کے رسول کی بے حرمتی کرتے رہیں گے اور آپ قہر درویش برجان درویش کے مصداق اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر عاشق رسول بننے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے۔

قران کی حرمت اور عظمت کا حق ادا کرنا ہے تو علم اور ترقی میں دنیا کے امام بنیں۔

گر تو میخوائی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن
علامہ اقبال

نعمان عباسی ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481