اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج قوم کے ہمدرد اور "ہمدرد” کو عالمی سطح کا ادارہ بنانے والےحکیم محمد سعید کا یومِ پیدائش ہے

images 39

حکیم محمد سعید 9 جنوری، 1920 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ دو برس کے تھے کہ شفقت پدری سے محروم ہو گئے۔ ادارہ ہمدرد ان کے والد گرامی نے بنایا تھا لیکن اسے آپ نے بام عروج تک پہنچایا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمدرد ایشیا میں اپنا نام اور مقام بنا چکا تھا۔ لیکن حکیم سعید جنوری 1948 میں پاکستان آ گئے۔

کراچی پہنچے تو زندگی اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ منتظر تھی۔ نئے ماحول، تہی دامانی اور ناشناسی کے عفریت منہ کھولے کھڑے تھے۔ لیکن حکیم سعید جیسے باحوصلہ اور تخلیقی ذہن کے حامل مرد قلندر نے ہار ماننا سیکھا ہی نہیں تھا۔  نہایت مشکل حالات میں بھی حکیم سعید اپنے بڑے خوابوں سے دست بردار ہونے کو تیار نہ ہوئے اور چھوٹی سی کرائے کی دکان اور کرائے کے فرنیچر سے کام کا آغاز کرتے ہوئے المجید سینٹر اور پھر ہمدرد فاؤنڈیشن تک کا ہوش ربا سفر طے کیا۔

جناب حکیم سعید ایک معالج، منتظم، ادیب، سیاست دان، ماہر تعلیم، سماجی کارکن، دانش ور اور مرد قلندر تھے۔ گورنر سندھ بنے تب بھی ان کے عجز اور سادگی کا وہی عالم تھا۔ سرکاری مراعات لینے سے معذرت کر لی۔

حکیم محمد سعید بچوں کو واقعی ملک و قوم کا مستقبل سمجھتے تھے۔ بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے ادب اطفال کو ناگزیر سمجھتے تھے۔  ان کی وژن ملاحظہ فرمائیں۔۔۔

"بچوں کو عظیم بنادو، پاکستان خود بہ خود بڑا بن جائے گا۔”  ادب اطفال میں "ہمدرد نونہال” کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ بچوں کے لیے خود بھی تاحیات ادب تخلیق کرتے رہے۔

حکیم سعید جیسے دانش ور کو احساس و ادراک تھا کہ علم، تفکر اور تحقیق کے بغیر قومیں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں۔ کراچی میں آج  "بیت الحکمت” میں عظیم الشان لائبریری کے علاوہ سکول، کالج، یونیورسٹی اور دیگر کئی ادارے فعال ہیں۔

"بزمِ ہمدرد نونہال”، "شامِ ہمدرد” اور ہمدرد نونہال اسمبلی جیسے پروگرام حکیم محمد سعید کے ذہن خلاق کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ اور ان کا نظریہ بھی ہم تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ بڑے لوگ شکوہ ظلمت شب کے بجائے اپنے حصے کی شمع جلانے کو اپنی ترجیح بناتے ہیں۔

حکیم محمد سعید کی ایک بہت بڑی ادبی خدمت ان کے سفر نامے ہیں۔ "جاپان کہانی” میں وہ نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ جاپانی لوگ مستعد ہیں۔ ان میں قوت برداشت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو اپنے طے شدہ مقصد کے لیے استعمال میں لاتے ہیں۔ ان کے جھنڈے پر سورج بنا ہوا ہے اسی لیے وہ سورج کی طرح ساری انسانیت کی خدمت کے لیے مساوات کے قائل ہیں۔ انھاں نے بلا کی ایجادات و اختراعات کی ہیں۔ اسی طرح ترکی، یوگوسلاویہ ، آسٹریا، سویٹزرلینڈ ، کوریا، روس، عمان وغیرہ کے سفر ناموں میں نہایت باریک جزیات کے ساتھ ان کے مشاہدات بیان ہوئے ہیں۔

جناب حکیم سعید کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی وجہ تحقیق، جستجو اور علم سے دوری ہے۔  ان کا ایقان تھا کہ علم سے بے رغبتی اور حکمت سے لاتعلقی نے مسلمانوں کو اپنے شان دار ماضی سے کاٹ کے رکھ دیا۔ وہ اپنے آباء کی سعی و جہد اور تخلیق و تحقیق کی روش اپنانے کے بجائے خبط عظمت کا شکار ہو کر "پدرم سلطان بود” کا راگ الاپ کر اپنی ناکامیوں سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں جناب حکیم سعید نے فرمایا تھا،

"میں ایسے حال میں فرشتہ موت کا استقبال کرنا چاہتا ہوں کہ میری نگاہوں کے سامنے ہمدرد اسکول اور الفرقان میں پانچ ہزار بچے تعلیم پارہے ہوں۔ ہمدرد یونیورسٹی امتیازات کے ساتھ ہزار ہا نوجوانوں کو انسانِ کامل بنارہی ہو۔ اور یہ جوان دنیا بھر میں پھیل کر آوازِ حق بلند کرنے کی تیاری کے لئے کمر بستہ ہوں”

17 اکتوبر 1998 کی ایک صبح حسب معمول اپنے مطب پہنچے۔  ملک دشمن اس ملک کے اس عظیم سپوت اور بے مثل مسیحا سے نالاں تو تھے ہی لیکن عالمی سامراج کے منصوبوں سے بھی واضح الفاظ میں پردہ اٹھاتے رہتے تھے۔ ابھی صبح نے پوری طرح کراچی کو روشن نہیں کیا تھا کہ اس ملک کے غداروں نے علم و حکمت کا یہ چراغ گولیوں کی بوچھاڑ سے بجھا دیا۔

بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

۔۔۔۔۔۔۔۔ (مظہر جان جاناں)

 

FaceApp 1660326089828 2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب مضمون

images 40


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481