اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاعری ۔۔۔۔۔۔ لامحدود سمتوں کا اقلیدس

792dd9db 481e 4b5c b3ca f78f22fa1eba

شاعری ارضی راستوں کو سماوی فاصلوں میں طے کرنے کا نام ہے۔ کبھی کبھی یہ فاصلے اتنے پھیل جاتے ہیں کہ مروج زمینی پیمانے انھیں ناپنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ یا مقام ہوتا ہے جہاں آ کر تخلیق کار چپکے سے وقت کی لائٹ کونز (Light Cones) میں داخل ہو کر بیک وقت تینوں زمانوں میں جینے لگتا ہے، اور اس ماورائی کیفیت میں وہ زبان کے ایسے انوکھے اور نئے سانچے وضع کرتا ہے جن میں ڈھل کر الفاظ فکری اور جمالیاتی امتزاج کا اعلی و ارفع پیکر بن جاتے ہیں۔ اسے آپ ارفعیت اورجامعیت بھی کَہ سکتے ہیں۔

پیش کش کے اعتبار سے شاعری ایک ایسے ماحصل کی طرح ہے جس کے خام مواد کو شاعر اپنے داخل کی ریفائنری میں تصعید و تجلیل کے نہایت پیچیدہ عمل سے گزارتا ہے۔ محسوسات کی سطح پر شاعری ایک ناتمام سچائی ہے، اصل کا محض دھندلا سا عکس اور بعض حالتوں میں قول محال یا متناقض بالذات یعنی پیراڈاکس۔ پورا سچ کون لکھ سکتا ہے ! اور پورا دکھ کون بانٹ سکتا ہے ! شاعری میں راست لکیروں کے بجائے علامتوں ، دائروں، قوسوں اور کثیر جہتی سطحوں کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ناپنے ، جانچنے ، پرکھنے کا کوئی حتمی کلیہ موجود نہیں۔ تاہم معیاری اور غیر معیاری اور سچی اور جھوٹی شاعری کے بیچ چند وضع کردہ بنیادی اصولوں یا پیمانوں کے علاوہ بھی کوئی نہ کوئی حدِ فاصل ضرور ہوتی ہے اور آفاقی سچائیوں، آفاقی شاعری کے راستے کہیں اسی حدِ فاصل سے پھوٹتے ہیں۔

اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ سچی اور معیاری شاعری وہ ہے جس میں آفاقیت ہو۔ لیکن یہ بات بھی صرف ایک حد تک یا ضمنی طور پر درست ہے، حتمی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ شاعری محض چند اوزان و بحور کی پابندی کا نام نہیں، یہ تو لاتعداد اور لامحدود سمتوں کا اقلیدس ہے۔ اس کا اپنا علامتی و استعاراتی اور فکری و ثقافتی نظام ہوتا ہے، پیکر تراشی ہوتی ہے، اسرار و رموز کی ، محسوسات کی ایک انوکھی دنیا ہوتی ہے جو بیک وقت فرد، سماج اور کائنات کے ظاہر و باطن سے منسلک ہوتی ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کی رو میں شاعری کئی اطراف میں سفر کرتی ہے۔ اس کا کوئی ایک نقطہ اتصال تلاش کرنا، معیار کے کسی ایک ثقہ سانچے میں ڈھال کر کوئی حتمی تعریف بیان کرنا مشکل ہے۔ شاعری ہمیشہ ہی سے کائنات اور انسان کے اندر موجود ہے۔ اظہار کی سطح پر یہ کب اور کیسے الفاظ کا روپ دھار لیتی ہے، یہ ہر شاعر کا انفرادی زائیدہ ہوتا ہے۔….


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481