اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چھوٹے چور سے بڑے چور تک کتنے چور؟؟

14a28032 8911 42e3 a337 cdffd104217e 1

وقت کے ہاتھوں ان گنت فنون داستان ماضی ہوگئے۔ڈھاکا کی ململ بنانے والے ہوں ۔کراچی کی پیتل گلی میں ظروف پر گل بوٹے جگانے والےیا اخبار ات میں حروف کے نقش گر۔آج کی نسل انہیں نہیں جانتی
ایسا ہی ایک فن جیب تراشی تھا جس کے ماہر میں نے سب سے پہلے لاہور میں دیکھے۔ فن میں نے یوں کہا کہ جیب کاٹنے والے بھی کچھ اصول و قواعد کی پاسداری کرتے تھے۔یہ نصف صدی کا قصہ ہے کہ کرشن نگر میں سوری بلڈنگ سے سفر کا آغاز کرنے والی ایک نمبر اور دو نمبر بسیں دو مختلف راستوں سے اے آر بازار پہنچتی تھیں۔ہر بس میں ایک نوٹس چسپاں نظر آتا تھا۔ "اپنی جیبوں سے رہیں سارے مسافر ہشیار۔”

جو غالب کے زمانے کے اس شعر کی ترمیم لگتا تھا
اپنےجوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار

اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

میں جہاں سے بس پکڑتا تھا وہ جگہ ریلوے سٹیشن کے پاس تھی۔ میرے پڑوس میں بھی شرعی حلیے والے ایک خضر صورت۔ باریش پابند صوم و صلوٰۃ ” شاہ جی” رہتے تھے اور گلی میں ان کی بہت عزت تھی۔ وہ جیب کتروں کے گرو تھے۔یہ مشہور تھا کہ جیب کترے کا علاقہ بس میں سفر کرتے ہویےؑ پانچ میل تک ہوتا ہے۔اس کے بعد نیےؑ فنکار آجاتے ہیں جن کا گرو الگ ہوتا ہے۔ شاہ جی کا حلیہ اور اطوار ایسے تھے کہ کوئی ان سے سوال کرنا تو در کنار ان پر شک بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ ایک دن میری جیب پرریلوے سٹیشن کے بعد کسی نے ہاتھ صاف کیا۔اس روز مجھے تنخواہ ملی تھی تو میں محتاط تھا لیکن مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ میری نظر میں تو دنیا اندھیر ہوگئی کہ میں پرچون والے کے ادھار کا حساب نہیں چکاؤں گا تو وہ مجھے مزید ادھار نہیں دے گا۔پھر مہینہ کیسے گزرے گا۔ دودھ والے اخبار والے کو کیا دوں گا؟
گھر والی پر بھی یہ خبر قیامت بن کے ٹوٹی ۔ میں نے سوچا کہ آخر یہ واردات کہاں ہوئی۔ ریلوے سٹیشن سے میں نے بس بدلی تو پرس تھا۔ مگردوسری بس میں ٹکٹ لیتے وقت نہیں تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ شاہ جی کا علاقہ تھا۔ رات کو میں ان کے گھر جا پہنچا۔ انہوں نے بیٹھک کھول کے بٹھایا اور خیریت پوچھی تو میں نے کہا کہ” شاہ جی میں تباہ ہو گیا۔آج کسی نے میری جیب کاٹ کے مہینہ بھر کی تنخوہ نکال لی اور مجھے معلوم ہے یہ واردات ریلوے سٹیشن کے بعد ہوئی ہے”۔ ان سے یہ کہنا تو مشکل تھا کہ تم جیب کتروں کے سردار ہو،میری حلال کی کمائی واپس دلانے میں مدد کرو۔ لیکن وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیے۔ان کو یقینا” علم ہوگا کہ۔۔

؎کہتی ہے مجھ کو خلق خدا غایؑبانہ کیا

۔ وہ کچھ دیر کیلیےؑ اند رگیے اور لوٹے تو ان کے پاس آٹھ پرس تھے جو انہوں نے میرے سامنے رکھ دیےؑ اور بولے” اٹھا لیں اپنا پرس”
میں بھونچکا رہ گیا لیکن میں نے اپنا پرس اٹھا لیا اور رقم گنی تو پوری تھی۔یہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ میں گنگ ہوگیا۔ اتنی دیر میں اندر سے چایؑے بھی آگئی۔ میں نے بڑی مشکل سے کہا۔” شکریہ شاہ جی ”
شاہ جی نے میرے کندھے پر تھپکی دی”ہمسایہ ماں جایہ ہوتا ہے۔آپ یہ بات کسی سے نہیں کہیں گے”
جب میں کراچی پہنچا تو جیب تراشی کا دھندا عروج پر تھا۔دو بار مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ جیب کہاں صاف ہوئی۔ تیسری بار میں باؑییک کی قسط دینے جارہا تھا اور جیب میں ڈھائی سو روپے تھے جو اس وقت ایک تولہ سونے کی قیمت تھی۔(آج کے حساب سے دولاکھ روپے)۔ چنانچہ میں بہت محتاط تھا۔ اتفاق سے مجھے عقب میں کچھ سرسراہٹ سی لگی اور دیکھا تو پرس غایب ۔میں نے وہیں جیب کترے کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچادیا کہ اس نے میری جیب صاف کی ہے۔ جیب کترے کسی کے قابو نہیں آتے تھے اورچلتی بس سے کود کے فرار ہو جاتے تھے۔وہ 24 نمبر کی بس تھی جس میں پولی ٹیکنک کے طلبا بھرے ہویؑے تھے۔ انہوں نے مجرم کو گھیر کر ایمپریس مارکٹ پر اتار لیا ۔ تلاشی میں اس کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا تو لڑکوں نے اس کے گرد مضبوط حلقہ بنا لیا کہ وہ فرار نہ ہو سکےاوراسے جلوس کی صورت ایک کلومیٹر دورفریئرتھانے پہنچا دیا۔
تھانیدار نے میری فریاد پر رپورٹ تو کوئی نہیں لکھی مگرمجرم کے دونو ہاتھوں کی انگلیاں خوب دبا دبا کے دیکھیں ۔ پھر بولا” ہاں ہے تو پکاجیب کترا ما۔۔” پھر اسے مار مار کے ایک کونے میں مرغا بنادیا اور مجھ سے بولا” آپ دو بجے آیؑیں جی اور پرس لے لیں” ۔میں حیران پریشان یہ سوال بھی کیسے کرتاکہ جب پرس اس کے پاس سے برآمد ہی نہیں ہوا تو آپ مجھے کیا دیں گے؟
چھٹی کے بعددو بجے میں گیا تو نہ جیب کترا تھا نہ تھانیدار۔ محرر سٹول پر بیٹھے کسی شخص کی شکایت درج کر رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا،بات کئے بغیر دراز میں سے پرس نکال کے مجھے دیا اور اپنے کام میں لگ گیا۔
پرس میں صرف میرا آفس کا شناختی کارڈ تھا۔رقم نہیں تھی۔میں نے کہا” یہ تو خالی ہے ۔رقم کہاں گیؑ؟”
محر رغرایا”مجھے کیا معلوم پرس میں کچھ تھا یا نہیں۔ ایس ایچ او صاب نے کہا تھا کہ پرس دے دینا بندے کو”


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481