اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سونے کی خرید و فروخت کے حوالے سے رہنمائی

images 50

ہمارے اکثر پڑھے لکھے احباب بھی سونے کا زیور خریدتے وقت لٹ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہوتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل علم فی سبیل اللہ معلوماتی سیشن رکھیں اور عوام الناس کی رہنمائی فرمائیں۔

سونا خریدنے یا بیچنے سے پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ۔۔۔۔۔۔۔خالص سونا چوبیس قیراط کا ہوتا ہے۔

(قیراط سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار ہے)

ایک تولہ = 11.664 گرام
ایک تولہ = 12 ماشے

پاکستان میں 18 یا 21 قیراط کا زیور تیار ہوتا ہے۔ لیکن دور دراز دیہات میں اور کچھ شہروں میں بھی 15 قیراط کا زیور بھی تیار کر کے آگہی نہ رکھنے والے گاہکوں کو تھما دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 18 قیراط سونے کے زیور میں 25 فیصد ملاوٹ ہوتی ہے۔ یعنی آج کی قیمت کے لحاظ سے 45000 روپے کی کھوٹ ملائی جاتی ہے۔

پاکستان میں چند بڑے جیولرز کے علاوہ کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ہے۔ 22 قیراط صرف کراچی میں ایک دو جیولرز بناتے ہیں۔
زیادہ تر جیولرز 18 قیراط زیور بناتے ہیں۔ یعنی 135,000 کا سونا گاہک کو 180000 میں دے رہے ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والے سب سے اچھے زیور یعنی 21 قیراط کی بھی فی تولہ قیمت 158000روپے بنتی ہے۔ اس لیے ایک گاہک کے طور پر آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ایک تولہ ملاوٹ شدہ زیور 135000 یا 158000 کا ہے۔ اگر ہمارے جیولرز بھائی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی طرح بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو یہی زیور فی تولہ 180000 کا لگاتے ہیں تو انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔

اسی پر بس نہیں ہے، پالش کے نام پر مزید لوٹ کھسوٹ ہوتی ہے۔ آپ عام جیولرز کی رسید ملاحظہ کیجیے گا۔ آپ دیکھیں گے کہ پالش کی مد میں نو دس ہزار فی تولہ مزید اینٹھ لیے گئے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ مزدوری بھی شامل کی جاتی ہے۔ یعنی جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹ لو۔

ایک جیولر سے مکالمہ ہوا تو وہ صاحب جذباتی ہو گئے۔ فرمانے لگے

"اگر آج کا نرخ ایک لاکھ اسی ہزار ہے تو ہم اسی نرخ پر زیور تیار کر کے کیسے فروخت کر سکتے ہیں۔ ہم اخراجات کہاں سے پورے کریں۔۔”

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک جیولر سونے کے سارے معاملات واضح طور پر رسید میں درج کرے۔ اس پر دس، پندرہ فی صد سروس چارجز لگائے۔ مزدوری اسلام میں جائز بلکہ پسندیدہ ہے لیکن دھوکہ اور بددیانتی حرام ہے۔

اس لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زیور خریدتے وقت کسی بڑے برانڈ کا بنا بنایا گارنٹی والا زیور خریدا جائے۔ وہ آپ کو سرٹفکیٹ دیں گے کہ کتنے قیراط سونا ہے۔ اگر باہر سے منگوائیں تو اور بھی بہتر ہے۔

اگر زیور بنوانا ہی ہے تو جیولر سے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناؤ گے۔ اور 21 قیراط کے مطابق ہی قیمت لو گے۔ سروس چارجز طے کر لیں۔ نیز یہ بھی اس کی رسید پر لکھوائیں کہ زیور بیچنے کی صورت میں کوئی کٹوتی نہیں ہو گی۔

زیور تیار ہونے پر مشین کے ذریعے چیک کروائیں۔ کمی بیشی کی صورت میں اس جیولر کو بتائیں اور اگر وہ تعاون نہ کرے تو قانونی چارہ جوئی کریں۔

آپ کے علم میں ہو گا کہ اگر کسی وجہ سے زیور بیچنا پڑ جائے تو جیولر 2 یا 3 ماشے فی تولہ کٹوتی کرتا ہے۔ یعنی
قیمت تولہ = 180,000 روپے
قیمت ماشہ =15000
کل کٹوتی = 45000 فی تولہ۔

اگر آپ پانچ تولہ زیور فروخت کر رہے ہیں تو آپ کو دو لاکھ پچیس ہزار روپے کا نقصان اٹھانا ہوگا ۔ چاہے آپ نے یہ زیور پچھلے ہفتے خریدا ہو یا ایک دن پیشتر اور چاہے ایک بار بھی استعمال کیے بغیر جیولر کو لوٹا رہے ہوں۔

ہماری رائے میں مجبورا سونا بیچنا ہی ہو تو کسی اعتماد والے شخص سے سونے کی ڈلی بنوا لیں۔ یوں آپ کے پاس 24 قیراط سونا آ جائے گا۔ اسے اس دن کے نرخ پر فروخت کر دیں۔ آپ کو ہونے والا نقصان شاید اس طرح خاصا کم ہو جائے۔

images 44 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481