کوہسار کے بعض دیہی علاقوں کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی اکثریت کا انداز فکر 70 کی دھائی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
- اس وقت سیاست میں کامیابی یا ناکامی کا دارومدار برادری ازم پر تھا۔
- لوگوں میں سیاسی کا شعور نہ ہونے کے برابر تھا۔
- عام آدمی کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں تھا۔
- احتساب کا کوئی تصور ذہنوں میں نہ تھا۔
- تعلیم ترجیح نہ تھی۔
- دین (اسلام کا سیاسی، معاشی اور عدل کا نظام) کے بجائے مذہبی معاملات کو ہی پورا دین سمجھا جاتا تھا۔
- باہمی اتحاد سے بھی اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے اور ارباب اختیار سے اپنے حق لینے کے بجائے لب بستہ غلام سرکار کی مہربانی کے منتظر رہتے تھے۔
- کوئی لیڈر شپ نہ تھی جو نئی نسل کو تعلیم (دینی اور سائنسی)، ہنر، سیاسی معاملات اور روزگار کے لیے تیار کرتی۔
عام دیہی آدمی کی زندگی گاؤں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل میں گزر رہی تھی۔ لہذا شہر کی سہولیات اور تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع دیکھتے ہوئے دیہات کی اکثریت شہر منتقل ہونے اور وہیں کا ہو کر رہنے کی طرف راغب ہوئی۔ یوں ایک ایک کر کے گاؤں اجڑتے گئے اور یہ سلسلہ بدقسمتی سے تاحال جاری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کا انداز فکر تبدیل کرنے کی شعوری کوششیں کی جائیں تاکہ وہ اپنے مسائل حل کرنے کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔ اگر دیہات میں بنیادی سہولیات موجود ہوں تو مہنگائی کے اس طوفان کے بعد شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کو مراجعت کے لیے راغب کرنا کار دشوار نہیں۔

