اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عوام کیلئے سستی سواری کیوں ؟بھارہ کہو مری شٹل بس سروس میں مقامی ٹرانسپورٹررکاوٹ بن گئے

2 5

مری کے مقامی ٹرانسپورٹر بھارہ کہو سے مری تک سستی بس سروس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ واضح رہے کہ اس لگژری بس سروس کا یکطرفہ کرایہ سو روپے فی مسافر رکھا گیا ہے جبکہ بچوں اور بزرگوں کے لیے مفت سروس فراہم کی گئی ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ اس سے ان کے کاروبار کو نقصان ہو رہا ہے لہذا وہ اس بس سروس کو نہیں چلنے دیں گے۔ ٹرانسپورٹرز کی ہٹ دھرمی کے باعث بس سروس میں عارضی تعطل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارہ کہو سے مری لاری اڈہ شٹل بس سروس کے آغاز پر ہی مقامی ٹرانسپورٹروں کی طرف سے مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی کس 100 روپے فی سواری سے مقامی پبلک ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہو گا انہوں نے اعلان کیاکہ ہم یہ بس سروس نہیں چلنے دیں گے ۔ اس صورتحال سے سی ڈی اے حکام بھی پریشان ہو گئے ہیں جبکہ جمعرات کو لاری اڈہ مری میں کئی گھنٹے بس کو روک کر رکھا گیا ۔ڈسٹرکٹ وتحصیل انتظامیہ کی طرف سے ٹرانسپورٹروں کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے حکام کی طرف سے مسائل حل ہونے تک شٹل بس سروس کو معطل رکھنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے ۔

دوسری طرف عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹرز عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ پنڈی مری کا کرایہ 200 روپے سے کم بنتا ہے جبکہ 250 روپے فی سواری وصول کیا جا رہا ہے اگر حکومت کی جانب سے سستی سواری کا انتظام کیا گیا ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے ٹرانسپورٹرز کو اس بس سروس سے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور بس سروس کو روکنے کاکوئی جواز نہیں بنتا۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481