Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"زندگی کہانی خدا کی” ۔۔۔نامور لکھاری احمد اقبال کی اچھوتی تحریر

14a28032 8911 42e3 a337 cdffd104217e

پرانے وقتوں میں ایبٹ آباد تک کوئی موٹروے نہیں تھی اور پنڈی سے چلنے والی "پنڈی ہزارہ” والوں کی لمبے منہ اور نیچی چھت والی ہانپتی کانپتی دھواں دھار بس ڈھائی تین گھنٹے میں منزل پر پہنچاتی تھی ۔
میں آدھے راستے میں اترتا اور بیگ کندھے پر لٹکا کےاس سمت چل پڑتا جدھر ‘ بھلڑ توپ’ ایک گاوں تھا۔ دوسرا ‘بھلڑ جوگی’ اس سے کچھ آگے تھا۔ یہ شاید تین میل کا سفر ہوگا ۔۔کہیں ایک نالہ نما ندی بھی آتی تھی ۔میں جوتے اتار کے بہتے شفاف پانی میں پڑے چھوٹے بڑےچکنے گول پتھروں پر احتیاط سے قدم جما تا چالیس قدم کی چوڑائی کو طے کرتا اور پھر موزے جوتے پہن آگے چل پڑتا یہاں تک کہ بھلڑ توپ کے درختوں میں سے ایک مندر کے کلس کی نوک نظر آنے لگتی۔ متروک مندر کے سامنے پرانی کاہی لگی اینٹوں والے تالاب میں بارش کا گدلا پانی جمع رہتا اور اس میں کنارے کھڑے پیپل کے خزاں دیدہ پتے تیرتے رہتے۔
گاوں کی دو کمروں والی ڈسپنسری کو ایک دوست کے والد حبیب التواب اکیلے چلاتے تھے۔ وہ بس کوالیفاییڈ ڈسپنسر تھے اور "بیسک ہیلتھ یونٹ” کے بورڈ والی دسپنسری میں گردو نواح کے دس میل میں رہنے والوں کا علاج سالانہ ساڑھے تین سو روپے کے بجٹ میں کرتے تھے۔ اس خطیر رقم میں صرف یہ ہو سکتا تھا کہ مرض کچھ بھی ہو وہ ہر مریض کو پانی میں اسپرین اور لال رنگ والے مکسچر کی شیشی بھر دیں اور دعا کی مفت تلقین کریں چنانچہ دس میل کے دایرے سے دیہات کے ہانپتے کانپتے لواحقین ایک چارپای پر کوئی سانس لیتا ڈھانچہ لے کر آتے تھے اور وہی لال دوائی لے کر لوٹ جاتے تھے۔ گاوں کے پیش امام اور ماسٹر جیسے مریض علاج کراتے تو سال بھر عقیدت میں دیسی گھی اور انڈے سبزی اور گندم بھجواتا ۔ڈسپنسری سے ملحق کمرے میں مریضوں کیلیے جو بیڈ تھے اس پر میں اور دوست رات کو سوتے تھے۔ معمولی صورت والی ایک بے وقوف سی چودہ پندرہ سال کی لڑکی ہماری خدمت پر مامور رہتی اور ہم اسی کو چھیڑ کے دل پشاوری کرتے۔ ایک دن وہ نظر نہیں آئی تو ڈاکٹر صاحب نے بڑے دکھ سے بتایا کہ "بھیؑ اس کی شادی ہوگییؑ۔ رات ان کا کوئی دور کا عزیز منٹگمری سے آیا تھا اس نے سات سو نقد دیے اور شادی کر کے لے گیا ”
اتوار کی صبح ہم گھوڑوں اور شکاری کتوں کے ساتھ خرگوش پکڑتے۔۔ میں پیش امام صاحب کے گھوڑے پر ان کے پیچھے بیٹھتا تو لگتا کنکریٹ مکسر میں الٹا پلٹا جا رہا ہوں۔۔ دونوں طرف دور تک ہانکا کرنے والے جھاڑیوں کو ڈنڈیوں سے کھنگالتے۔ اچانک کسی جھاڑی سے خوفزدہ خرگوش نکل کے بھاگتا۔۔ پتلی کمر والےشکاری کتے اس کے پیچھے لگ جاتے۔ خرگوش اپنی برق رفتاری سے ایک دم چکمہ دے کر داییں باییں نکل جاتا مگر بالاخر پکڑا جاتا اور رات کو بھڑکتے شعلوں پر سیخوں میں پرویا نظر آتا۔ شام کو ہم پیش امام سکول ماسٹر ڈاک بابو کی ٹیم سے گلی ڈنڈے کا میچ بڑی شان سے ہارتے
ایک صبح میں اور حسیب سورج سے بھی پہلے وہ سرمئی پہاڑسر کرنے نکل گئے جو دو فرلانگ سے کم پرنظرآتے تھے مگرہم ان کی طرف بڑھے تو وہ دو میل اور پیچھے چلے گیے۔ پہاڑ ایسا ہی کرتے ہیں۔ سورج سر پر پہنچا تو ہم بالاخر ماونٹ ایورسٹ پر تھے بڑی حیرانی یہ دیکھ کر ہویؑ کہ اوپر چھ سات گھرہیں ۔ وہیں چند کھیت بھی تھے ۔ ایک گھر میں سے کوئی عورت نکلی پھرایک نوجوان لڑکا۔کچھ دیر ہم ایک دوسرے کو باڈر فورس کی طرح گھورتے رہے ۔ پھر حسیب نے کہا "میں ڈاکٹر صاحب کا بیٹا ہوں”
یکلخت سب بدل گیا۔ عورت ہمیں ایک نیم تاریک کچے کمرے میں لے گئی اور چارپائی پر بٹھادیا۔”نرجس۔۔ پتر دیکھ کون آیا ہے۔ چایؑے بنا” اس نے محبت سے کہا
چودہ برس کی ایک دبلی پتلی لڑکی اندر آگئی جس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ اس کو ٹی بی تھی اور شاید آخری سٹیج۔ ۔چایے بن کر آنے تک ماں ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی کہ اس کی بیٹی کیلیے ڈاکٹر صاحب سے کوئی خاص الخاص دوا لکھوا دیں۔ وہ بھلی چنگی ہو جاے تو جہیز تیار ہے۔وہ نر جس کو رخصت کرے۔ہم جلدی جلدی چایے پی کر اور جھوٹے وعدے کر کے بھاگے ۔ اس کا علاج سرکاری لال دوا نہیں تھی ۔ وہ سال بھر باقاعدگی سےٹی بی کی مخصوص دوا۔اچھی خوراک۔ انڈے مچھلی گوشت پھل سب کھاتی اور آرام کرتی تو ٹھیک ہو جاتی۔ مگر وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
یہ راج روگ تھا جو پرجا کے بھاگ میں لکھ دیا گیا تھا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تیس سال بعد میں ایبٹ آباد گیا جہاں میرے پرانے دوست اشرف جدون فیملی کا فارم ہاوس تھا۔ موقعہ نکال کے میں پھر بھلڑ توپ گیا کہ نرجس کی قبر پر فاتحہ ہی پڑھ آؤں ۔ دنیا بدل گئی تھی مگر ڈسپنسری میں سب کچھ وہی تھا ویسا ہی تھا بس ڈاکٹر حبیب التواب نہیں تھے۔ میں نے تعارف کے بعداپنی آمد کا مقصد بتایا تو نوجوان لیڈی ڈاکٹر نے مجھے کھانے کیلےؑ روک لیا” وہ آتے ہی ہونگے۔ ہری پور کے بنک میں مینیجر ہیں۔وہ اپنی باییک پر لے جاییں گے آپ کو”۔
بنک مینیجرایک جوشیلا نوجوان تھا۔ وہ مجھے باییک پر بٹھا کے اسی پہاڑ پر لے گیا۔ پگڈندی اب کچی سڑک جیسی ہو گیی تھی لیکن اوپر وہی گنے چنے گھر تھے۔ شک سے ہمیں دیکھنے والے ایک بوڑھے نے بالاخر انگلی کے اشارے سے بتایا کہ نرجس کا گھر پیچھے ہے۔ سامنے وہاں بھی مسجد بن گیی تھی۔باییک وہیں چھوڑ کے ہم مسجد کے پیچھے گیے تو میں نے وہ گھرپہچان لیا
کنڈی بجاتے ہی دونو پٹ کھل گئے اور فریم میں نرجس کی ماں آگیی۔ میں نے کوشش کر کے اسےپہچانا ۔حیرت انگیز طور پر اس کی عمر میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا تھا
"اپ وہی ۔۔نرجس کی ماں ہو نا” میں نے کہا
"نہیں”فریم میں ساکت کھڑی عورت نے میری بات کاٹ دی” میں نرجس ہوں۔ ماں کو مرے تو بیس برس ہوگیےؑ”


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481