اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

طویل کشمکش کے بعد پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

df330027 d7ac 4e49 90fc 767ef59491b3

طویل کشمکش اور رسہ کشی کے بعد وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ اسپیکر نے قرارداد پر رائے شماری کے بعد اعلان کیا کہ پرویزالٰہی 186 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں. دوسری طرف اپوزیشن مسلم لیگ نون اور اتحادی جماعتوں نےاعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع ہوتے ہی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، ملک محمد احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پرویز الہی کے پاس اعتماد کے ووٹ کے لیے ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہیراپھیری اور فراڈ کے ذریعے 186ارکان پورے کرنے کا دعوی کیا گیا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ ان کے پاس مطلوبہ ارکان کی تعداد پوری نہیں تھی۔

اب یہ معاملہ کل لاہور ہائیکورٹ  میں لے کر جائیں گے جہاں پہلے ہی اس کی سماعت جاری ہے۔ عدالت ہی یہ طے کرے گی کہ اعتماد کے ووٹ کے لیے اصل رائے شماری کس دن ہوگی۔ نواز لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے رولز کو بلڈوز کرکے نصف شب کے بعد اچانک اعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع کر دی حالانکہ اس سے پہلے ان کا موقف تھا کہ اعتماد کے ووٹ کیلئے گورنر پنجاب کا حکم ہی غیر آئینی ہے۔۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے سلسلے میں آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی اجلاس کی کی کارروائی آئین کے خلاف ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے، حکومت اور سپیکر  کی طرف سے جھوٹ بولا گیا، رات 12 بجے کے بعد دوسرا ایجنڈا جاری کیا گیا ، انہوں نے الیکش کے تقاضے پورے نہیں کیے ۔

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پرویز الٰہی نے ناراض ارکان کو حلف دیا تھا  کہ وہ اسمبلی نہیں توڑیں گے، اس لئے وہ ووٹ دینے پر تیار ہوئے۔

اس موقع پر ملک احمد خان نے کہا کہ ان لوگوں نے پنجاب اسمبلی  کےرولز کو بلڈوز کیا ارکان کی مطلوبہ تعداد ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتے، یہ پنجاب اسمبلی کی تاریخ کا بد ترین واقعہ ہے ۔

اعتماد کے ووٹ پر کارروائی کے دوران ذبردست ہنگامہ

وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کارروائی کے دوران پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی،  جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید  ہاتھا پائی اور تلخ کلامی ہوئی ، حکومت اور اپوزیشن  ارکان نے ایک دوسرے کو کرسیاں دے ماریں۔ اعتماد کے ووٹ کے لیے پہلا مرحلہ شروع ہوتے ہی زبردست ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کی جانب اچھال دیں۔
ہنگامہ آرائی کے دوران حکومت و اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے ۔ ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ اعتماد کا ووٹ شو آف ہینڈز کے ذریعے لیا جائے اوران کے  سامنے گنتی کی جائے۔ تاہم اسپیکر نےرولز آف بزنس کے تحت ارکان اسمبلی کو لابی میں جانے کے لیے کہا  جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کی گئی اور پرویز الٰہی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481