اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج معروف شاعر و دانشور شہزاد اظہر کا جنم دن ہے

Screenshot 20221225 121322 1

آج معروف شاعر اور دانش ور شہزاد اظہر کا جنم دن ہے۔ شہزاد اظہر غزل اور نظم دونوں کا صاحب اسلوب شاعر ہے۔ وہ فیشن کے طور پر شاعری نہیں کرتا بلکہ وہ خون جگر سے مصرعے کشید کرتا ہے۔ اس کی غزل ہو یا نظم کہیں بھی کوئی بھرتی کا لفظ یا مصرعہ نظر نہیں آتا۔ اس کے مصرعے اعلان کرتے ہیں کہ کس دماغ سوزی اور ریاضت سے انھیں ہیروں کی طرح تراشا گیا ہے۔

افسوس ادب کی جواں نسل تفکر و تدبر اور جگر سوزی کے بجائے شارٹ کٹ اور مارکیٹنگ کے ذریعے بڑے تخلیق کار بننے کے لیے دن رات ایک کر رہی ہے۔

شہزاد اظہر کی ایک غزل آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر

یہ گلابی سی سجل ایڑیاں دھر کاغذ پر
اے مرے حرفِ ہنر روشنی کر کاغذ پر

اے خیال ِ تروتازہ مری سانسوں میں دھڑک
اے پری زاد کسی لمحے اُتر کاغذ پر

میر صاحب کی زمیں اور بھی زندہ ہو جائے
یہ دھڑکتا ہُوا دل آئے اگر کاغذ پر

دل و قرطاس تری رہ میں پڑے ہیں دونوں
اک قدم دل پہ مگر دوسرا دھر کاغذ پر

میں یہاں دل سے گرہ گیر ہوں دیکھا تم نے
میں نے اک عمر میاں کی ہے بسر کاغذ پر

یہ تری اپنی ہی اقلیم ہے جس رنگ میں کھِل
لفظ ہے تُو، تجھے کس بات کا ڈر کاغذ پر

یہ مرے اشکِ ریاضت کا ثمر ہے شہزاد
چمک اُٹھتا ہوں اگر آئنہ بھر کاغذ پر

 

Picsart 22 12 25 12 16 55 972


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481