اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وہ اور میں …. مطیع الرحمن عباسی

305271490 414654380813142 6852754542985561690 n

 

2013/07/26      لاہور

”مجھے افسوس ہے لیکن تجھے مارنا پڑے گا“۔

”نہیں نہیں میں مرنا نہیں چاہتا“۔

”لیکن یہ ضرورتا ” ہو رہا ہے“۔

”کچھ بھی ہو لیکن میں یہ نہیں چاہتا“۔

”دیکھو ضد نہ کرو اس دنیا نے تمہیں کیا کیا دیا ہے“۔

”ہاں!! میں نے لیا بہت ہے۔۔۔ دیا بہت کم ہے،میں نے خوبصورتی کو دیکھا ہے۔۔۔۔ قبولا ہے۔۔۔۔ چکھا ہے،،

”یہ تو ہے لیکن تمہارا مزید زندہ رہنا اتنا ضروری نہیں جتنا مرنا،اگر تم جیتے رہے تو کہانی کا کیا ہو گا“

”کہانی کا کچھ بھی ہو لیکن مجھے مرنا پسند نہیں“

”کیا دنیا میں سب کچھ تمہاری پسند سے ہو رہا ہے“؟

”میں سب کچھ پہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ بس کچھ نہ کچھ“

”اور کچھ نہ کچھ میں  زندگی بھی؟  ہاں!“

”ہاں ہاں“

”اور یہی تو ہے سب کچھ“

”دیکھو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔“

”اگر تم زندہ رہے تو کہانی۔۔۔۔۔۔؟“

”کہانی—– کہانی کو جانے دو“

”کہانی کو جانے دیا جا سکتا ہے لیکن کہانی جانے نہیں دیتی“

”وہ کیسے“؟

”کہانی ازل سے ہے۔۔۔ابد تک رہے گی، کہانی ’نا‘سے شروع ہوئی تھی ’ہاں‘پہ ختم ہو گی،’ضد‘سے شروع ہوئی تھی ’مان‘جانے پر ختم ہو گی، کہانی جھوٹ سے شروع ہوئی تھی سچ پہ ختم ہو گی۔۔۔۔۔۔۔ کہانی بیچ میں نہیں چھوڑی جا سکتی لہٰذا تمہیں مارنا ہو گا اور تجھے ماننا ہو گا“

”نہیں نہیں۔۔۔ یہ اچھا نہیں!!  میں نے قدم قدم تمہارا ساتھ دیا ہے،لیکن میں مرنا نہیں چاہتا۔۔۔ تم مجھے مار نہیں سکتے۔۔۔ تم ایسا نہیں کر سکتے،آخرقدم قدم ساتھ چلنے کی بھی حد ہوتی ہے“

”حد یا  ضرورت؟“

”یہ تو  غرضی ہے“

”بعض باتیں مصنف کی مرضی پہ چھوڑنا پڑتی ہیں“

”کیوں؟“

”اس لیے کہ اس نے پوری کہانی دیکھنی ہوتی ہے“

”کیا کہانی بہت ضروری ہے؟“

”ہاں! کہانی ہے تو ہم ہیں، نہیں تو ہم نہیں، ہمیں اپنا ہونا عزیز ہے، اسی لیے تم انکار کر رہے ہو ۔ دراصل ہمیں سٹیج خود سے خالی اچھا نہیں لگتا“

”لیکن مصنف کو کون سی اتنی شدید مجبوری ہے کہ وہ مجھے مارنا چاہتا ہے“

”مصنف یہ بتانے کا پابند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اور کردار اتنا بڑھ چڑھ کر بول نہیں سکتا ۔۔لاؤ۔۔۔۔ میری عزیز ترین ہستی تمہی تو ہو،”

تاریخ میں اس سے پہلے بھی ایسے مواقع آتے رہے ہیں۔  عزیز ترین چیز ہی قربانی کی جاتی ہے اور یہ نہ سمجھو کہ تم مجھے عزیز نہیں ہو

"تم میری جان ہو، میرے کردار ہو،میں نے اپنے خون سے تم کو سینچا ہے۔لیکن کیا کروں تمہیں پتا نہیں میرے بچے! کہ کہانی لکھی نہیں جاتی،کہانی خود کو لکھواتی ہے، اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی۔۔۔۔۔۔اور زبردستی تو کہانی بھی نہیں کرتی ۔۔بس چلتے چلتے جو مناسب ہوتا وہ ہوتا رہتا ہے اور اس وقت سب سے مناسب یہی ہے ۔۔لاؤ اچھے بچوں کی طرح مان جاؤ۔مان جانے میں بڑی شانتی ہے، آشتی ہے، مان جانا ہی بڑا کام ہے،غار میں پڑے سوچ بچار میں مگن شخص نے بھی مان لیا تھا۔کیا پڑی تھی اسے جان جوکھم میں ڈالتا۔۔۔لیکن کہنے والے نے کہا تو اس نے فورا مان لیا، پھر ماننے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔۔۔۔تو ہم نے ماننا ہے اور ماننے والوں میں ہونا ہے۔ لاؤ۔۔۔ لاؤ تو کیا تم مجھ سے الگ جانتے ہو خود کو۔۔۔۔ لاؤ۔۔۔ لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

ہوش آنے پر میں ہسپتال میں تھا۔میری نظر اسی ڈاکٹر پر پڑی جس کو پچھلی بار میں نے دیکھتے ہی کہا تھا ”ڈاکٹر تو زندگی ہے“ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے اشارے سے منع کر دیا۔۔۔ میری گردن سے خون رس رہا تھا۔!!

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481