اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

معاشرے میں شعور اور معیار زندگی بلند کرنے کے لئے ادب اور عوامی خدمت کا جذبہ ناگزیر ہے۔۔ نازیہ درانی

IMG 20230122 WA0201 1

گزشتہ روز فلاحی تنظیم بی سوشل آرگنائزیشن اور پشاور بار کونسل کے اشتراک سے پشاور ہائی کورٹ کے نیو بار روم کے ہال میں "رانه فکرونه” کے نام سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے کی. تقریب میں صبح دس بجے سے ہی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔

بی سوشل آرگنائزیشن کی چیئرپرسن معروف شاعرہ نازیہ درانی اور ان کے ساتھیوں نے استقبالیہ پر معزز مہمانوں کا خود گرم جوشی سے استقبال کیا۔ صدر محفل ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کی آمد کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز مولانا ایڈووکیٹ حامد الحق صاحب کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر عطاء اللہ عطاء،  اكبر يوسف خلیل ایڈووکیٹ اور مزمل خان مهمند ایڈووکیٹ نے انجام دیے۔ تلاوت کے بعد صدر محفل اور دیگر مہمانوں کو جن میں ڈاکٹر اظہار اللہ اظهار عزیز ، منیروال، پروفیسر اقبال شاکر ، ڈاکٹر شیر زمان سیماب ، ٹی وی سینئر آرٹسٹ نصراللہ خان آفریدی، ثمینہ ،قادر ، طارق آفریدی ایڈووکیٹ، اکبر یوسف خلیل ایڈووکیٹ، پرویز اقبال ایڈوکیٹ ، انور مروت بیگوخیل ، عطا اللہ جان ایڈوکیٹ، اور رحمان اللہ ایڈووکیٹ کو سٹیج پر براجمان ہونے کی دعوت دی گئی ۔
تقریب کی میزبان ،چیئرپرسن بی سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن ، نازیہ درانی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں سب مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔ تنظیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بی سوشل آرگنائزیشن بنیادی طور پر ایک فلاحی تنظیم ہے جو پورے ملک میں فلاحی سماجی سرگرمیاں کرنے میں مصروف عمل ہے۔ جس کا مقصد عوام میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں عوام کی دہلیز پر اُن کی مدد کرنا تنظیم کا نصب العین ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شاعر و ادیب اور فلاحی ادارے عوامی خدمت میں ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا،
"ہمارے سارے دوست جو اس تنظیم کا حصہ ہیں، ہمیں اپنی مادری زبان، اپنی قوم اور ثقافت سے محبت ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پشتو زبان و ادب کے لیے بھی کام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ نیز ہم ادبی سرگرمیوں کے بھرپور فروغ کا ارادہ رکھتے ہیں۔  ہمارے اغراض و مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ باقی فلاحی سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان اور خدمت قومی کا حق بھی ادا کر سکیں۔ یہ مشاعرہ بھی اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے”

انھوں نے محترم شعراء اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے انعقاد کو ممکن بنانے والے پشاور بار ایسوسی ایشن کے وکلاء اور بالخصوص بار ایسوسی ایشن کے صدر علی زمان صاحب کے جذبے اور تعاون کو سراہا۔ انھوں نے ایڈوکیٹ مزمل خان مہمند صاحب کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ پورے پروگرام میں انھوں نے بھرپور ساتھ دے کر مشاعرے کے انعقاد کو ممکن بنایا۔
عبداللطیف خان نے بی سوشل آرگنائزیشن کے اغراض و مقاصد کے بارے حاضرین کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ جناب عطاء رحمن عطاء نے بی سوشل آرگنائزیشن کے تمام اراکین کو نئی کابینہ کا حلف اٹھانے کے لیے سٹیج پر مدعو کیا اور نازیہ درانی کی سربراہی میں ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے نئی کابینہ کے اراکین کا حلف لیا۔
حلف اٹھانے والے اراکین میں نازیہ درانی، عطا الرحمن عطا، ملک اقبال پرویز، مزمل خان مہمند ایڈووکیٹ، انجینئر وقار احمد، عبداللطیف خان، اسد اللہ خان فضل حسین احمد خان شامل تھے۔
اسلام آباد سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان جناب سید مصطفی خان نے کامیاب مشاعرے پر تمام منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا اور مشاعرہ میں شرکت کا موقع دینے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

مشاعرے میں صوبے کے معروف شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کی کثیر تعداد کو بے حد محظوظ کیا۔ شعراء میں سید علی شاہ مشال، شاعرہ وسیم اختر ، ڈاکٹر انور علی انور، زار یوسفزئ، شمس مہمند، ڈاکٹر جلات خان ترخیلی،  احسان یوسفزئی، انور مروت بیگوخیل، ڈاکٹر شیر زمان سیماب، ڈاکٹر اقبال شاکر، ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار ، عزیز مانیروال ، ثمینہ قادر، نیلم آرزو، عطااللہ جان ایڈوکیٹ، زاہد الرحمن صیفی، مہراندیش، واصف اللہ داؤد زئی ، بخت نام خلیل ، پلوشہ رانی ایڈوکیٹ، افتخار حسین سمندر ایڈوکیٹ شامل تھے۔

مشاعرے کے اختتام پر صدر محفل ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے اپنے خطاب میں ہی سوشل آرگنائزیشن اور پشاور بار کونسل کو اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ اُنہوں نے نازیہ درانی کی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کے جذبے کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
بی سوشل آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری ملک اقبال پرویز اپنی بھرپور توانائی بروئے کار لاتے ہوئے مہمانوں کی عزت افزائی میں پیش پیش رہے۔  پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن عطا صاحب کے انداز نظامت، شعراء کے تعارف کے لیے الفاظ کے چناؤ اور آخر تک تقریب میں حاضرین کی دلچسپی قائم رکھنے پر بہت سراہا گیا۔
یاد رہے کہ نازیہ درانی کا نام ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ملک کے مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر اور مادری زبانوں کے ادبی میلوں میں بہت خوش اسلوبی سے اپنی مادری زبان کی نمائندگی کر چکی ہے۔ نازیہ درانی کے اب تک اردو شاعری کے دو مجموعے اور پشتو کےچھ مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر کی کئی کتب زیرِ اشاعت ہیں۔

مشاعرے کے بعد اباسین یوسفزئی، نازیہ درانی اور ایڈووکیٹ مزمل خان مہمند کے ہاتھوں شاعروں کو تعریفی اسناد اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی پُرتکلف چائے سے تواضع کی گئی۔

IMG 20230122 WA0200 1IMG 20230122 WA0199IMG 20230122 WA0203


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481