اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایڈوائس پر دستخط سے گورنر انکاری، پنجاب اسمبلی ازخود تحلیل ہو گئی

85213ac3 4d96 4712 9765 7d26b01e6aa8

گورنر پنجاب نے مقررہ وقت کے اندر وزیر اعلی کی جانب سے بھجوائی گئی صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس  پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ہفتے کی شب  دس بجے اسمبلی اور صوبائی کابینہ ازخود تحلیل ہوگئی ہے ۔واضح رہے کہ آئین کے مطابق اگر گورنر وزیر اعلی کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط نہیں بھی کرتے تو اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد اسمبلی کا وجود برقرار نہیں رہتا۔ سیاسی مبصرین اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ گورنر بلیغ الرحمان یہ بات جانتے بوجھتے بھی سمری پر دستخط کیوں نہیں کیے۔

balighurrehman

وزیر اعظم نے گورنر پنجاب کو وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روک دیا

تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا۔ ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں کیوں کہ آئین اور قانون میں صراحت کے ساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ دیا گیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنر نے اسمبلی کی تحلیل کے بعد پرویزالہی یا کسی دوسری شخصیت کو نگراں وزیر اعلی مقرر ہونے تک بطور وزیر اعلی کام کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی بلکہ آئین کے عین مطابق سابق قائد اعظم چوہدری پرویز الہی اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز سے کہا ہے کہ وہ دونوں اتفاق رائے سے نگراں وزیر اعلی کا نام انہیں تین دن کے اندر بھیج دیں۔ واضح رہے کہ نگران وزیر اعلی کے تقرر تک سابق وزیراعلی اس عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں جبکہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے اور نئی اسمبلی کے انتخاب تک اسپیکر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نگران وزیر اعلی کے تقرر تک پرویز الہی اس منصب پر کام کرتے رہیں گے۔

گورنر کی ایڈوائس غیر آئینی، سپیکر پنجاب اسمبلی نے رولنگ دے دی

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے عمران خان کل پرویزالٰہی سے ملاقات کریں گے۔ زمان پارک میں ہونے والی اس ملاقات میں نگران سیٹ کے لیے ناموں پر مشاورت ہوگی۔ بعد میں اتفاق رائے سے یہ نام گورنر کو بھیجے جائیں گے۔ واضح رہے کہ آئین کے مطابق نگران وزیراعلی کے لیے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف تین تین نام پیش کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی نام پر بھی اتفاق رائے نہ ہو تو پھر عدالت فیصلہ کرتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481