اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک معاشی غارت گر کی کہانی ۔۔ جان پرکنز

Confessions of An Economic Hitman Cover

جان پرکنز کی کتاب "کنفیشنز آف این اکنومک ہٹ مین” جدید سامراج کے اصل چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے۔ وہ غیر ترقی یافتہ ممالک کی معاشی بدحالی کے اسباب ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب کا اردو ترجمہ "ایک معاشی غارت گر کی کہانی” کے نام سے بک سٹالز پر دستیاب ہے۔ جان پرکنز کا کمال یہ ہے کہ وہ سامراج کی لوٹ کھسوٹ کو تاریخی حوالوں کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔

کارپوریٹو کریسی (آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، دیگر عالمی مالیاتی ادارے) ترقی کے خواب دکھا کر قدرتی وسائل کے حامل غیر ترقی یافتہ ممالک کو قرضوں کے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ ان کے معاشی غارت گر (ایکنومک ہٹ مین) کنسلٹنٹ کے طور پر ایسے ممالک میں وارد ہوتے ہیں۔ ان کے حکمرانوں کو ان کے ممالک کی موجودہ صورت حال کا موازنہ مغربی ممالک سے کر کے ایسی بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں کہ غیر ترقی یافتہ ممالک ان کی منصوبہ سازی بلکہ جعل سازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک بار اگر کوئی ملک ان کے جال میں پھنس جائے تو پھر اس کی آزادی کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔

کارپوریٹو کریسی مغرب کے ذہین ترین لوگوں کو کنسلٹنٹ کے طور پر ملازم رکھتی ہے۔ وہ انھیں وہ سہولیات دیتی ہے جن کا تصور کرنا بھی کسی اور ملازمت میں ممکن نہیں۔ پھر شان و شوکت، سیر و تفریح، اعلی عہدیداروں اور حکمرانوں تک رسائی اس ملازمت کو مزید پرکشش بنا دیتی ہے۔ لیکن جب یہ کنسلٹنٹ اس عالمی معاشی دہشت گرد گروہ کا حصہ بن جاتے ہیں تو ان پر کھلتا ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ان کا بھی اس جال سے نکلنا اب ممکن نہیں۔

کارپوریٹو کریسی ایک عالمی معاشی دہشت گرد مافیا ہے۔ انھوں نے جنگ کو ایک انڈسٹری بنایا اور پوری دنیا میں امن کے خلاف منظم منصوبہ بندی کی۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی انڈسری جنگ کی انڈسٹری ہے۔

افغانستان کی جنگ ہو، ایران عراق جنگ ہو، یمن سعودی عرب چپقلش ہو، شام کی تباہی ہو، مسئلہ فسلطین ہو یا مسئلہ کشمیر ہو پس پردہ کارپوریٹو کریسی اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ کہیں بھی کوئی امن کی سنجیدہ کوشش ہو گی تو یہ مافیا اسے ناکام بنا دے گا۔ کیونکہ نفرت، دشمنی، عداوت اور مخالفت کا ماحول ہو گا تو جنگ کے امکانات موجود ہوں گے اور جنگ کے امکانات ہوں گے تو ہتھیار بکیں گے۔ ہتھیار بکیں گے تو کارپوریٹو کریسی کو غریب ممالک کے وسائل کو اپنے قبضے میں رکھنے کا دائمی موقع میسر رہے گا۔

پاکستان کی مثال لے لیجیے۔ اگر ہم بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کا آزادانہ استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں تو ہم دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتے ہیں۔ لیکن کارپوریٹو کریسی نے ہمارے ہی لوگوں کو خرید رکھا ہے۔ وہ بلوچستان کی ترقی کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ وہ ان وسائل کے آزادانہ استعمال کی کوشش کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیں گے۔

پاکستان کی معاشی صورت حال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ اب عام آدمی کے وسائل صرف خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو گئے ہیں۔ تعلیم، صحت، اور دیگر بنیادی ضروریات کا تو ذکر ہی چھوڑیے۔ لیکن اشرافیہ کے طرز زندگی میں قطعا کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آئی ایم ایف اپنی شرائط سخت سے سخت ترین کیے جا رہا ہے لیکن وہ اشرافیہ کی مراعات کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ حال آں کہ اگر اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہو جائیں تو پاکستان کے لیے قرضوں سے چھٹکارا کار مشکل نہیں ہے۔ لیکن دراصل آئی ایم ایف اس سلسلے کو باقی و برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہی مراعات یافتہ طبقہ اس کا تنخواہ دار ملازم بھی ہے۔ وہ اصل میں کارپوریٹو کریسی کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ پاکستانی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور عہدہ تو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تنخواہ دار پاکستان کی وزارت عظمی پر براجمان کروا کر بھی اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

آج پاکستان جیسے زرعی ملک میں اگر آٹے جیسی بنیادی ضرورت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے اور مسندوں پر بیٹھے ہمارے بادشاہوں اور شہزادوں کو ایک دوسرے کے خلاف ریشہ دوانیوں سے ہی فرصت نہیں ہے تو ان مشکلات سے نکلنے کی راہ کون دکھائے گا؟

اصل آزادی تبھی ممکن ہے جب ہم کارپوریٹو کریسی کی غلامی سے آزاد ہوں۔ لیکن ان کی تنخواہ دار تو ہماری اسٹبلشمنٹ ہے جو ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہم پر مسلط ہے۔ تو پھر آزادی کے لیے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟؟؟؟

Picsart 23 01 27 09 38 34 184

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481