اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہاجی مر گئے!!

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 612x430 1

ساتھ کتنا ہی کیوں نہ رہے آخر چھوٹتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے واسطے سے کہلا بھیجا تھا ”آپ جتنا چاہتے ہیں زندہ رہیں لیکن آپ کو مرنا ہے اور جس سے چاہیں محبت کریں لیکن ایک دن اس سے بچھڑنا ہے“۔ یہ زندگی وصل و فراق ہی سے عبارت ہے۔قطرے کو موتی بن کر سیپ سے جدا ہونا پڑتا ہے، کرن کو روشنی بن کر سورج کو چھوڑنا پڑتا ہے، دنیا کے آنگن کو سجانے اورمہکانے کے لیے پھول کو ٹہنی سے اور خوشبو کو پھول سے نکلنا پڑتا ہے۔ ”ملنا بچھڑنا رِیت یہی ہے“ لیکن اس ریت کا الم ناک حصہ یہ ہے کہ بلبل کواپنے گیت فراموش کر کے گُل کے پیچھے رونا پڑتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مطیع صاحب نے یوں بیان کیا تھا:
دل کا موسم خزاں کی زد میں ہے گیت آہ و فغاں کی زد میں ہے
شِیو کمار بٹالوی نے اس مضمون کو یوں ادا کیا:
مائے نی مائے
میرے گیتاں دے نیناں وِچ
بِرہوُں دی رِڑَک پَوے
”ماں او میری ماں! میرے گیتوں کی آنکھوں میں جدائی کی چبھن ہوتی ہے“۔اسی نے کہا کہ اس دنیا میں آدھی آدھی رات کو اٹھ کر اپنے مرے ہوئے پیاروں کو رونا پڑتا ہے اور کوئی کیا کرے کیسے نہ روئے اور کیوں کر نہ روئے کہ پیار و محبت اور رونے دھونے کا ساتھ ہمیشہ سے ہے:
پِیڑے نی پِیڑے
ایہ پیار ایسی تتلی ہے
جہڑی سدا سُول تے بَہوے
”درد ہائے او درد! یہ محبت ایسی تتلی ہے جو ہمیشہ جدائی کی سولی پہ ٹنگی رہتی ہے“۔تواس جدائی نے کتنے سجیلے جوانوں اور کتنی الہڑ مٹیاروں کو فنا کی کشتی پہ بٹھا دیا کہ احمد مشتاق کو حیرت سے کہنا پڑا:
کتنے پر امید کتنے خوبصورت ہیں یہ لوگ کیا یہ سب بازو یہ سب چہرے فنا ہو جائیں گے
ہم چلے تھے مرنے والے کا ذکر کرنے لیکن موت کا ذکر چھیڑ بیٹھے تو ہم گاؤں بھرکے پہاجی کا ذکر کرتے ہیں۔ہمارے تایا جناب محمد داد خان کے چھوٹے بیٹے نسیم الحق، رنگ کے اچھے ہونے کے باوجود پہلے تو کالا پہاجی کے نام سے مشہور ہوئے لیکن جب ان کی چادرِ کردار کی سفیدی نے نظروں کو خیرہ کیا تو پھر ہمیں کالا پہاجی کہنا مشکل لگنے لگا۔ پھر بعض نے ان کو اصل نام نسیم الحق سے پکارنا شروع کیا اور بعض نے ان کو پہاجی کہنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ سارے گاؤں کے پہاجی بن گئے۔

ہنس مکھ اور خوش مزاج، ہنسی مذاق میں ایسی مہارت اور بے ساختگی کہ روکھے پیکھے لوگوں کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیں۔ہم عمر تو ہم عمر، چھوٹوں اور بڑوں سے بھی مذاق کیا کرتے تھے لیکن اس میں حفظ مراتب کا خاص خیال رکھاکرتے تھے۔گاؤں کی زندگی میں مہمانداری ایک اہم کام ہوتا ہے۔ خوشی غمی کے موقع پر لوگ دور دراز سے آتے ہیں۔ مہمانوں کی خدمت کرنا، انھیں بٹھانے کے لیے اڑوس پڑوس سے کرسیاں، کھانے کے برتن جمع کرنا،پانی بھروانا، اپنی نگرانی میں کھانا تیار کرانا، مہمانوں کو کھانا کھلانا اور پھر برتن سمیٹ کر دھلائی کے لئے خواتین کے حوالے کرنا، کس مہمان نے کھانا کھایا ہے اور کس نے نہیں یہ سب پہاجی نے سنبھالا ہوتا تھا۔

بچوں کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور بچے بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ جب ہماری مسجد میں ان کی وفات کا اعلان ہوا تو میری سات سالہ بیٹی زار وقطار رونے لگی۔ آج صبح پتا چلا کہ جب یہ ان کے گھر جایا کرتی تھی تو وہ اس سے باتیں کرتے اور کہتے کہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے تم میری بیٹی بن جاؤ“ اور کئی دفعہ اس کو کنگھی کرا کر بھیجا کرتے۔میرا خیال ہے ہم بھائیوں میں شاید وہ سب سے کم پڑھے لکھے تھے۔ لیکن ان میں بعض غیر معمولی خوبیاں ان کی ڈورِ کردار کو سیرت رسول سے ملا دیتی تھیں۔ کل ایک صاحب ان کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ جی وہ بہت سوشل تھے تو مجھے سخت اعتراض ہوا میں نے کہا آج کل اکثر و پیشتر سوشل ہونا فیشن ہے جب کہ ہمارے پہاجی تو ہمدرد اور غمخوار تھے۔”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“ کی مثال۔

کئی دفعہ ہماری والدہ مرحومہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ہماری تائی جان کی بیٹی ایک ہی تھی اور وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔تائی جان بہت زیادہ بیمار رہا کرتی تھیں تو گھر کے کام کاج میں نسیم الحق بھائی ہی ا ن کا ہاتھ بٹایا کرتے حتی کہ جھاڑو تک دے دیا کرتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں مَردوں کا دودھ دوہنا پہلے تو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا تھا اور اب بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ پہاجی نہ صرف اپنی بھینس بکری کا دودھ، دوھ لیا کرتے تھے بلکہ خوشی غمی کے مواقع پر اڑوس پڑوس تک کی بھینس کا دودھ بھی نکال دیا کرتے ۔ تو یہ اوصاف لاجواب ہیں اور ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے کام کاج خود کرتے، اپنے جوتے گانٹھ لیتے، اپنے کپڑوں میں سے جوئیں دیکھ لیا کرتے، نہ صرف اپنے جانوروں کا دودھ نکال لیا کرتے بلکہ دوسروں کے جانوروں کا دودھ بھی دوھ دیا کرتے اور اپنے گھر والوں کی خدمت کیا کرتے۔

پہاجی کی اس کردار سازی میں، میرا نہیں خیال کہ مکتب کی کوئی کرامت پوشیدہ ہو مجھے تو سراسر”فیضان نظر“دکھائی دیتا ہے جو ان کی والدہ کی خدمت گزاری کے صلے میں ان کا عطا ہوا تھا۔پہاجی اپنی والدہ کی ایک خاص خدمت کیا کرتے تھے کہ ان کے سر میں جوئیں دیکھ لیا کرتے تھے۔ مجھے تو اس سعادت پر رشک آتا ہے اور وہ حدیث رہ رہ کہ یاد آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیدار ہوئے تو فرمانے لگے”میں نے جنت کو دیکھا اور وہاں کسی قاری کی تلاوت کی آواز سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں پھر حضور نے فرمایا کہ ہاں ماں کی خدمت کا یہی صلہ ملتا ہے۔حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ اپنی ماں کے خدمت گزارتھے اور ان کے سر سے جوئیں نکالاکرتے تھے،،ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی پہاجی کو حضرت حارثہ بن نعمان والا اجر عطا کرے۔پہاجی کی ذات میں بہت سی خوبیاں تھیں لیکن ان میں ایک بہت بڑی خامی اور برائی بھی تھی اور وہ یہ کہ اتنی جلدی ہم سے بچھڑ گئے:

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481