اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

طویل بریک ڈاؤن نے کاروبار زندگی جام کر کے رکھ دیا

rawalpindi 768x419 1

ملک بھر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے جہاں کاروبار زندگی کو جام کر کے رکھ دیا وہیں مختلف قسم کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔
صبح سات بجے سے شروع ہونے والا بریک ڈاؤن 11:00 بجے مکمل شٹ ڈاؤن میں تبدیل ہو گیا اور رات دس بجے تک ملک کے نصف حصے میں بھی بجلی مکمل بحال نہیں ہو سکی تھی ۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جزوی طور پر بجلی کی بحالی کا عمل مکمل ہوا تھا جب کہ کراچی الیکٹرک کمپنی کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں بجلی کی مکمل بحالی میں مزید بارہ سے چودہ گھنٹے لگیں گے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ فی الوقت کچھ نہیں کہہ سکتے کہ بجلی کب تک مکمل بحال ہوگی۔ کوشش کریں گے کہ اگلے 12 گھنٹے میں بحالی کا عمل مکمل ہو جائے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیر کی صبح بجلی کی بندش کو پہلے تو پاکستان کے عوام نے معمول کی کارروائی سمجھا تاہم جب کچھ دیر بعد موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بھی متاثر ہوا اور لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہوا تو مختلف شہروں میں ایک دوسرے سے رابطہ کر کے معلوم کیا گیا تو پتا چلا کہ ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہے۔اس کے ساتھ ہی افواہوں کا بازار بھی گرم ہو گیا اور لوگ مختلف چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ بجلی کن وجوہات کی بنا پر بند ہوئی ہے۔
بجلی کیوں بند ہوئی اس حوالے سے بھی متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔اگرچہ وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ وولٹیج میں کمی بیشی کے باعث ایک ایک کر کے سسٹم بند ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی سپلائی کا نظام محفوظ ہے کہ ان کی تحقیقات کر رہے ہیں اور بحالی پر کام جاری ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بجلی کا ملک گیر بریک ڈاؤن 2014 سے اب تک 9 ویں بار آیا ہے، بریک ڈاؤن کے باعث پورا پاکستان بجلی سے محروم ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق تیل اور گیس بچانے کے لیے متعدد پاور پلانٹس بند کئے گئے  تھے، 2 بار تربیلا سے خرابی شروع ہوئی، گڈو اور تھرمل پاور اسٹیشنز سے بھی مسئلہ خراب ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ہاوسز صبح 7 بجے چلائے تو انجینئرز اور متعلقہ حکام نے لاپرواہی برتی، لاپرواہی کے باعث فریکوئنسی آؤٹ ہوئی اور سسٹم بیٹھ گیا، سسٹم میں موجود 9 ہزار میگاواٹ بجلی کو نہیں سنبھالا جا سکا۔

لاہور سمیت صوبہ پنجاب کئی گھنٹے بعد اب بھی بجلی سے محروم ہے جبکہ کوئٹہ، جنوبی پنجاب اور کراچی میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ کچھ علاقوں میں شام گئے بجلی بحال ہونا شروع ہو گئی تھی۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481