نامور صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے حالات حاضرہ پر اپنے تازہ ترین تجزیے میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اور بطور جماعت مسلم لیگ نون شدید پریشانی، پچھتاوے اور الجھن کا شکار ہے کیوںکہ کسی طرح حالات ان کے کنٹرول میں نہیں آ رہے ۔ مہنگائی اور معاشی بدحالی بڑھتی جا رہی ہے۔ عمران خان کی طرف سے الیکشن کرانے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ مسلم لیگ ن الیکشن کرانے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ اس خوف کا شکار ہے کہ انتخابات کی صورت میں اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور مسلم لیگ ن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی.

انصار عباسی کے مطابق نواز لیگ کی صفوں میں اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ مارچ 2022 میں عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کرنا درست فیصلہ نہیں تھا کیونکہ سابقہ حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ بھی اب نواز لیگ کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت ڈیلیور نہیں کر پا رہی ، مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی اور عوام کو سہولیات پہنچانے اور اپنی مقبولیت بڑھانے کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس عمران خان کے بیانیے کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور جلد انتخابات کی صورت میں مسلم لیگ ن کو اپنی ناکامی دکھائی دے رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نہ تو وہ بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتے ہیں اور نہ پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن کے لئے تیار ہیں۔اگرچہ بظاہر وہ دعوے کر رہے ہیں کہ وہ انتخابات کے لئے تیار ہے مگر اس کے برعکس مسلم لیگ نون اور اتحادوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح انتخابات مقررہ مدت سے بھی ایک آدھ سال آگے بڑھ جائیں تاکہ اس دوران انہیں کچھ نہ کچھ کردکھانے کا موقع مل جائے اور آئندہ الیکشن میں وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر سکیں۔

انصار عباسی نے اپنے تجزیہ میں اس بات کو دہرایا کہ مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف ابتدا ہی سے عمران حکومت کو گرا کر اقتدار میں آنے کے حق میں نہیں تھے ان کا خیال تھا کہ حکومت کو اپنے وزن سے گزرنا چاہیے مگر حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ مسلم لیگ نون کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ نئے بندوبست کے تحت اگلے دس برس تک وہ اقتدار میں نہیں آ سکے گی ، چنانچہ نوازشریف کو بھی تحریک عدم اعتماد کے لئے بادل ناخواستہ راضی ہونا پڑا۔

شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان آصف علی زرداری نے نواز شریف کو آمادہ کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا کیونکہ شہباز شریف وزیراعظم بننے کے لیے بے تاب تھے اور ان کا خیال تھا کہ اقتدار میں آکر وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے ۔ انصار عباسی کے مطابق یہ بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں تحریک عدم اعتماد اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی اور خود نوازشریف کو بھی اس بات کا اندازہ تھا مگر اس کے باوجود وہ عمران خان کی حکومت کو گرانے پر آمادہ ہوگئے اور اب مسلم لیگ نون کی قیادت پچھتاوے کا شکار ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت انتہائی غیر مقبول ہیں اور ان کی حکومت جانے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے چند بڑے اقدامات کے نتیجے میں مسلم لیگ نون دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے مگر اس کے برعکس صورت حال سامنے آئی ہے اور اب حکمران جماعت کی صفوں میں شدید مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔دوسری طرف عمران خان حکومت جانے کے بعد اپنے بیانیے کی بنیاد پر اپنی مقبولیت میں اضافہ کرتے چلے گئے جس کا توڑ کرنا حکومت یا پی ٹی ایم کے بس میں نظر نہیں آتا۔

