دروازے پر اس قدر زور سے دستک ہوئی کہ دروازہ ٹوٹنے کو تھا۔۔۔
"ارے کون ہے؟ صبر کرو آتی ہوں۔۔”
حاجی افضل صاحب کی بیگم بولیں۔۔۔
"میں ہوں، جلدی دروازہ کھولو ۔۔”
دروازے کی دوسری طرف سے افضل صاحب غُرّاتے ہوئے بولے۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی افضل صاحب چِلاتے ہوئے بولے۔۔۔
"حد ہوتی ہے کوئی مہنگائی کی. ظالموں نے ساری حدیں پار کر دیں ہیں۔ آٹے کا تھیلا تین ہزار کا ہوگیا ہے۔ ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بیگم تم ہی بتاؤ۔۔۔ اب ان حالات میں صرف 60 ہزار پینشن میں ہمارا اور دونوں بچوں کا گزارا کیسے ہو گا؟”۔
"بالکل صحیح کہہ رہے آپ ، خدا غارت کرے ان ظالموں کو ۔۔۔حاجی صاحب کی بیگم بولیں۔۔”
حاجی صاحب جو مسجد کی کمیٹی کے چئرمین بھی تھے، جب عصر کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو اسلم صاحب مسجد کے بیرونی دروازے پر ان کے منتظر تھے۔
"آئیے حاجی صاحب آپ ہی کا انتظار تھا”
انھوں نے بانہیں پھیلاتے ہوئے کہا۔۔۔
"خیریت تو ہے نا اسلم صاحب! آج ہمارا اتنا انتظار کیوں؟”
حاجی صاحب نے استفسار کیا۔
"دراصل بات یہ ہے کہ کمیٹی کے دیگر تمام ممبران نے باہم مشورہ کیا ہے اور متفق ہیں کہ مسجد ہذا کے امام صاحب کی تنخواہ، جو گزشتہ تین سال سے دس ہزار روپے ہے، موجودہ مہنگائی کو دیکھتے ہوئے بڑھا کر بارہ ہزار روپے کردی جائے۔ ان کی بیگم بھی کافی بیمار ہیں اور پھر ان کے پانچ بچے بھی ہیں۔ ان حالات میں ان کے لیے اس تنخواہ میں گزارہ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہوگا”
حاجی صاحب اسلم صاحب کے بالکل قریب ہوئے اور راز دارانہ انداز میں کہا،۔۔۔۔۔
"ارے خدا کا خوف کریں اسلم صاحب۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے گزارا مشکل ہے گھر کا اور آپ امام صاحب کی تنخواہ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی رہنے دیں یہی تنخواہ۔ تین چار ماہ بعد دیکھ لیں گے”۔
حاجی افضل صاحب کے چہرے پر ناگواری اور غصے کا تاثر نمایاں تھا۔ وہ پہلی صف میں اپنے لیے مخصوص مصلے پر جا کر بیٹھ گئے۔

