اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”ہے جرم غریبی کی سزا مرگ مفادات“

imf praises pakistan for meeting performance criteria 1581734658 6770 1

جمیل الرحمٰن عباسی

حضرت علامہ اقبال نے جو اشعار مرحومہ ”جمیعت اقوام“ کے لیے کہے تھے اور کچھ عرصہ بعد وہ مر بھی گئی تھی وہ پاکستانی معیشت پر بھی صادق آتے ہیں:
بے چاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے
ڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل جائے
تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے ولیکن
پیران کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل جائے

ملک کے کرتا دھرتا طبقے کی تقدیر ٹل جانے کی دعا کے باوجود خاکم بہ دہن  اب لگتا ہے کہ ہونی ہو کر رہے گی۔ جس طرح پاکستانی حکومتوں کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا اسی طرح ہمیں بھی اقبال کے حضور پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، چناں چہ علامہ ہمیں بتاتے ہیں:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سز ا مرگ مُفاجات
اگر اقبال آج زندہ ہوتے او ”الٹی ر عمرانی چھلانگیں“ دیکھنی کے بعد انھوں نے شہبازکی کرگسی پروازیں دیکھی ہوتںں توشاید دوسرا مصرعہ یوں ارشاد فرماتے”ہے جرم غریبی کی سزا مرگ مفادات“
تو پاکستانی قوم کے مفادات گئے بھاڑ میں اسے آئے دن یہ واویلا سننا پڑتا ہے ”آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں“”سخت فیصلے کرنے ہوں گے“ ”گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی“” ”شرح سود بڑھانا پڑے گی“ ََ
ہماری معیشت کا دم جو لبوں پر ہے تو یہ مغرب کے معاشی نظام جسے حقیقت کے اعتبار سے ”بد معاشی نظام“ کہنا چاہیے کی پیروی کے سبب ہے۔ مغرب کی اقتصادی دہشت گردی کو سمجھنے کے لیے ہمیں پھر اقبال کے حضور جانا پڑے گا جب وہ لینن کا مقدمہ خدا کے حضور پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کے عمارات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا ہے لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہم مغرب کو کیا کہیں کہ بقول سلیم احمد صاحب ”مغرب تو مغرب ہے“ وہاں تو سورج بھی جائے تو ڈوب جاتا ہے۔ وہ اندھیر نگری، فیضان سماوی، ہدایت آسمانی اور وحی ربانی سے تو محروم ہے ہی
لیکن مشرق کے حالات بتاتے ہیں اس کی بدحالی فیضان سماوی، ہدایت ربانی اور تعلیم پیغمبری سے روگردانی اور بے اعتنائی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم میں اتباعِ محمدی کی کچھ بھی رمق ہوتی تو ہم مغربی قرضوں کی دلدل میں یوں نہ پھنستے کہ ہمارے نبی ﷺ تو اپنی دعاؤں سے ہمیں قرض سے بچنے کی تعلیم دیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ”اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض اور گناہ سے“مَأْثَم کا عام ترجمہ تو گناہ کا کام کیا جاتا ہے لیکن اس سے وہ امر بھی مراد ہو سکتا ہے جو کسی گناہ کا ذریعہ بنتا ہو۔”مَغْرَم“ اس قرضے کو کہتے ہیں جس کا لینا شریعت کی نظر میں نا پسندیدہ ہو یعنی ایسا قرض جو غیر ضروری ہو یا وہ قرض جس کی واپسی کی سکت نہ ہو۔

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8صاحب مضمون

قرضِ مغرم کو گناہ کے ساتھ ذکر کرنے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا تو پوچھا ”یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ آپ قرض سے اکثر پناہ مانگتے رہتے ہیں فرمایا:إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ”بے شک بندہ جب قرض کے زیربار ہو جاتا ہے تو جھوٹ بھی بولتا ہے اور وعدہ کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے“۔ تو گناہ کے ساتھ قرض کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ گناہ کا ذریعہ بنتا ہے۔ انفرادی سطح پر تو اس گناہ کی دو مثالوں کا حدیث میں ذکر ہو گیا،ان دونوں اور اس جیسے دوسرے گناہوں کا ارتکاب ”ریاستی سطح“ پر بھی کرنا پڑتا ہے کہ اگر ریاست قرض کے بوجھ تلے دبی ہو۔ الیکشن کے وقت بجلی،تیل اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں کم کرنے کے وعدے ہوتے ہیں لیکن جب حکومت میں آنے کے بعد ”عالمی ساہوکاروں“ کی قسط دینے کا وقت آتا ہے اوراس قسط کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے تب انتخابی وعدوں کو پس پشت ڈال کر آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں۔ یہ وہ جرم غریبی ہے جس کی سزا کے طور پر ہم اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں ہیں ،ہمیں اپنے مفادات کے بجائے عالمی اداروں کے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔

آئے دن ہم سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا ہر شہری اتنے اتنے ڈالر کا مقروض ہے۔ حالاں کہ ڈالر توکیا عوام بے چاروں کو تو پھوٹی کوڑی تک نہیں دی گئی اور قرضے تو اہل اقتدار نے ہڑپ کیے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضے نہ ہم واپس کر سکے نہ وہ ہماری معیشت کو سہارا دے سکے بلکہ وہ ”خود بھی ڈوبے اور ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبے“ اس کی حقیقی وجہ تو یہ ہے کہ یہ قرضے سود پر مبنی ہیں جن کی ہلاکت گویا پہلے ہی سے طے ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ وہ سود کو گھٹائے گا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا الرِّبَا وَإِنْ کَثُرَ، فَإِنَّ عَاقِبَتَہُ تَصِیرُ إِلَی قُلّ ٍ (مسند احمد)”سود کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اس کا آخری انجام قلت ہی ہے“۔ یہ تو ہوئی حقیقی وجہ اب دیگر مادی وجوہات کی طرف آئیں توان میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرض کا آٹا نہیں کھایا بلکہ قرض کی مے پی ہے۔ یعنی ہم نے غیر ترقیاتی اور غیر پیداواری میدانوں میں روپیہ خرچ کیا۔ صنعت و زراعت جو ہمارے آمدن کے حقیقی ذریعے تھے انھیں ہم ترقی نہ دے سکے۔ نتیجے کے طور پر ہماری برآمدات میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ بطور مثال ہم صرف دو چیزوں کا ذکر کرتے ہیں دونوں مٹی سے نکلنے والی ہیں گندم اور لکڑی۔
ہم ہزاروں کنٹینر لکڑی اور لاکھوں ٹن گندم سالانہ باہر سے درآمد کر رہے ہیں۔ہم اہم مصنوعات اور پیداواروں کی بات نہیں کر رہے، ادرک، لہسن، کینولا، سویابین وغیرہ جیسی عام اشیاء جو کسی فیکٹری میں نہیں کھیت میں اُگتی ہیں ہم دوسروں ملکوں سے منگوا رہے ہیں۔زراعت اور صنعت میں ترقی نہ کر کے گویا ہم اپنے فقر اور اپنی غربت پر راضی ہیں جو دیگر مشکلات کے ساتھ ہماری ملی و قومی ذلت کا باعث بن رہی ہے،دیکھیں رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں سے کیسے پناہ مانگی:اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ (سنن ابی داؤد)”اے اللہ میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ اس فقر نے ہمیں کفر عملی تک تو پہنچا دیا۔اللہ کے نبی ﷺ کی دعائیں دیکھیں اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ (سنن ابی داؤد) ”اے اللہ میں کفر سے اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ یا پھر وہ فرمان نبی دیکھیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُونَ کُفْرًا (مشکاۃ) ”قریب ہے کہ غربت کفر تک پہنچا دے“۔اب حکومت کا حال تو بدحال ہے فی الوقت ان سے اصلاح کی امید کم ہی کی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ چند چیزیں اگر سب سے پہلے میں اور پھر ہم سب کرنا شروع کردیں تو بہتری لائی جا سکتی ہے۔سب سے پہلے تو محنت کو اپنا شعار بنائیں۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی لائیں۔ کھانے، پہننے اور استعمال کی وہ چیزیں جو بیرون ملک سے آتی ہیں ان کا استعمال ترک کر دیں اور خود کچھ نہ کچھ بنانا یا اُگانا شروع کر دیں ہر وہ چھوٹی سی چیز ہماری ترقی کی ضامن ہے جو یا تو ہماری بر آمدات میں اضافہ کرے یا ہماری در آمدات میں کمی کرے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481