اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔ عمران خان

ملکی حالات تباہی کی طرف جا رہے ہیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ انہیں گورنر پنجاب  سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا،ان پر قاتلانہ حملے میں تین شوٹر ملوث تھے،، پلان تھا کہ سلمان تاثیر جیسا کیس ہو اور کہا جائے کہ مذہبی انتہا پسند نے مجھے قتل کردیا، سب پتہ ہےکہ کس نے ویڈیو بنائی کہ عمران خان نے توہین مذہب کی، مریم نوازنے 17ستمبرکو  پریس کانفرنس کی، خواجہ آصف بھی پریس کانفرنس کرتا ہےجیسے اسے بھی دین کی بڑی پرواہ ہے، سرکاری ٹی وی پر  4 دن مہم چلائی جاتی ہے،

جمعرات کی شام  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کے حقائق سامنے لانا چاہتا ہوں، سب سے پہلے تو رجیم چینج کی سازش ہوئی، مجھےعلم ہے سازش میں کون کون ملوث تھا اور کیسے پیسہ چلایا گیا؟ مجھے معلوم ہے کیسے ایک آدمی نے حکومت گرانےکا فیصلہ کیا، ہمارے لوگوں کو  امریکی سفارت خانے میں بلا بلا کربات کی گئی، ہمارے لوگوں کو لوٹا بنایا گیا، پھر 10 اپریل کو پہلی بار لاکھوں لوگ امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پرآگئے۔عمران خان نے کہا کہ مجھ پرنا اہل کرانے کا بھی کیس ہے تاکہ کسی طرح مجھے ہٹایا جائے، قوم نے پیغام دیا ہےکہ ہمیں بھیڑ بکریاں نہ سمجھو ، عوام بتا رہے ہیں آپ نےغلطی کی ہے، لیکن مائنڈسیٹ تبدیل نہیں ہو رہا۔

عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ مجھے کچھ ہوتاہے تو میں نے چار افراد کے نام دےکر ویڈیو باہر بھجوادی ہے۔انہوں نے دعوٰی کیا کہ ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد مجھے مارنے کا دوسرا پلان بنایا گیا، مجھے ایجنسیز کے اندر سے پیغام آیا کہ سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنےکا پلان بنایا گیا ہے، بند کمروں میں چار افراد نےمنصوبہ بنایا کہ مجھے مذہبی بنیاد پر قتل کیاجائے، وزیرآباد میں نوید نے پستول سے فائرکیا،نوید تربیت یافتہ تھا، میں نے دو برسٹ سنےکہیں اور سے بھی گولیاں آئیں، معظم کو کہیں دور سے آکر گولی لگی، وہ گولی نوید کے لیے تھی مگر معظمکو لگ گئی۔ نوید کو مار کر کہا جانا تھا ایک ہی حملہ آور تھا جو مارا گیا، فارنزک رپورٹ کے مطابق ہمارے کسی گارڈ نےگولی نہیں چلائی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اپنی حکومت  ہونے کے باوجود میں ایف آئی آر درج نہيں کرواسکا،کون اتنی بڑی طاقت تھا جس نے ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی، مجھے معلوم ہےکس نے روکا؟ ، اسپتال پہنچنے سے پہلے  پولیس نے نوید کا ریکارڈڈ بیان ان صحافیوں کو دیا جو تحریک انصاف کے مخالف ہیں، ڈی پی او گجرات نے یہ بیان ریکارڈ کیا، نوید سے کہلویا گیا کہ وہ اکیلا تھا۔ اسپتال پہنچ کر میں نے بتا دیا تھا کہ کون تین لوگ ملوث ہیں، میں نے جب یہ نام لیے تو میرا حق ہے اس پر تفتیش ہونی چاہیے تھی، جےآئی ٹی نے ڈی پی او سے موبائل فون مانگا تو ڈی پی او نے فون دینے سے انکار کردیا،  سی ٹی ڈی کے افسرنے تعاون سے انکار کردیا، کون ان کو روک رہا تھا؟ ہمارے مخالف صحافیوں کے پاس ویڈیو کیسے پہنچ گئی، کس نے  اس کاحکم دیا تھا؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481