اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بابا جی اور بابو لوگ ……. جمیل الرحمن عباسی

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8

قوم کی آنکھیں جل بھی رہی تھیں اور برس بھی رہی تھیں۔ انھوں نے بابا جی کو بھی دیکھا اور ان کے بالکے کو بھی، جلاوٹ قوم کی جوان آنکھوں میں اس نفرت کے سبب تھی جو بابا جی کے لیے پائی جاتی تھی ’’سکھ کا سانس بھی یہ لینے نہیں دیتا۔۔۔۔ عذاب۔۔۔ پکڑ۔۔۔۔ گرفت۔۔۔ جیسے خدا کو، کوئی اور کام ہی نہ ہو۔۔۔ ہو نہھ،،۔ تراوٹ عمر رسیدہ اور جہاں دیدہ ، دیدوں میں تھی اور اس کے سبب کئی تھے۔ بعض فرتوت جن کی بھنوؤں نے پلکوں کے ساتھ ساز باز کر کے ان کی آنکھوں پر اس قدر پردے کر دیے تھے کہ انھیں اپنے کرتوت نظر آتے تھے اور نہ قوم کے، یہ آنکھوں کو مزید سکوڑتے ہوئے کہتے’’ معصوم بچوں کی تمناؤں کا خون کر دیا اس بابے نے‘‘!۔بعض اَدھیڑ ، اپنی عمر بھر کے تجربے کو ادھیڑتے ہوئے، اپنی چشمِ کور پر چشمہ ٹھیک سے بٹھاتے ہوئے بابا کی باتوں کو بے پر کی قرار دیتے اور پھر وہ بابا کے بالکے پر نمناک نظر ڈالتے ہوئے ترس کھاتے ’’خود تو ہوا پر اس بے چارے لڑکے کو اس نے جوانی ہی میں مار دیا‘‘ ۔برستی آنکھوں والوں میں کچھ ’’دیکھتی آنکھوں‘‘ والے بھی تھے۔ یہ بابا کو دیکھتے کبھی حسرت کے ساتھ اور کبھی فخر کے ساتھ، فخر تو یہ کہ ’’یا رب ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی‘‘ اور حسرت یہ کہ’’تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم‘‘۔ یہ لا چاری کے مریض اور بے چارگی کی تصویر بنے، دین تو چھوڑیں دنیا کے لیے بھی حرکت سے معذور’’ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے‘‘!
بابا جی کو کسی بات سے غرض نہ تھی سوائے لوگوں کو حقیقت دکھانے کے ۔ لیکن جب آنکھیں بے نور ہوجائیں تو کوئی کیا کرے ۔ہاں کان ہونا چاہیے۔ پس وہ ان ’’کانوں‘‘ کے کان کھولنے کے لیے ’’بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سدا کی صدائے درد مند بلند کیے جاتے ہیں لیکن وہ ہیں کہ ’’ نِرے کان ‘‘ثابت ہو رہے ہیں۔ پس بابے کی ندا صدائے صحرا ثابت ہوتی جا رہی ہے لیکن بابے کو اس سے بھی کوئی غرض نہیں؛ وہ اپنی دھن میں کہے جاتا ہے:
منزل نہیں ہوں خضر نہیں راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے
کچھ بات بابے کی بابت کریں تو یہ بابا ایک فرد نہیں ایک قبیلہ ہے۔جسے ہم نے دکھایا یہ بابا خاندان کے ہزار بابوں میں سے ایک ہے۔ اس جیسے بہت سارے بابے ہیں۔ کچھ کم سالوں کے ہیں اور کچھ بہت سالوں کے لیکن ہیں سارے بابے کہ یہ ایک منصب ہے۔ ان کے اپنے اپنے علاقے اور اپنے اپنے شعبے ہیں۔ان کے اپنے اپنے چولے ہیں اور اپنے اپنے رولے ہیں۔ ان میں مکان و زمان دونوں کا اختلاف بھی ہے ۔ یہ اپنے اپنے ملکوں اور اپنے اپنے شہروں میں ہیں، یہ آج بھی ہیں اور سینکڑوں ہزاروں سال پہلے بھی تھے لیکن صدا،اِن کی سدا، ایک ہی رہتی ہے ’’بچو۔۔۔ بچو۔۔۔۔ بچو۔۔۔۔ اپنے بنانے والے کے خلاف سے بچو۔۔۔۔۔۔ بچو دنیا کے عذاب سے بچو ۔۔۔۔بچو بھوک کے عذاب سے بچو۔۔۔۔۔ بچو حسد، بخل ، نکمے پن اور کم ہمتی سے بچو۔۔۔۔ بچو ایک دوسرے کو کاٹ کھانے سے بچو اور بچو آخرت کے عذاب سے بچو ۔۔۔۔ بچو او میرے بچو ! بچو‘‘ لیکن سننے والے سن سن کر سن ہو گئے لیکن ٹس سے مس نہ ہوئے۔
تو ’’بابا لوگ‘‘ نے اس قوم غافل کو کیا کیا نہ جگایا، ایمان، ایمانداری، عبادت ، صداقت، شجاعت،ہمت ، محنت کیاکچھ نہ پڑھایا لیکن ’’بابو لوگ‘‘ ہیں کہ سمجھ کر نہیں دیے۔ بھنور میں پھنسے جہاز والی قوم جیسے یہ لوگ بے خبری اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں :
سبب یا علامت گر ان کو سجھائیں
تو تشخیص میں سو نکالیں خطائیں
یہ قوم بھی اُس کِشتی والے باباجی کی قوم کی طرح ہے۔ لاکھوں سلام ہوں ان بابا جی پر ڈرائے گئے لیکن نہ ڈرنے والوں کی اٹھکلیاں بھی ان کو کشتی بنانے سے روک نہ سکیں کہا تو اتنا کہ تم تمسخر کر لو عنقریب تمھارا تمسخر ہونے والا ہے۔ اسی طرح وہ بھی تھے جو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے جب ستمگر باز نہ آئے تو انھیں صبح کا وعدہ دیا اور کہا ’’کیا صبح قریب نہیں ہے‘‘؟ یا پھر وہ حضرت بھی تھے جنھوں نے بہتیرا سمجھانے کے بعد آ خری انجام دیکھ کر تاسف سے کہا ’’میں کیسے افسوس کروں اس قوم پر۔۔۔‘‘بابوں کی بتائی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں تو کیا کوئی ہے حرکت کرنے والا یا ہم پنجہ عفریت میں کسمساتے ہی رہیں گے:
جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
تو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گا
اس قوم کے ملک میں لوگ ’’گولی‘‘ کے آگے مرتے رہے لیکن اس کے کا نوں پر جوں تک نہ رینگی لیکن جوں ہی ایک آدمی ’’روٹی کے پیچھے‘‘ مرا ، ریڑھ کی ہڈی سے ایک سنسناہٹ پورے جسم میں دوڑ گئی۔گھسٹتے قدموں سے چل کر آٹے کے کنستر کے پاس پہنچے ، کچھ توقف کیا ، ڈھکن اٹھا کر اندر جھانکا اور سکھ کا طویل سانس لے کر کہا ’’ابھی تو دو دن کے لیے کافی ہے‘‘!!


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481