اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

افسانہ۔۔۔ "مشاعرہ”

FaceApp 1660326089828 2

افسانہ۔  ” مشاعرہ ”

تحریر : راشد عباسی

سوشل میڈیا پر ہر طرف مشاعرے کا اشتہار نظر آ رہا تھا۔ کسی نے اگر کسی کے وصال کی اطلاع بھی دی تو کمنٹس میں کسی مشاعرے کے جنون میں مبتلا شاعر نے اپنے مشاعرے کا اشتہار ڈال دیا۔ یوں سوشل میڈیا پر سوائے اس ایک مشاعرے کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔

خدا خدا کر کے مشاعرے کا دن آ گیا۔  تین بجے مشاعرہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسکین ایک شاعر کا کرایہ دار تھا۔ اسے مالک مکان نے مشاعرے میں آنے کی دعوت دی، جسے رد کرنے کے بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ اس لیے اسے بادل نخواستہ جانا ہی پڑا۔ اس کا بہنوئی دوسرے شہر سے اس کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا چلتے چلتے اس کو بھی ہمراہ لے لیا۔ مشاعرے کے یہی دو سامعین تھے جو بروقت مشاعرہ گاہ پہنچے۔ مگر انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہاں پر بندہ، نہ بندے کی ذات یعنی ابھی ہو کا عالم تھا۔

چار بجے کے قریب کچھ شعراء تشریف لائے لیکن مسکین کے مالک مکان (شاعر) ان میں شامل نہیں تھے۔ ساڑھے چار بجے کے قریب مسکین کا انتظار ختم ہوا اور مالک مکان شاعر ہال میں جلوہ افروز ہوئے۔ مسکین کی جان میں جان آئی۔ لیکن ابھی بھی اکا دکا شعراء کی آمد جاری تھی۔

پانچ بجے مائک پر برآمدے میں گپ شپ میں مصروف اور لان میں سگریٹ نوشی کرنے والے شعراء کو ہال میں تشریف لانے کی درخواست کی گئی۔ لیکن اس پر کسی نے کان دھرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ناظم مشاعرہ کو خود اٹھ کر باہر جانا پڑا اور فردا فردا ہر شاعر کے پاس جا کر اسے ہال میں آنے پر راضی کرنے میں آدھا گھنٹہ مزید ضائع ہو گیا۔

ساڑھے پانچ بجے مشاعرے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ صاحب صدارت، مہمانان اعزاز اور مہمانان خصوصی کو سٹیج پر موجود دس بارہ نشستوں پر بلانے اور باقی ماندہ بیس شعراء کا تعارف کروانے میں پندرہ منٹ صرف ہوئے۔ ان میں کچھ ایسے شعراء بھی تھے جن کو بھلے دنوں میں ان کے کسی دوست شاعر نے ایک دو شعر ہدیتا دان کیے تھے جن سے وہ شہر میں ہونے والے ہر مشاعرے میں کام چلا لیتے تھے۔ ایک دو ان سے بہتر تھے، جن کے پاس ہدیہ کی ہوئی پوری ایک غزل تھی اور وہ نوے کی دھائی سے اس ایک غزل کے زور پر ہر مشاعرے کی زینت بنتے تھے۔

ناظم مشاعرہ نے تنظیم کے تعارف اور ہال میں موجود ایسی شخصیات جنھوں نے مشاعرے کے انعقاد میں مالی تعاون کیا تھا ان کو حاتم طائی ثابت کرنے میں پندرہ منٹ مزید ضائع کرنے کے بعد جب پہلے شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی تو گھڑیال کی چھوٹی سوئی چھ اور بڑی بارہ پر تھی۔

جیسے ہی پہلا شاعر کلام سنانے سٹیج پر پہنچا بجلی داغ مفارقت دے گئی۔ مشاعرہ گاہ میں جنریٹر کا بندوبست نہیں تھا اس لیے سب شعراء نے اپنے موبائل نکال لیے کہ "یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی”.

عین اسی لمحے مسکین کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون پر اس کی زوجہ محترمہ تھیں، جنھوں نے مہمان کو حبس بے جا میں رکھنے پر مسکین کی خوب عزت افزائی کی۔ اور فورا گھر آنے کا حکم صادر فرمایا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مسکین اپنے مہمان کو ہمراہ لیے چپکے سے مشاعرہ گاہ سے کھسک گیا۔ یوں یہ عظیم الشان مشاعرہ اپنے اکلوتی سامعین کی جوڑی سے محروم ہو گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481