اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کیا شاہدخاقان عباسی نوازلیگ چھوڑ دیں گے؟ بڑادعوٰی سامنے آگیا

Shahid Khaqan Abbasi

راشد عباسی

کیا خطہ کوہسار سے تعلق رکھنے والی نامور سیاسی شخصیت اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ نواز کو خیرباد کہہ کر کوئی نئی جماعت تشکیل دے سکتے ہیں یاکسی اور سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں؟ بظاہر اس کا فوری امکان تو نظر نہیں آتا مگر اس حوالے سے گذشتہ کچھ عرصے سے جاری سرگوشیاں اور قیاس آرائیاں اب بلند آہنگ دعووں میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

گزشتہ روز ایک ٹی وی ٹاک شو میں پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنما اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دعوی کیا کہ شاہد خاقان عباسی کے مسلم لیگ نون کی قیادت کے ساتھ شدید اختلافات چل رہے ہیں اور وہ جلد ہی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی پارٹی قیادت کے بعض فیصلوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کھل کر کرتے ہیں جو قیادت کو پسند نہیں آیا اور اس کی وجہ سے انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید خاقان پہاڑ کا غیرت مند بیٹا ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔

0ce49f78 5374 4d1b aff7 4f0a54c7b831 1
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی اپنی پارٹی قیادت سے اختلافات کی خبریں سراسر بے بنیاد نہیں ہیں ، پارٹی کے اندرونی معاملات سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو فارغ کرکے شہباز حکومت اقتدار میں آئی ہے شاہد خاقان عباسی نے خود کو شہباز حکومت کے فیصلوں سے قدرے فاصلے پر رکھا ہوا ہے اور وہ پہلے کی طرح اب حکومت کا دفاع کرنے کے لئے ٹاک شوز میں بھی نہیں آتے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شاہد خاقان عباسی نواز لیگ کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت میں آنے کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو اس کے اپنے بوجھ سے ہی ختم ہونا چاہیے۔ کچھ ایسے ہی خیالات خود نوازشریف مریم نواز اور میاں جاوید لطیف سمیت چند دیگر لیگی رہنماؤں کے تھے تاہم اس وقت شہبازشریف اور ان کا ہم خیال گروپ پارٹی قیادت پر حاوی ہوگیا اور نواز شریف کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اگر ہمیں ایک ڈیڑھ سال کی حکومت ملتی ہے تو ہم آئندہ الیکشن کے لیے اپنی کامیابی کی راہ ہموار کر لیں گے تاہم بعد ازاں یہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اور مسلم لیگ نون کو یہ الزام بھی سہنا پڑا کہ انہوں نے کسی سازش کے تحت یا اسٹبلشمنٹ کی مدد سے عمران خان کی حکومت ختم کرکے اقتدار حاصل کیا ہے۔

لندن،نواز شریف اور مریم نواز جنیوا روانہ

نواز شریف اور مریم نواز ۔۔۔ فائل فوٹو

ان ذرائع کے مطابق جب معیشت کو سنبھالنے کا مرحلہ آیا اور 6ماہ تک پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سمیت کئی دیگر ناپسندیدہ فیصلے کرنے کے باوجود معیشت مزید ابتر ہوتی گئی اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر بے قابو ہوگیا تو معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اسحاق ڈار کا جادوئی ہاتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگر بات یہیں تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا مگر چھ ماہ تک معیشت کو سنبھالنے کی سرتوڑ کوششیں کرنے والے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو لندن بلاکر جس ذلت آمیز انداز میں ہٹایا گیا اور اسحاق ڈار کو خصوصی طیارے کے پروٹوکول کے ساتھ پاکستان لایا گیا اور پھر معیشت کی ابتری  کا سارا ملبہ مفتاح اسماعیل پر ڈال دیا گیا، تو اس وقت بھی شاہد خاقان عباسی مفتاح اسماعیل کی مدد کو آئے اور ان کا دفاع کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار سخت ناراض ہیں جو پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کے سمدھی ہونے کے علاوہ ان کے معتمد ترین ساتھی بھی ہیں، بلکہ کہا جاتا ہے کہ وہ کے حوالے سے کئی اہم فیصلوں میں وزیر اعظم کی منظوری حاصل کرنے سے زیادہ انہیں ” آگاہ” کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے میں اسحاق ڈار کی ناراضی شاہد خاقان کے لئے پارٹی قیادت کی ناراضی تصور کی جاسکتی ہے۔

2330793 hamzaandshahbaz 1654319528 149 640x480 1

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2017 میں پانامہ کیس میں میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد عمومی تاثر یہی تھا کہ بقیہ ڈھائی سالہ مدت کے لیے میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے گا اس کے لئے انہیں قومی اسمبلی کی کسی نشست سے ضمنی الیکشن لڑایا جا سکتا تھا یا پھر کسی سینیٹر کو مستعفی کرکے انہیں ایوان بالا کا رکن بنایا جا سکتا تھا تاہم اس وقت یہ کہا گیا کہ شہباز شریف کو پنجاب میں کئی بڑے منصوبے مکمل کرنے ہیں لہذا وہ وزارت اعلیٰ نہیں چھوڑنا چاہتے، تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی پورا سچ نہیں تھی۔

ادھر وزیراعظم بننے کے بعد شاہد خاقان عباسی "بائی بک” چلتے رہے، وہ حکومتی امور میں نا تو زیادہ مداخلت پسند کرتے نہ لمحہ بہ لمحہ پارٹی قیادت کو معاملات سے آگاہ کرکے "فدویانہ احسان مندی” کے اظہار کا مزاج رکھتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کی یہ ادا بھی شریف خاندان کے بعض اہم لوگوں کو پسند نہیں آئی۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ بد اعتمادی یا ناچاقی کی نئی دراڑ اس وقت پیدا ہوئی جب چند روز پہلے مریم نواز کو سینئر نائب صدر کا عہدہ تفویض کیا گیا اور عملی طور پر پارٹی کی کمان انہیں سونپ دی گئی۔اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی سمیت تین دیگر افراد سینئر نائب صدر کے عہدے پر کام کر رہے تھے تاہم اس اہم فیصلے کے حوالے سے ان سے مشاورت ضروری نہیں سمجھی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے پر شاہد خاقان عباسی سمیت کئی دیگر لوگ بھی نالاں ہیں تاہم  اس کا کھل کر اظہار نہیں کر رہے۔

نواز لیگ کے اندرونی اختلافات کی باتوں کو اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا ایک گروپ قومی اتفاق رائے کے نام پر عوامی رابطہ مہم شروع کر رہا ہے۔ اس گروپ میں خود شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے علاوہ پیپلز پارٹی سے حال ہی میں فارغ ہونے والے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنما لشکری رئیسانی اور بعض دیگر ہم خیال شخصیات شامل ہیں۔ذرائع کا دعوی ہے کہ ہم خیالی کا یہ دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے اور آگےچل کر یہ گروپ کسی سیاسی جماعت کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، اگرچہ فی الوقت مفتاح اسماعیل سمیت دیگر لوگ اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔
کوہسار نیوز نے ان خبروں کی تصدیق کے حوالے سے ایک لیگی رہنما سے رابطہ کیا تو انہوں نے تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان باتوں کی تصدیق یا تردید کرنا تو مشکل ہے لیکن جہاں دھواں ہوتا ہے وہاں آگ نہ سہی ، راکھ میں چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481