اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج معروف ترقی پسند شاعر احمد فراز کا جنم دن ہے

images 41

نوشہرہ، خیبر پختونخوا میں اپنے عہد کے نامور شاعر برق کوہاٹی کے ہاں 12 جنوری 1931 کو پیدا ہونے والے بچے سید احمد شاہ کو دنیا احمد فراز کے نام سے جانتی ہے۔

یوں تو احمد فراز نے اردو اور فارسی میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں لیکن ان کا تخلیقی ذہن ان کاغذ کے ٹکڑوں کے معیار سے بہت بلند تھا۔  عملی زندگی میں کئی اعلی اعلی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔  ریڈیو پاکستان میں سکرپٹ رائٹر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ لیکچرر رہے۔ نیشنل سینٹر کے ڈائرکٹر رہے۔ اکادمی ادبیات کے بانی ڈائرکٹر اور چیئرمین رہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد بھی رہے۔

جناب احمد فراز کو ”ہلال امتیاز” سمیت کئی ایوارڈ بھی ملے۔ لیکن جو ایوارڈ انھیں اپنے لوگوں کی محبت کی صورت میں ملا اسے وہ سب سے محترم گردانتے تھے۔

اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

ان کے بہت سے شعری مجموعے مقبول و معروف ہیں۔ جن میں تنہا تنہا، جاناں جاناں، درد آشوب، نایافت، سب آوازیں میری ہیں، بے آواز گلی کوچوں میں، آئینوں کے شہر میں نابینا، غزل بہانہ کروں، سخن آراستہ، اے عشق جنوں پیشہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ کلیات فراز بھی شائع ہو چکی ہے۔

سامراج اور آمریت کے خلاف احمد فراز کی شاعری ایک مضبوط اور توانا آواز بن کر دنیا کے سامنے آئی۔ ان کی شاعری احتجاجی نہیں انقلابی ہے۔ وہ اپنے عہد کے نباض تھے۔ یوں تو ہر شاعر ہی حساس ہوتا ہے لیکن احمد فراز کی ساری شاعری احساسات کی شاعری ہے۔ وہ اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ملک دو لخت ہوا تو وہ شدید دکھ سے نڈھال ہو گئے۔ ہے بہ پے مارشل لاؤں نے جب جمہوریت پر شب خون مارے تو کوئی ڈر، کوئی خوف، کوئی لالچ احمد فراز کی شاعری کی آواز کو خاموش نہ کروا سکا۔

اردو شاعری کی تاریخ میں شاید ہی مقبولیت کے اس درجے تک کوئی اور شاعر پہنچ سکے جہاں احمد فراز براجمان ہیں۔ وہ ہر طبقے کے مقبول اور پسندیدہ شاعر ہیں۔ ان خواتین، حضرات، نوجوان، انقلابی، منزل عشق کے راہرو اور آمریت کے رستے میں دیوار بننے والے سبھی شامل ہیں۔

احمد فراز کی شاعری کی خاص بات اردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے متصل رہ کر عہد جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگی ہے۔ وہ کچھ اچھوتا کہنے کے بجائے معروضی مسائل کو شعری پیرائے میں ڈھال دیتے ہیں۔ وہ ذاتی دکھ کو آفاقی بنا کر پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ صرف اردو شاعری کی روایت اور تہذیب کا مکمل ادراک نہیں رکھتے بلکہ فارسی ادب سے انسلاک کا ان کی شاعری پر اثر نمایاں ہے۔

رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد فراز

زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا غالب

احمد فراز انسان دوستی، امن عالم اور عدل و مساوات کے داعی ہیں۔ ان کا عہد نوجوانی فیض احمد فیض اور افتخار عارف جیسے لوگوں کی معیت میں گزرا۔ اسی لیے ان کی شاعری اور شخصیت پر ان رفاقتوں کے گہرے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں ۔

25 اگست 2008ء کو اردو ادب کا یہ درخشندہ ستارہ ڈوب گیا

۔۔۔۔۔۔ شعری انتخاب

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

قتلِ عشاق میں اب عذر ہے کیا بسم اللہ
سب گنہگار ہیں راضی بہ رضا بسم اللہ

پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں

وہی جانے پسِ پردہ جو تماشا گر ہے
کب، کہاں، کون سے کردار کو کیا بولنا ہے

نہ کوئی سمت نہ منزل سو قافلہ کیسا
رواں ہے بِھیڑ فقط بے قیاس لوگوں کی

میں آنے والے زمانوں سے ڈر رہا ہوں فرازؔ
کہ میں نے دیکھی ہیں آنکھیں اداس لوگوں کی

عشاق کے مانند کئی اِہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے۔

زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجئے
لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں۔

تُو کہ شمعِ شامِ فراق ہے دلِ نامراد سنبھل کے رو
یہ کسی کی بزمِ نشاط ہے یہاں قطرہ قطرہ پگھل کے رو

یہاں اور بھی ہیں گرفتہ دل کبھی اپنے جیسوں سے جا کے مِل
ترے دکھ سے کم نہیں جن کے دکھ کبھی اُن کی آگ میں جل کے رو

اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے

اجل سے خوف زدہ زیست سے ڈرے ہوئے لوگ
سو جی رہے ہیں مرے شہر میں مرے ہوئے لوگ

ظلمات کو موجِ نور کیسے سمجھیں
پھر برق کو طور کیسے سمجھیں
مانا کہ یہی مصلحت اندیشی ہے
ہم لوگ مگر حضور کیسے سمجھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محاصرہ

میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے
فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو

یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا ،مرے عدو کے لئے
کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پے دوھرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

۔۔۔۔۔

images 42images 43کلیات احمد فراز 2 0000

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481