اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نواز شریف نے مریم کو اگلی مدت کیلئے وزیر اعظم نامزد کر دیا ؟

000 QA7UQ

رپورٹ۔راشد عباسی

مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو پارٹی کی سینئر نائب صدارت کے ساتھ ساتھ چیف آرگنائزر کا عہدہ دے کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ ان کی طرف سے آئندہ الیکشن کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مریم نواز امیدوار ہوں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز جو گذشتہ چند ماہ سے لندن میں مقیم ہے اور انہوں نے خود کو پارٹی کی سیاست سے قدرے فاصلے پر رکھا ہوا ہے تاہم اب وہ پارٹی میں مضبوط پوزیشن ملنے کے بعد ایک بار پھر سیاسی میدان میں اتریں گی اور آئندہ الیکشن کے لیے میاں نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار کریں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے انہیں چیف آرگنائزر کا عہدہ اس لئے دیا ہے تاکہ وہ مسلم لیگ نون کو بالخصوص پنجاب اور بالعموم دیگر صوبوں میں از سر نو منظم کر سکیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ نون میں کل چار سینئر نائب صدور کام کر رہے تھے، جو چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں، تاہم عملی طور پر تمام بڑے فیصلے نواز شریف ہی کر رہے ہیں۔مریم نواز کے چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر بننے کے بعد اب عملا” پارٹی کمان ان کے حوالے کر دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سامنے بند باندھنا اور نواز لیگ کو پنجاب میں دوبارہ پہلے والا مقام دلانا مریم نواز کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔ اس کیلئے جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کی جارحانہ سیاست بیک وقت برپا کرنا ہو گی اور مریم نواز ان دونوں میدانوں میں اپنی اہلیت ثابت کر چکی ہیں۔

amaryam

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مریم نواز اپنے والد سمیت پارٹی کے کئی سینیئر رہنمائوں کے اس گروپ کی قیادت کر رہی ہیں جو جارحانہ سیاست کا حامی ہے ۔جبکہ اس کے برعکس وزیراعظم شہباز شریف جو پارٹی صدر بھی ہیں ، وہ اور ان کا ہم خیال گروپ مفاہمانہ طرز سیاست اور عملیت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ اول الذکر گروپ میں خود میاں نواز شریف اور مریم نواز کے علاوہ شاہد خاقان عباسی ، میاں جاوید لطیف ،رانا ثناء اللہ ،خرم دستگیر ، خواجہ سعد رفیق ، طلال چوہدری اور کئی دیگر رہنما شامل ہیں جبکہ شہباز شریف کے ہم خیال رہنماؤں میں مریم اورنگزیب ، خواجہ آصف ، رانا تنویر ، ملک احمد خان ، احسن اقبال اور دیگر رہنماؤں کے نام لئے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ری آرگنائز کرنے کے معاملے میں مریم نواز کو آخرالذکر گروپ کی طرف سے بھی چیلنج درپیش ہوگا کیوں کہ اس گروپ کے لوگ بھی اہم عہدوں پر آنے کی کوشش کریں گے۔ ایسی صورت میں حمزہ شہباز شریف کی سفارشات کو قبول یا رد کرنا نا مریم نواز کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ازسر نو منظم کرنے کے بعد ٹکٹوں کی تقسیم اور الیکشن مہم کا مرحلہ آئے گا اس میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا بطور چیف آرگنائزر مریم نواز کیلئے اہم چیلنج ہوگا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481